31

اوقاف و مذہبی امور کے زیر انتظام 978واں سالانہ عرس مبارک کے انتظامات و تقریبات( تحریر۔۔ محمدناظم الدین-ڈپٹی ڈائریکٹر تعلقات عامہ پنجاب )

گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا نا قصاں را پیر کامل کاملاں را رہنما
امام الاولیا ء۔۔۔ فخر ا لا ولیاء۔۔۔محبوب خدا
حضرت علی بن عثمان ا لہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ -ریاست مدینہ کی تشکیل کے لیے، سیّد ہجویر کے افکار
اوقاف و مذہبی امور کے زیر انتظام 978واں سالانہ عرس مبارک کے انتظامات و تقریبات
صو فیائے کرام نے روادارانہ فلاحی معاشرے کی بنیاد رکھی
پر امن بقائے باہمی کے قیام، روادارانہ فلاحی معاشرے کے قیام کیلئے صوفیائے کرام کی تعلیمات کی ترویج وقت کی اہم ضرورت اور خدمات مینارہ نور ہیں
اولیائے کرام نے افکار و تعلیمات کو مکمل طورپر احکامِ شریعت کے نہ صرف تابع قراردیا بلکہ تصوف کو شریعت کا امین اور نگہبان بنا کر پیش کیا – برصغیر میں اولیاء کرام نے ایک ایسے اسلامی مکتبِ تصوف کی بنیاد رکھی جِس کی بلندیوں پر ہمیشہ شریعت و طریقت کا پرچم لہراتا رہے گا-برصغیر میں حضرت داتا گنج بخشؒ کی شخصیت ان برگزیدہ ہستیوں میں سرفہرست ہے
آپ کا آستانِ فیض نہ صرف برصغیر بلکہ پوری اسلامی دنیا میں قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے
صو فیائے کرام نے روادارانہ فلاحی معاشرے کی بنیاد رکھی،وہ اخوت،بھائی چارے،انسان دوستی،ایثار و محبت جیسے جذبوں سے آراستہ ہے۔ان کے فکر و عمل کا یہ فیضان پنجاب بلکہ پورے خطے کو اسلامی تعلیمات کی روشنی سے منورکر رہا ہے۔ آج بین ا لمسالک کی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمہ کے فروغ اور انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے عوامل کی بیخ کنی کے لئے ضروری ہے کہ ہم ان اولیائے کرام کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا کر ان پر عمل پیرا ہوں۔صوفیائے کرام امن کے علمبر دار اور انسان دوستی کے امین ہیں۔ان بزرگان دین کی در گاہیں آج بھی ظاہری و باطنی علوم کے عظیم مراکز کی حیثیت رکھتے ہیں۔وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ان بزرگان دین کی تعلیمات کو اپنا کر ہم دوبارہ دنیا بھر میں اسلام کا پرچم بلند کر سکتے ہیں۔ پر امن بقائے باہمی کے قیام اور روادارانہ فلاحی معاشرے کے قیام کے لئے صوفیائے کرام کی تعلیمات کی ترویج وقت کی اہم ضرورت اور خدمات مینارہ نور کی حیثیت رکھتی ہیں۔

اولیائے کرام نے افکار و تعلیمات کو مکمل طورپر احکامِ شریعت کے نہ صرف تابع قراردیا بلکہ تصوف کو شریعت کا امین اور نگہبان بنا کر پیش کیا اور یوں برصغیر میں ایک ایسے اسلامی مکتبِ تصوف کی بنیاد رکھی جِس کی بلندیوں پر ہمیشہ شریعت و طریقت کا پرچم لہراتا رہے گا۔ اولیائے کرام نے روادارانہ فلاحی معاشرے کی بنیاد رکھی،وہ اخوت،بھائی چارے،انسان دوستی،ایثار و محبت جیسے جذبوں سے آراستہ ہے۔ان کے فکر و عمل کا یہ فیضان پورے خطے کو اسلامی تعلیمات کی روشنی سے منورکر رہا ہے۔ آج ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمہ کے فروغ اور انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے عوامل کی بیخ کنی کے لئے ضروری ہے کہ ہم ان اولیائے کرام کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا کر ان پر عمل پیرا ہوں۔اولیائے کرام امن کے علمبر دار اور انسان دوستی کے امین ہیں۔ان بزرگان دین کی در گاہیں آج بھی ظاہری و باطنی علوم کے عظیم مراکز کی حیثیت رکھتے ہیں۔وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ان بزرگان دین کی تعلیمات کو اپنا کر ہم دوبارہ دنیا بھر میں اسلام کا پرچم بلند کر سکتے ہیں۔ پر امن بقائے باہمی کے قیام اور روادارانہ فلاحی معاشرے کے قیام کے لئے اولیائے کرام کی تعلیمات کی ترویج وقت کی اہم ضرورت اور خدمات مینارہ نور کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسلام پوری کائنات کے لیے امن وآشتی کا پیامبر ہے۔ اسلام کی امن و آشتی کی تعلیمات کے بارے میں نوجوان نسل کی فکری آبیاری ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

عصر حاضر میں انسانیت کو درپیش مختلف النوع روحانی، فکری اور تہذیبی چیلنجز سے نجات اسوہئ حسنہ کی مکمل پیروی میں مضمر ہے اور اس سلسلے میں نوجوان نسل کو اسلام کی مقدس اور پاکیزہ تعلیمات کے بارے میں مکمل آگہی اہم عصری تقاضا ہے تاکہ مستقبل کی راہ کو حاصل کرنے کی صحیح روحانی اور فکری تربیت سے حال اور مستقبل کے مسائل کو احسن طریقے سے حل کیا جائے۔ حضورنبی کریم ؐنے تاریخ انسانی کے تاریک ترین عہد میں علم و آگہی، حکمت و دانش، روحانی اور فکری نجات اور انسانیت کی فلاح وبہبود کے جو چراغ روشن کیے تھے، انسانیت تا بہ ابد اس سے روشن و تاباں رہے گی۔

اس خطے کے دیگر صوفیاء کی تعلیمات سے اکتسابِ فیض وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ صوفیاء امن کے علمبردار اور انسان دوستی کے امین ہیں۔ ان کی خانقاہیں بلا امتیاز مسلک ومذہب ہر ایک کے لیے فیضِ عام کا ذریعہ ہیں۔ ان کے مزارات امن کے مرکز اور محبتوں والفتوں کے امین ہیں۔ ان کی درگاہیں علم کے سب سے بڑے مراکز اور تزکیہ وطہارت کے عظیم ترین مسکن ہیں۔ آج دنیامیں انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمہ اور روادارانہ فلاحی معاشرے کی تشکیل کے لیے صوفیاء کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔ ہم سب ان کی تعلیمات پر خود بھی عمل کریں اور انہیں عام لوگوں تک بھی پہنچائیں تاکہ ملک سے دہشت گردی،انتہاپسندی اور فرقہ پرستی کا خاتمہ ہو سکے۔
ریاست مدینہ کی تشکیل کے لیے، سیّد ہجویر کے افکار کو اپنانا ہوگا۔ برصغیر میں حضرت داتا گنج بخشؒ کی شخصیت ان برگزیدہ ہستیوں میں سرفہرست ہے جنہوں نے اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں تاریخ ساز کردار ادا کیا۔ آپ کا آستانِ فیض نہ صرف برصغیر بلکہ پوری اسلامی دنیا میں قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ آج بین المسالک ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمہ کے فروغ اور انتہاپسندی اور دہشت گردی جیسے عوامل کی بیخ کنی کے لیے ضروری ہے کہ ہم حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ اور اس خطے کے دیگر صوفیاء کی تعلیمات سے اکتسابِ فیض کریں۔ یہ صوفیاء امن کے علمبردار اور انسان دوستی کے امین تھے۔ ان کی خانقاہیں بلاامتیاز مسلک ومذہب ہر ایک کے لیے فیضِ عام کا ذریعہ تھیں۔ ان کے مزارات امن کے مرکز اور محبتوں والفتوں کے امین تھے۔ ان کی درگاہیں علم کے سب سے بڑے مراکز اور تزکیہ وطہارت کے عظیم ترین مسکن تھے۔ آج دنیامیں انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمہ اور روادارانہ فلاحی معاشرے کی تشکیل کے لیے حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ اور ان جیسے دیگر صوفیاء کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔

برصغیر میں قافلہ تصوف اور شریعت و طریقت کے امام الاولیائالشیخ السید علی بن عثمان الہجویری المعروف حضرت داتا گنج بخش ؒ کا آستانہ سب سے بڑا روحانی مرکز ہے۔ آپؒ کا 978واں سالانہ عرس مبارک 19,18اور 20صفرالمظفر 1443ہجری بمطابق 26تا28ستمبر2021بروز اتوار، پیر اور منگل سے آپؒ کے آستانہ عالیہ پر منعقد ہو رہا ہے۔ عرس کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز 18صفر المظفر بمطابق 26ستمبر2021بوقت 11:00بجے دن رسم چادر پوشی سے ہو گا۔ اس کے بعد حسب روایت سبیل دودھ کا افتتاح کیا جائے گا۔
حضرت داتا گنج بخشؒ کا سالانہ عرس نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیائکی روحانی اور خانقاہی دنیا کی سب سے بڑی تقریب ہوتی ہے۔ عرس کے تمام انتظامات اور رسومات ہمیشہ ہی بہترین طریقے سے ادا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس مرتبہ بھی ان کوششوں کو مزید مؤثر اور بہتر بنانے کیلئے تمام محکمانہ اور حکومتی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ان تقریبات کو خوب سے خوب تر انداز میں انجام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر وزیر اوقاف سید سعیدالحسن شاہ نے کرونا وائرس کی تمام صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے سیکر ٹری اوقاف نبیل جاوید اور ڈائریکٹر جنرل سید طاہر رضا بخاری نے نہایت حکمت عملی سے عرس کے سلسلہ میں تمام تقریبات کو شایان شان طریقہ سے منانے کا پروگرام مرتب کیا ہے۔ایڈمنسٹریٹرداتا دربار خالد محمود سندھو نے حکومتی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے متواترسکیورٹی کی صورت حال پر نظر رکھتے ہوئے باقاعدگی سے اپنی ٹیم کے ہمراہ نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔
عرس کے موقع پر دینی، روحانی محافل اور علمی نشستوں کے انعقاد کیلئے 500سے زائد مشائخ، سجادگان، اکابرعلمائاور مذہبی سکالرز، قرائاور نعت خواں حضرات کو مدعو کیا گیا ہے۔ جن میں وطن عزیز کی 200سے زائد روحانی اور خانقاہی شخصیات، معروف آستانوں کے سجادگان کے علاوہ حضرت خواجہ غریب نوازؒ کی خانقاہ کے سجادہ نشین سید بلال چشتی، خواجہ فرید الدین فخری سجادہ نشین اورنگ آباد شریف (انڈیا) اور پیر سید دیوان طاہر نظامی سجادہ نشین درگاہ خواجہ نظام الدین محبوب الٰہی (انڈیا) بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ اس سال عرس کی تقریبات کا ”نظام الاوقات“ پر مشتمل کتابچہ اور ”پوسٹر“ خوبصورت طباعت سے آراستہ کرکے کیثر تعداد میں ملک کے طول و عرض میں ارسال کر دیا گیا ہے۔ ملک بھر کے اہم اخبارات میں عرس کی تقریبات سے متعلق اشتہار شائع کروا کر عوام الناس کو ملک بھر میں اطلاع کی جا رہی ہے۔ حضرت داتا گنج بخشؒ کے علمی اور روحانی فیوض و برکات کی ترویج و تبلیغ کیلئے کتاب ”الزاد المرغوب فی تعارف کشف المحجوب“ کی خصوصی اشاعت کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔
حضر ت داتا گنج بخشؒ کے 978واں سالانہ عرس مبارک کے موقع پر سہ روزہ عالمی کانفرنس بعنوان”عصری، تہذیبی مسائل اور سید ہجویرؒ کی تعلیمات“، ”قضایا الحضارۃ المعاصرۃ وتعلیمات سید الھجویر“”ISSUES OF CONTEMPORARY CIVILZATION AND THE TEACHINGS OF SYED HAJWAIR“کا اہتمام 22تا 24ستمبر2021کوکیا گیا ہے۔ جس میں وطن عزیز پاکستان کے علاوہ معاصر دنیا، ترکی، مدینہ منورہ، لندن، افغانستان، ایران، یمن، تیونس،برطانیہ، نیویارک اور عراق کی معروف دانشگاہوں اور علمی حلقوں کی معتبر شخصیات تشریف فرما ہونگی۔ اس وقیع کانفرنس کے انعقاد کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ آج جبکہ امت مسلمہ ہر طرف مصائب و مشکلات اور تذبذب و تشکیک کا شکار ہے تو ان حالات میں حضرت داتا گنج بخشؒ کے حیات بخش فرمودات اور ان انقلاب آفرین تعلیمات سے روشنی حاصل کی جائے، جو زندگی کو عمل، حرکت اور جہد مسلسل سے مزین اور ایک روشن اور بلند نصب العین سے منور کرنے کا پیغام دے رہی ہیں۔ کانفرنس کا افتتاح مورخہ22ستمبر 2021بروز بدھ10:00بجے دن رازی ہال نیو کیمپس پنجاب یونیورسٹی لاہور میں ہوگا۔ کانفرنس کے دوسرے روز 23ستمبر2021 بروزجمعرات، 10:00بجے دن بخاری آڈیٹوریم جی سی یونیورسٹی لاہورمیں کانفرنس ہو گی۔ جبکہ مورخہ24ستمبر2021 بروز جمعۃالمبارک کو معروف دانشور پروفیسر احمد رفیق اختر خصوصی لیکچر صبح10:00بجے بمقام دربار حضرت داتا گنج بخشؒ فرمائیں گئے اور 25ستمبر2021کو یونیورسٹیز کے اشتراک سے مدارس دینیہ اور جامعات کے درمیان مقابلہ حسن قرآت و مقابلہ حسن تقریر داتا دربار کمپلیکس میں منعقد ہو گا۔مزید مورخہ25ستمبر2021کو خصوصی طور پر مشاعرہ منقبت کا انعقاد ہو گا جس میں شعرائکرام (حضرت محمدؐ کی بارگاہ میں نذرانہ عقیدت)اور حضرت داتا گنج بخشؒ کے حضور عقیدت کا نذرانہ پیش کرینگے۔
زائرین کی روحانی، باطنی اور قلبی تسکین کیلئے عرس مبارک کے موقع پر محفل حسن قرات، تین روزہ قومی محفل نعت ؐ بھی روزانہ ہو گی۔ 19اور 20صفر المظفر کو جامع مسجد دربار حضرت داتا گنج بخشؒ میں علمی و روحانی اجتماعات کے انعقاد کے علاوہ دو روزہ محافل سماع کا بھی خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ ان تقریبات میں شرکت کیلئے ملک بھر سے معروف علمائکرام، مشائخ عظام، قرائحضرات، نعت خواں اور قوال شرکت کر رہے ہیں۔اس سال محکمہ اوقاف و مذہبی امور پنجاب کی جانب سے زائرین کیلئے لنگر اور عرس کی دیگر تقریبات اور انتظامات کیلئے مبلغ ایک کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔

زائرین کیلئے محکمہ اوقاف و مذہبی امور نے سالانہ عرس کے موقع پر سکیورٹی کے خاص انتظامات کیے ہیں اس ضمن میں 133عدد سکیورٹی و کلوز سرکٹ کیمرے نگرانی کیلئے نصب ہیں۔ علاوہ ازیں ایک الگ سے کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے جس میں 16عدد LCDنصب ہوں گی تاکہ دربار شریف میں ہونے والی سرگرمیوں پر مکمل طور پر نظر رکھی جا سکے۔ دوران عرس مبارک محکمہ پولیس نے 2000پولیس اہلکاران تعینات کیے ہیں۔ جس میں 3ایس پیز، 7ڈی ایس پیز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباََ 2ایلیٹ فورس کی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ دربار شریف کے اندر داخل ہونے والے راستوں پر2عدد سکیننگ مشین، 11 واک تھر وگیٹس، 15میٹل ڈیٹکٹرز، 12انٹرکام اور 6عدد ایمرجنسی PTCLکنکشنززائرین کی حفاظت کیلئے مہیا کئے گئے ہیں۔
محکمہ پولیس کی لیڈی کانسٹیبلز دربار شریف کے خواتین کے احاطہ میں مامور کی گئی ہیں۔ داتا دربار میں موجود رضا کار تنظیموں کے 450رضا کار بھی محکمہ کی معاونت کرینگے۔ محکمہ اوقاف نے 41سکیورٹی گارڈز بھی سیکورٹی انتظامات کویقینی بنانے کیلئے تعینات کیے ہیں جن کی نگرانی 3سپروائزر کریں گے جبکہ 60عدد پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز بھی سکیورٹی انتظامات کو بہتر بنانے کیلئے اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔ اس کے علاوہ داخلی راستوں پر پولیس نے بھی الگ سے واک تھرو گیٹس کا انتظام کیا ہے ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر بم ڈسپوزل سکواڈ بھی ہمہ وقت موجود رہے گا۔ علاوہ ازیں ریسکیو 1122کا عملہ بمعہ 5ایمبولینس و موٹر سائیکلز ریسکیو ہمہ وقت موجود رہیں گے اور قرب و جوار کے ہسپتالوں میں خصوصی انتظامات کیے ہیں۔زائرین کے بلارکاوٹ دربار شریف تک پہنچنے کیلئے بذریعہ ٹریفک پولیس خصوصی ٹریفک پلان مرتب کیا گیا ہے۔
محکمہ اوقاف و مذہبی امور نے عرس کے ایام میں زائرین کیلئے لنگرکا وسیع انتظام کیا ہے۔ اس کے علاوہ بے شمار مخیر حضرات کی طرف سے بھی وسیع لنگر کی تقسیم کا اہتمام عمل میں آئے گا۔ اس موقع پر زائرین کے وضو اور پینے کے پانی کی فراہمی وغیرہ کے انتظامات بھی تسلی بخش کیے گئے ہیں۔ محکمہ کی طرف سے عرس مبارک پر آنے والے زائرین کی سہولت کیلئے داتا دربار کمپلیکس کی حدود اور مسجد کے تہہ خانہ میں میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت میں فوری طبی امداد دی جا سکے۔ محکمہ کے اپنے نصب شدہ 3عدد جنریٹر سسٹم کے علاوہ بجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے 1عدد اضافی جنریٹر کا بھی انتظام کیا ہے جبکہ واپڈا کی طرف سے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مزید یہ کہ محکمہ سوئی گیس کو گیس کا پریشر مکمل فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ عرس مبارک کے موقع پر صفائی کے خصوصی اقدامات کیلئے 200ورکرزرات دن دو شفٹوں میں کام کرینگے جو عرس مبارک کے موقع پر داتا دربار کمپلیکس کے احاطے میں ہر جگہ پر صفائی کو یقینی بنائیں گے۔ ان ورکرز کی نگرانی کیلئے 10سپروائزر بھی تعینات کیے گئے ہیں۔:

سکیورٹی کے انتظامات کے پیش نظر دوران عرس زائرین کی سہولت کیلئے سنٹرل ماڈل ہائی سکولII-، ریٹی گن روڈ، مسلم سکول نمبرIIاور داتادربار ہسپتال لاہور میں وسیع پارکنگ کا انتظام کیا گیا ہے۔
دیگر محکمہ جات کے کیمپ آفسز کا قیام وہیلپ کاؤنٹر کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے اس سلسلہ میں دوران عرس مبارک جملہ انتظامات اور عوامی سہولت کیلئے دیگر محکمہ جات کے کیمپ آفسز بھی داتا دربار کمپلیکس میں قائم کئے گئے ہیں جن میں سرفہرست لیسکو، واسا، سول ڈیفنس، ابتدائی طبی امداد اور سوئی گیس کے محکمہ جات شامل ہیں۔ محکمہ کی جانب سے زائرین کی سہولت کیلئے دربار شریف میں مختلف مقامات پر ہیلپ کاؤنٹرز بھی قائم کئے گئے ہیں۔ جن کی باقاعدہ تشہیر کی گئی ہے۔ ان ہیلپ کاؤنٹرز پر زائرین کی مدد اور رہنمائی کیلئے چاک و چوبند عملہ موجود رہے گا۔ پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا کے زریعے عرس کی تقریبات کی تشہیر کے علاوہ ان تقریبات کو براہ راست ٹیلی ویژن چینلز پر دکھائے جانے کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔
پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا حضرت داتا گنج بخشؒ کی تعلیمات اور عرس کے موقع پر ان تمام تقریبات کے مراحل کو عوام الناس تک پہنچانے کیلئے ہمیں آپ کی مدد اور تعاون درکار ہے اور آج اس موقع پر اسی مقصد کیلئے آپ کو دعوت دی گئی ہے۔ آئیں ہم سب مل کر اجتماعی طور پر برصغیر کی اس عظم الشان ہستی کے سالانہ عرس مبارک کے انعقاد کو بھر پور اور کامیاب بنائیں۔
٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں