30

اقتدار سنبھالا تو ملک مشکل میں تھا، عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب اقتدار سنبھالا تو سخت معاشی چیلنجز درپیش تھے، ملک مشکل میں تھا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر تھا، کرنسی گرنے سے منہگائی ہوئی، جس پر حکومت کو برا بھلا کہا گیا، آج صورت حال بہتر ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کا ایسا نظام لارہے ہیں جس سے عوام خوش ہوں گے۔

فیصل آباد میں تاجروں اور سرمایہ کاروں سے خطاب میں وزیراعظم نے کہاکہ میری رائے میں ہر ڈویژن میں ہائیکورٹ بینچ ہونا چاہیے،عوام کو گھر بیٹھے سہولتیں دینا حکومت کی ذمے داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل کے لیے مضبوط بلدیاتی نظام اہمیت رکھتا ہے، دنیا کے تمام بڑے شہروں میں موثر بلدیاتی نظام ہے، مقامی حکومتوں کے نظام میں ہر شہر کے میئر کا براہ راست الیکشن ہوگا۔

عمران خان نے مزید کہاکہ وہ دن بھی آئے گا جب مانچسٹر کہے گا فیصل آباد ہم سے آگے نکل گیا، صوبائی ترقیاتی فنڈز سے شہر ٹھیک نہیں ہوسکتے، لاہور پر پیسہ خرچ کیا تو باقی شہر پیچھے رہ جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر تاریخی قرضے چڑھے ہوئے ہیں، پاکستان کو 40 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ تھا، جس کی وجہ سے معیشت دباؤ میں تھی۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ہم حکومت میں آئے تو 20 ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا تھا، دوست ملکوں نے مدد کی، جس کے باعث ہم دیوالیہ ہونے سے بچ گئے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر برقرار رکھ کر نقصان کیا گیا، کوشش ہے پاکستان کی درآمدات بڑھیں۔

عمران خان نے کہا کہ سرمایہ کاروں، بزنس کمیونٹی کے لیے آسانیاں پیدا کرنے پر کام جاری ہے، برآمد کنندگان کو مراعات دینے سے برآمدات بڑھنے لگی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 70 کی دہائی میں صنعتیں قومیانے سے صنعتی ترقی رک گئی تھی، ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے تربیت یافتہ لیبر کی ڈیمانڈ بڑھ گئی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے کورونا وائرس کے دوران اقدامات کرکے غریبوں اور معیشت کو بچایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کورونا کی دوسری لہر زیادہ خطرناک ہے، شہری احتیاط کریں، ماسک پہنیں، صورتحال خراب ہونے سے اسپتالوں پر دباؤ آئے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں