160

احساسِ کمتری کا مریض معاشرہ-تحریر: تحریر: رخسانہ سحر

یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ہمارے ملک کو بے شمار مسائل نے گھیر رکھا ہے—معاشی بدحالی، سیاسی عدم استحکام، تعلیم و صحت کے شعبوں میں زوال، ادارہ جاتی بگاڑ، بدعنوانی اور دیگر معاشرتی برائیاں۔ لیکن ان سب مسائل کے ساتھ ساتھ ایک ایسا زہریلا مسئلہ بھی ہمارے معاشرے کی جڑوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے جس کا تعلق ہمارے ظاہری نظام سے نہیں بلکہ ہمارے سوچنے کے انداز سے ہے—اور وہ ہے احساسِ کمتری۔

ہم ایک ایسی قوم میں تبدیل ہو چکے ہیں جسے اپنی خوبیوں پر اعتبار نہیں، اپنی تاریخ پر فخر نہیں، اور اپنی اقدار پر اعتماد نہیں۔ ہم نہ صرف مغرب کو ہر میدان میں اپنے سے بہتر سمجھتے ہیں بلکہ اپنی شناخت کو کمتر اور پسماندہ خیال کرتے ہیں۔ یہ احساسِ کمتری اتنا گہرا ہو چکا ہے کہ ہم اپنی ہی کھوچڑی کرنے کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں۔ جیسے ہی کسی مقامی شخصیت کو بین الاقوامی سطح پر سراہا جاتا ہے، ہم فورا اس کی غلطیاں ڈھونڈنے نکل پڑتے ہیں۔ کوئی کچھ اچھا کر لے، ہم فوراً اس کے ماضی کا کچرا کھودنے لگتے ہیں۔
یہ رویہ صرف افراد تک محدود نہیں رہا، بلکہ ہم بحیثیت قوم بھی اسی بیماری میں مبتلا ہیں۔ ہمیں اپنے نظامِ تعلیم پر یقین نہیں، اپنے سائنس دانوں پر اعتماد نہیں، اپنی ثقافت پر فخر نہیں۔ ہم ہر چیز کو مغرب کی آنکھ سے دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ چاہے لباس ہو یا زبان، نظریات ہوں یا اقدار، ہم سب کچھ “مغربی معیار” پر پرکھتے ہیں۔
یہ احساسِ کمتری ہمیں نہ صرف ذہنی طور پر غلام بناتا ہے، بلکہ خود اعتمادی کی ایسی کمی پیدا کرتا ہے جس کا نتیجہ ہمیشہ دوسروں کی برتری کو تسلیم کرنے اور خود کو کمتر سمجھنے کی صورت میں نکلتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر ہم کب اپنے آپ پر یقین کرنا سیکھیں گے؟

ہماری تاریخ روشن ہے، ہمارے اندر بے پناہ صلاحیتیں ہیں۔ ہم نے عالمی سطح کے سائنس دان، ادیب، فنکار، اور ماہرین پیدا کیے ہیں۔ ہمارے ملک میں بے مثال قدرتی وسائل موجود ہیں، باصلاحیت نوجوان موجود ہیں، لیکن افسوس کہ ہمیں ان پر بھروسہ نہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے ذہنی زنجیروں کو توڑیں۔
ہمیں اپنی تعلیم کو مغربی نقل سے نکال کر تحقیق، تخلیق اور تنقید کے جذبے سے جوڑنا ہوگا۔

ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ وہ “دوسروں کی تعریف کے منتظر” نہ رہیں بلکہ اپنے اندر موجود صلاحیت کو پہچانیں۔
ہمیں اجتماعی خود اعتمادی کو فروغ دینا ہوگا، تاکہ ہم تنقید برائے تنقید کے بجائے تنقید برائے اصلاح کو اپنائیں۔

جو قوم خود کو کمتر سمجھتی ہے، وہ کبھی بھی دنیا میں عزت و وقار کی جگہ نہیں بنا سکتی۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم خود پر یقین کرنا سیکھیں، اپنی خوبیوں کو تسلیم کریں اور احساسِ کمتری کی بیماری سے نجات حاصل کریں۔

ہمارے معاشرے میں ایک شدید احساسِ کمتری پایا جاتا ہے، جو نہ صرف ہماری انفرادی شخصیت کو متاثر کرتا ہے بلکہ قومی سطح پر بھی ہمیں کمزور بناتا ہے۔ ہم دوسروں کے طرزِ زندگی، ترقی، نظام، اور ثقافت کو اس قدر مثالی سمجھنے لگتے ہیں کہ اپنی شناخت، اپنی خوبیوں، اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد ہی ختم ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ:

ہم تنقید برائے اصلاح نہیں بلکہ تنقید برائے تنقید کرنے لگتے ہیں۔

خود اعتمادی کے بجائے خود ترسی ہمارا مزاج بن جاتی ہے۔

اپنی ناکامیوں کا الزام بھی دوسروں پر ڈال کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔
“ہم اپنی ہی کھوچڑی کرنے کے انتظار میں ہر وقت لگے رہتے ہیں” ہم خود ہی موقع ڈھونڈتے ہیں کہ کب اپنے ہی ہم وطنوں کو نیچا دکھایا جائے، کب کسی کی چھوٹی سی غلطی کو بڑھا کر پیش کیا جائے، یا کب کسی کی کامیابی میں خامیاں نکال کر دل کی تسکین حاصل کی جائے۔

حل کیا ہے؟
ہمیں خود آگاہی (Self-awareness) کی طرف جانا ہوگا۔
تعمیری تنقید اور اجتماعی شعور کو فروغ دینا ہوگا۔
تعلیم، تحقیق اور خود انحصاری کو اولیت دینی ہوگی۔
سب سے بڑھ کر، اپنی شناخت، زبان، ثقافت اور مذہب پر فخر کرنا سیکھنا ہوگا — بغیر تعصب کے، دلیل اور بصیرت کے ساتھ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں