16

الفیصل ٹاون جوڑے پل کینٹ کا علاقہ مہنگائی اور قبضہ مافیا کا گڑہ بن گیا.

الفیصل ٹاون جوڑے پل کینٹ کا علاقہ مہنگائی اور قبضہ مافیا کا گڑہ بن گیا.
انتظامیہ الفیصل ٹاون جوڑے پل کینٹ کا علاقہ مہنگائی اور قبضہ مافیا کا گڑہ بن گیا. امیہ کی ملی بگھت سے سرکاری فٹ پاتھ کو دوکاندار ہزاروں روپے میں کرایہ پر دینے لگے.گٹروں نے پانی ابلنا شروع کر دیا .گندگی اور بدبو سے مقامی لوگ بیمار ہونے لگے،جوڑے پل کا علاقہ ڈینگی مھچروں کی آمجگاہ بن گیا-
تفصیلات کے مطابق الفصیل ٹاون جوڑے پل کا علاقہ جو کینٹ کی حدود میں اتا یے .کسی دور میں صفائی کا گہوارہ ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ علاقہ گندگی اور بدبوکا مسکن بن چکا ہے جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر نطر اتے ہیں-گٹروں سے ابلتے ہوئے گندے پانی کی وجہ سے لوگوں کا اے بلاک کی گلیوں سے گزرنا نا ممکن ہو گیا.اسکول جانے والے طلبہ کے لیے اسکول جانا مشکل ہو گیا.گندے پانی کے اندر سے گزرتے ہوئے نہ صرف انکے یونیفارم گندے ہوتے ہیں بلکہ چھوٹے بچوں کا بیمار رہنا ایک معمول بن گیا ہے.بخار،گلہ،خانسی مریض بچے اکثر پائے جاتے ہیں.معمولی سی بارش بھی ہو جائے تو اس علاقہ دریا کا منظر پیش کرتا ہے،خاص کر بہار شاہ روڈ جو ایک بزرگ ہستی کے نام سے منسوخ ہے کسی گندے ندی نالے سے کم کا منظرنہیں دیتا.بہار شاہ روڈ مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے کسی بھی انتظامیہ کے افسر یا کسی سیاسی لیڈر کی اج تک اس پر نظر نہیں پڑی یا شاید وہ اسکو ابھی ٹھیک کرنا نہیں چاہتے-جوڑے پل کا واحد بازار اور مین روڈ مچھلی منڈی کا سماں پیش کرتا ہے.دوکانداروں نئ ایک تو اپنی دوکان کو کئی کئی فٹ اگے کیا ہوا ہے اور ساتھ اپنی دوکانوں کا فٹ پاتھ ریڑی بانوں اور مختلف قسم کے کھانے پینے والے سٹالوں کو ہزارون روپے کرایہ پر دیا ہوا ہے-انتظامیہ کے اہلکار آتے تو ہے مگر صرف اپنا بھتہ وصول کرنے،اگر کبھی کھبار افسران بالا آ بھی جائے تو وقتی طور پر سامان اٹھا لیا جاتا ہے اور افسران کے جانے کے بعد جرمانہ لے کر واپس کر دیا جاتا ہے.صرف ان لوگون کو اٹھایا جاتا ہے جو اہلکاروں کو بھتہ نہیں دیتے-کئی سبزی فروشوں نے تو مستقل فٹ پاتھوں پر اڈے لگائے ہوئے ہیں جن کو اج تک کسی افسر نے یا اہلکار نے ہاتھ ڈالنے کی کوشش نہیں کی-اس علاقے مین مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ ہر چیز خاص طور پر ناقص سبزیاں دوگنا ریٹ پر ملتی ہیں اور کوئی ریٹ لسٹ بھی آویزاں نہیں کی جاتی-عوام کی طرف سے شکایات کے باوجود کوئی سنائی نہیں ہوتی اگر پرائس کنٹرول والے آ بھی جائے تو انکی نگرانی میں یہ کام سرعام ہوتا ہے.پوڈر ملا دودہ اور دہہی سرعام مہنگے داموں فروخت ہوتا ہے جس پر کوئی پوچھنے والا نہیں.عوام کا کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ ہے کہ اس علاقے کو ان مافیا سے پاک کیا جائے اور علاقہ کے اسسٹنٹ کمشنر اور فوڈ آتھارٹی کو احکامات جاری کیے جائے کہ وہ ان مافیا کے خلاف بروقت کاروائی کریں-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں