46

انور مسعود کا احسان – تحریر: ڈاکٹر صغراصدف

ایک صدی پر محیط درخشاں ادبی ، ثقافتی اور سماجی روایتوں کے امین انور مسعود کی کہانی اتنی سادہ نہیں ،انکے تعارف میں صرف اچھا شاعر ، مزاح نگار یا مترجم لکھ کر بات نہیں بنتی ، اُن کا تمام سفر گہری مقصدیت سے جُڑا ہوا ہے ، اُن کے پورے ادبی منظرنامے میں کوئی منفی ، سازشی اور گروہی سرگرمی نظر نہیں آتی جو دھرتی اور لوگوں کی بھلائی اور بقا سے متصادم ہو، وہ ایسی ہستیوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے فن، فکر،تہذیب ، ثقافت، اخلاقیات اور انسان دوستی کو ایک ہی دھارے میں سمو دیا۔ وہ ایک شاعر اور مزاح نگار کے روپ میں ایک ایسے مہکتےتہذیبی کردار ہیں جن کی شخصیت میں استاد، دانش ور، صوفی ، درویش ،مصلح اور زبان و ثقافت کے محسن کے اوصاف یکجا ہو گئے ہیں۔ انھوں نے سنجیدہ اور مزاحیہ شاعری کے علاؤہ تنقیدو تحقیق اور تراجم کے ضمن میں کئی کارہائے نمایاں سر انجام دئیے مگر ان کی سب تخلیقی اور علمی کاوشوں میں میں سرایت خیر کا جذبہ ان کی شخصیت کا خاص حوالہ بن چکا ہے۔
انور مسعود ایک ماہر نفسیات دان کی طرح نرمی اور محبت سے حاضرین اور سامعین کے دماغوں کو قابو کر کے پہلے ہنساتے ہیں پھر سوچنے پر مجبور کرتے ہیں اور آنکھ کے پتھر کو آنسوؤں کا نم دان کر کے رخصت کرتے ہیں۔ ان کا ادبی سیشن ایک تہذیبی اور اخلاقی سیشن میں ڈھل جاتا ہے ،اُن کے تہہ دار مزاح میں سماجی شعور، اخلاقی بصیرت اور انسانی درد شامل ہے۔ وجہ ز بھی کرتے ہیں اور تنقید بھی مگر نہ اُن کا طنز اتنا تلخ ہوتا ہے کہ روح کو گھائل کر دے اور نہ تنقید اتنی بے رحم کہ مزاج پر گراں گزرے،اصلاح کے متمنی کا مقصد دل آزاری اور تذلیل کرنا ہر گز نہیں ہوتا۔ بلکہ بھٹکی سوچوں کو ٹریک پر لانا ہوتا یے۔ مقصد نیک ہو تو خُدا کا کرم شاملِ حال ہو جاتا ہے، لفظ برکت سے بھر جاتے ہیں اور دل کی بات دلوں تک پہنچتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام ہر طبقے اور ہر عمر کے کا لوگوں میں مقبول ہے۔
انور مسعود نے عظیم صوفی شاعر میاں محمد بخش کی ضعیم شہرہ آفاق تصنیف سفر العشق ، (سیف الملوک )کا اردو ترجمہ کیا ہے، مجھے ہمیشہ انور مسعود کی ذات صوفیا سے فکری ہم آہنگی کا مظہر دکھائی دی، احترام آدمیت ،حلیمی و انکساری، باطنی سچائی، رواداری،برداشت جیسے تصورات اور صفات ان کے کلام اور رویے دونوں میں صاف جھلکتے ہیں۔ ان کا لہجہ دھیمہ، گفتگو شگفتہ اور انداز سراپا احترام ہے۔
مشاعروں میں بے پناہ مقبولیت کے باوجود وہ خود کو عام لوگوں سے الگ نہیں کرتے۔ مشاعرے کے بعد سینکڑوں افراد تصاویر بنوانے کے لیے جمع ہوں، تب بھی وہ خندہ پیشانی سے سب سے ملتے ہیں، ہر ایک کو وقت دیتے ہیں اور کسی کو مایوس نہیں لوٹاتے۔ یہ رویہ محض شائستگی نہیں بلکہ اس صوفیانہ تصورِ انسانیت کا اظہار ہے جس میں ہر شخص قابلِ احترام ہے۔
انہیں جو عالم گیر مقبولیت اور محبوبیت حاصل ہوئی ہے، وہ محض فنی مہارت کا نتیجہ نہیں بلکہ اخلاص، نیک نیتی اور انسان دوستی کا ثمر ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ نوے برس کی عمر میں بھی انور مسعود ایک معصوم بچے کی طرح اُجلے اور شفاف دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے لہجے اور کلام میں آج بھی حیرت، تجسس اور زندگی سے محبت کا عنصر نمایاں ہے۔ صوفیا کے نزدیک حیرت معرفت کی پہلی سیڑھی ہے، اور انور مسعود کا فن اسی حیرت سے روشن نظر آتا ہے۔
بیس پچیس سال پہلے ماحولیاتی آلودگی جیسے اہم مسئلے پر ان کی حساس طبیعت نے اردو شاعری کے مجموعے کی صورت میں ایک بامعنی اور بصیرت افروز تجزیہ پیش کیا۔ قرآنی آیات، احادیث اور اقوالِ زریں کی روشنی میں گھر، اداروں، شہروں اور سڑکوں کی صفائی، درختوں کی افزائش اور فضائی آلودگی کے تدارک جیسے موضوعات کو شاعری کا وسیلہ بنا کر اجاگر کرنا نہایت بامقصد اور مؤثر قدم تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نہ صرف ایک صاحبِ احساس شاعر تھے بلکہ معاشرتی اور ماحولیاتی شعور کے فروغ کے لیے بھی اپنی فکری ذمہ داری نبھاتے رہے۔
پنجابی زبان انور مسعود کی خاص طور پر احسان مند ہے۔ ایسے وقت میں جب پنجابی میں لکھنے اور بولنے کا رواج کم ہوتا جا رہا تھا، انہوں نے لوگوں کو اپنی ماں بولی سے جوڑا اور اسے فخر کے ساتھ بولنے پر آمادہ کیا۔ ان کی نظم „آج کیہ پکائیے“ گھریلو نظم کی طرح خواتین میں مقبول ہوئی، یہاں تک کہ دیہاتوں اور قصبوں میں روزوار مینو کے انتخاب کے لیے لوگ یہ نظم پڑھتے اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔
انور مسعود کی تمام معروف اور مقبول نظمیں جیسے امبڑی، انارکلی، بنین اور بددعائیں بلھے شاہ اور میاں محمد بخش کی زبان میں تخلیق ہوئیں،اور سیدھی لوگوں کے دلوں میں اتر گئیں۔ اگرچہ انہوں نے اردو اور فارسی میں بھی عمدہ لکھا، مگر عوامی سطح پر سب سے زیادہ پذیرائی پنجابی کلام کو ملی، جو ان کی دھرتی سے محبت کی روشن مثال ہے۔
انور مسعود اپنے ملک کے سچے خیرخواہ ہیں، مگر اُن کی وسعتِ نظر وطن باسیوں کے لئے خیر کی دعا کو انسان دوستی میں ڈھال کر وہ آفاقی منظرنامہ بناتی ہے جہاں محبت تقسیم نہیں ہوتی بلکہ پھیلتی ہے۔ھماراالمیہ یہ ہے کہ تحریر میں بڑے بڑے خیر کےدعوے کرنے والوں کا عمل بالکل متصادم ہوتا ہے مگرانور مسعود اُن کم یاب ادیبوں میں سے ہیں جن کی تحریر اُن کی شخصیت کا آئینہ ہوتی ہے۔ جو شائستگی، انکسار اور انسان دوستی ان کے کلام میں نظر آتی ہے، وہی ان کے عمل میں بھی جھلکتی ہے۔ ان کے ہاں فن اور ذات میں کوئی تضاد نظر نہیں آتا۔
مجلسِ ترقی ادب کے ڈائریکٹر عباس تابش نے جشن انور مسعود کا اہتمام کیا جسے دنیا بھر میں سراہا گیا، افتخار عارف ،خورشید رضوی ، اصغر ندیم سید اور ما بدولت نے انور مسعود کی علمی ادبی اور شخصی خوبیوں کا احاطہ کیا جبکہ بعد میں افتخار عارف کی صدارت میں عمدہ مشاعرہ ہوا، زندگی کی روشن قدروں کے علمبردار انور مسعود کو ملئیے ، انھیں سُنیے ،پڑھیے اور خیر کی کرنیں وجود میں اُتارنے کی کوشش کیجیئے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں