19

الیکٹرانک ووٹنگ مشین کیا ہے اور کیسے کام کرتی ہے؟

ارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت کی طرف سے پیش کیا گیا الیکٹرانک ووٹنگ مشین بل اپوزیشن کی شدید مخالفت اور ہنگامہ آرائی کے باوجود منظور کر لیا گیا۔ ملک میں ہر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ آخر ای وی ایم کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے؟

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا بل منظور کرانے میں کامیاب ہو گئی، جس کے بعد آئندہ الیکشن ٹیکنالوجی کے ذریعے ہو گا، الیکشن کے نظام میں بڑی تبدیلی رونما ہو گی جبکہ ملک بھر میں ٹھپہ کا کلچر ختم ہو جائے گا۔

گزشتہ چند ماہ سے وزیراعظم عمران خان، صدر مملکت ڈاکٹر علوی، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری، وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت دیگر حکومتی رہنما ببانگ دہل اعلان کرتے رہے کہ آئندہ الیکشن ہر صورت میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے کروائے جائیں گے تاکہ انتخابی دھاندلی کا توڑ نکالا جا سکا تاہم اپوزیشن رہنما ہر بار اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے۔ اپوزیشن جماعتیں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہیں دنیا بھر میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین ناکام ہو چکی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری، پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف، پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتیں انتباہی انداز اپناتے ہوئے کہتی رہی ہیں کہ حکومت آئندہ الیکشن میں دھاندلی کے لیے ای وی ایم کا استعمال کرنا چاہتی ہے، ای وی ایم کا استعمال ’آر ٹی ایس پارٹ ٹو‘ ہے۔
جہاں پر اپوزیشن رہنما کو اس ٹیکنالوجی پر تحفظات ہیں وہیں پر دو ماہ قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ای وی مشین متعارف کرانے پر 37 اعتراضات اٹھائے تھے۔

ای سی پی نے موقف اپنایا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی بڑے پیمانے پر خریداری، تعیناتی اور آپریٹرز کی بڑی تعداد کو ٹریننگ دینے کے لیے وقت بہت کم ہے، ایک ہی وقت میں ملک بھر میں ای وی ایم متعارف کرانا مناسب نہیں ہے، قانون کے تحت ضرورت کے مطابق ایک دن میں پولنگ تقریباً ناممکن ہو گی۔

ای سی پی نے ای وی ایم کے استعمال سے منسلک دیگر کئی مسائل کا بھی حوالہ دیا، جس میں بیلٹ کی رازداری، ہر سطح پر صلاحیت کا فقدان اور سکیورٹی کو یقینی بنانے اور مشینوں کو بریک کے دوران اور ٹرانسپورٹیشن کے دوران سنبھالنے کا فقدان شامل ہے۔

وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے اعتراضات پر کہا کہ الیکشن کمیشن نے 37 اعتراضات داخل کیے ہیں ، 27 اعتراضات کا ٹیکنالوجی سے کوئی تعلق نہیں، 27 نکات الیکشن کمیشن کی استعداد کار کے حوالے سے ہیں جبکہ 10 نکات کا تعلق الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری جو اس سے قبل وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کے عہدے پر براجمان تھے اس وقت سے ہی ٹیکنالوجی کے رحجان کو فروغ دینے کیلئے کوشاں تھے۔ اوورسیز سمیت ہر پاکستانی جاننا چاہتے ہیں آخر ای وی ایم ہے کیا اور یہ کیسے کام کرے گی۔31 مئی 2021ء کو وفاقی حکومت نے نجی یونیورسٹی کی تیار کردہ ووٹنگ مشین سیاستدانوں اور میڈیا کے معائنے کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں نمائش کے لیے رکھی تھی۔

اس مشین کے 4 حصے ہیں جو نسبتاً سائز میں بڑے ہیں لیکن نجی یونیورسٹی کے حکام کے مطابق اس کو مزید جازب نظر بنایا جا سکتا ہے اور اس کا سائز چھوٹا کیا جا سکتا ہے۔ اس مشین کے متعدد حصے ہیں۔
پہلا حصہ ایک بڑے ٹیلی فون سیٹ کی طرح ہے جس پر کِی پیڈ، چھوٹی سکرین، شناختی کارڈ ڈالنے کی جگہ اور انگوٹھا سکین کرنے کا سینسر لگا ہوا ہے۔ اس حصے میں چپ کے ذریعے کسی بھی حلقے کے 50 ہزار ووٹرز کا ڈیٹا چند سیکنڈز میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ پولنگ سے پہلے متعلقہ پریزائیڈنگ آفیسر ٹیکنیکل ٹیم کی طرف سے فراہم کیے گئے خفیہ کوڈ اور پاسورڈ کے ذریعے مشین کو آپریشنل کرے گا۔ ووٹ ڈالنے کے لیے آنے والا ووٹر شناختی کارڈ پولنگ عملے کو دے گا جو کارڈ کو مشین میں ڈالے گا۔ شناختی کارڈ کی تصدیق ہونے کی صورت میں سکرین پر ٹک کا نشان سامنے آ جائے گا۔ جس کے بعد سینسر کے ذریعے بائیو میٹرک ویری فیکیشن ہوگی۔ اس حصہ کو ووٹر’شناختی یونٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

دوسرے مرحلے میں ووٹر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے تیسرے حصے پر چلا جائے گا جبکہ دوسرا حصہ پریزائیڈنگ آفیسر کے پاس ہو گا جس پر سرخ اور سبز رنگ کی بتیاں لگی ہوں گی اور جونہی پریزائیڈنگ آفیسر بٹن دبا کر ووٹ ڈالنے کی اجازت دے گا تو سبز رنگ کی لائٹ جل جائے گی جس سے پولنگ ایجنٹس کو پتہ چل سکے گا کہ اب ووٹ ڈالا جا رہا ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے اس حصے کو ’کنٹرول یونٹ ‘ کہا جاتا ہے۔

تیسرا حصہ بیلٹ یونٹ کہلاتا ہے جس میں متعلقہ حلقے کے امیدواروں کے انتخابی نشان حروف تہجی کی ترتیب سے درج ہوں گے۔ پریزائیڈنگ آفیسر کی جانب سے کنٹرول یونٹ سے ووٹ ڈالنے کی اجازت ملنے کے بعد ووٹر خفیہ جگہ پر رکھے بیلٹ یونٹ پر اپنی پسند کے انتخابی نشان کو دبائے گا۔ جس کے بعد اس کے ساتھ رکھے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے چوتھے اور آخری حصے یعنی ’بیلٹ باکس‘ میں ووٹر کی پسند کے امیدوار کی پرچی پرنٹ ہوکر گِر جائے گی۔ پرچی بیلیٹ باکس میں گرنے سے پہلے تین یا پانچ سیکنڈز کے لیے رُکے گی تاکہ ووٹر دیکھ سکے کہ اس نے جس امیدوار کو ووٹ ڈالا ہے پرچی بھی اسی کے نام کی پرنٹ ہوئی ہے یا نہیں۔
جونہی پولنگ کا وقت ختم ہوگا پریزائیڈنگ آفیسر کمانڈ کے ذریعے چند منٹوں میں متعلقہ پولنگ بوتھ کا فارم 45 کا پرنٹ نکال سکے گا۔ اس سارے عمل میں تصدیقی عمل میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے کیونکہ بعض اوقات نشان انگوٹھا کی تصدیق میں مسائل کا سامنا آتا ہے۔ تصدیقی عمل کے بعد دس سے پندرہ سیکنڈز کا کام ہے تاہم الیکشن کمیشن نے عالمی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین بنانے والوں کو ہدایت کی تھی کہ ایک منٹ میں دو ووٹ اور زیادہ سے زیادہ تین ووٹ ہی کاسٹ کیے جانے چاہئیں۔

ماہرین نے دعویٰ کیا کہ موجودہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے بیک وقت انتخاب کے لیے 30 لاکھ الیکٹرونک ووٹنگ مشینیں درکار ہوں گی جب 30 لاکھ کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے چاروں یونٹ 30,30 لاکھ کی تعداد میں تیار کرنا ہوں گے۔ اس کے لیے الیکشن کمیشن نے دنیا بھر سے مختلف کمپنیوں کو مدعو کیا تھا۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ الیکٹرانک ووٹنگ کی مشینوں کی خریداری کے لیے اربوں روپے درکار ہوں گے۔

اپوزیشن اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی جانب سے ممکنہ تحفظات کے حوالے سے ایک ماہر نے آن لائن ویب سائٹ کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ جن جن ممالک میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر کام ہوا ہے ہم نے ان کے تجربات، وہاں پیدا ہونے والے مسائل، سامنے آنے والے اعتراضات اور جڑے دیگر تمام معاملات پر ریسرچ کی ہے۔ تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کام کو آگے بڑھایا ہے۔ بہت زیادہ وقت لگانے کے بعد ہی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا یہ ماڈل تیار کیا گیا ہے۔ جانتے ہیں امیدوار یہ کہہ سکتا ہے کہ میرے پولنگ بوتھ پر دو سو ووٹ تھے جبکہ گنتی میں 150 آئے ہیں تو ہم بیلٹ پیپر میں موجود پرنٹڈ پرچی اور مشین میں موجود گنتی کو دیکھ سکتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ یہ مشین انٹرنیٹ کے ساتھ منسلک نہیں ہوگی اس لیے اس کے ہیک ہونے یا بیٹھنے کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی جگہ پر لڑائی جھگڑا ہو جائے اور کوئی اس میں سیاہی ڈال دے یا توڑ دے وہ الگ صورت حال ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں