19

افغانستان کی پوری صورتحال کے ضامن نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز پاکستان (ڈی جی آئی ایس پی آر) میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں امن عمل کے لیے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی، ہم پوری صورتحال کے ضامن نہیں۔

میڈیا سے گفتگو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خطے کی صورتحال پر گہری نظر ہے، افغان امن عمل کی کامیابی کے لیے اپنا کردار سنجیدگی سے ادا کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان کا امن جڑا ہوا ہے، پوری صورتحال کے ہم ضامن نہیں، آخر کار فیصلہ افغانوں کو ہی کرنا ہے کہ کیسے بڑھنا ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار نے مزید کہا کہ پر امن افغانستان میں بھی سب سے زیادہ اسٹیک پاکستان کا ہے، افغانستان کی صورتحال سے دہشت گردوں کے سلیپر سیل دوبارہ اٹھنے کا خدشہ ہے ۔

اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی طویل اور صبر آزما جنگ لڑی اور بے مثال کامیابیاں حاصل کیں، ہم نے جنرل قمر جاوید باجوہ کے وژن کے مطابق بہت موثر اقدامات کیے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہا کہ افغان بارڈر پر غیر قانونی کراسنگ پوائنٹ سیل کردیئے ہیں، نوٹیفائیڈ پوائنٹس پر ریگولر دستے بڑھانے شروع کردیئے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پر امن افغانستان میں بھی سب سے زیادہ اسٹیک پاکستان کا ہے، حال ہی میں ہوئے واقعات کا دوسری طرف کی صورتحال سے تعلق بنتا ہے۔

میجر جنرل بابرافتخار نے کہا کہ پاکستان میں آپریشنز کے باعث منظم دہشت گرد اسٹرکچر نہیں ہے، ان تمام نیٹ ورکس کی لیڈر شپ افغانستان میں بیٹھی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ ان نیٹ ورکس کی لیڈرشپ کو ’را‘ اور ’این ڈی ایس‘ کی سپورٹ حاصل رہی ہے، حالیہ واقعات ان کی مایوسی ظاہر کررہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے 150 چھوٹے بڑے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ قبائلی اضلاع اور بلوچستان میں 7500 آپریشن کیے، ان آپریشنز میں اب تک 42 دہشت گردوں کو ماراجا چکاہے، ہمارے اپنے کئی جوان اور آفیسر شہید و زخمی ہوئے۔

میجر جنرل بابرافتخار نے کہا کہ افواج پاکستان ملک دشمن عناصر کی مکمل سرکوبی کے لیے ہر وقت تیار ہیں، امن اور ترقی کے دشمنوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ جارحانہ انداز میں کارروائی جاری ہے، دہشت گرد فرار ہورہے ہیں، ہمارے آفیسرز تمام آپریشنز کو لیڈ کررہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پچھلے 20 برس میں قوم کی سپورٹ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اربوں ڈالر نقصان ہوچکا، ہم نے دہشت گردوں سے 46 ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ پاک کیا۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پورے پاکستان میں نوگو ایریاز ختم کیے، 18ہزار دہشت گرد مارے گئے، آج پاکستان میں دہشت گردی کا کوئی منظم اسٹرکچر موجود نہیں۔

ان کاکہنا تھا کہ رد الفساد کا وژن تھا، طاقت کا استعمال صرف ریاست کا استحقاق ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مختلف ملکوں اور اداروں نے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہماری طرف کی باڑ افغانستان کے لیے بھی فائدے مند ہے، آرمی چیف نے افغان باڑ کو امن کی باڑ کہا ہے یہ کسی کو تقسیم نہیں کرے گی، باڑ امن کو فروغ دے گی اور غلط فہمیوں کو ختم کرے گی۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان میں بد امنی پھیلانےوالے عناصر افغان سر زمن سے آپریٹ کرتے ہیں، اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیں گے نہ توقع ہے کہ کوئی اور اپنی سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہونے دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں