32

ایک باہمت خاتون (تحریر-میاں عصمت رمضان)

کہتے ہیں کہ غم اور تکلیف انے پر ہر بندا خود کو مضبوط کر لیتا ہے اورمشکل کی اس گھڑی میں لوگوں کے غم بھول کر صرف اپنا خیال کرتا ہے تاکہ دوبارہ صحت مند ہوکر دنیا کی دور میں شامل ہو سکے،بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اس گھڑی میں اپنا غم بھول کر دوسروں کی تکلیف کو نہ صرم محسوس کرتے ہیں بلکہ اسکی تکلیف کا آزالہ کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں.ایسے ہی لوگوں مین ایک شخصیت ڈاکٹر یاسمین راشد کی ہے جنھوں نے اپنے پہاڑ جیسے غم اور تکلیف کو بھلا کر کرونا جیسی مہلک وباء کا ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ اس مہلک بیماری کو ختم کرنے میں دن رات صرف کر دیا ہے .کرونا کی تیسری لہر میں جب ہر طرف اسکے اثرات بہت زیادہ ہے پاکستان بھر میں خصوصا پنجاب میں اس بیماری کی جڑیں ختم ہو رہیں اور امیت کرتے ہیں کی بہت جلد اس بیماری کا خاتمہ ہو جائے گا-
ڈاکٹر یاسمین راشد 21 ستمبر 1950 کو چکوال ، پنجاب ، پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم ضلع چکوال کے گاؤں نیلہ میں مکمل کی- لاہور آنے سے پہلے جہاں وہ عیسیٰ اور مریم کے کانونٹ میں تعلیم حاصل کی۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کی شادی 1972 رشید نبی ملک سے ہوئی ہے۔اپ کے شوہر کا تعلق ایک ممتاز سیاسی خاندان سے ہے۔ وہ پنجاب کے سابق وزیر تعلیم ملک غلام نبی کے بیٹے ہیں۔
1978 میں اس نے لاہور کی فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کیا۔ پھر وہ برطانیہ چلی گئیں اور رائل کالج آف اوبسٹٹریشنز اینڈ گائناکالوجسٹ میں داخلہ لیا جہاں سے 1989 میں MRCOG کی ڈگری اور 1999 میں FRCOG کی ڈگری حاصل کی۔
اس کے بعد اس نے کراچی کے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان سے ایف سی پی ایس میں ڈگری حاصل کی۔
انہوں نے 1998 سے 2000 تک پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں-2008 سے 2010 تک پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور چیپٹر کی صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور ٹاسک فورس ویمن ڈویلپمنٹ کی چیئرپرسن اور چیئرپرسن پنجاب میں ویمن ہیلتھ کمیٹی کی –
وہ پیشے کے اعتبار سے ایک ماہر امراض نسواں ہیں اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں شعبہ نسائی اور امراض نسواں کی سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں۔انہوں نے راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی ، فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی میں بھی کام کیا اور سینٹرل پارک میڈیکل کالج کے جینولوجی ڈیپارٹمنٹ کی سربراہی کی۔
ڈاکٹر یاسمین راشد 2010 میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئی اور انھوں نے این اے 120 (لاہور III) سے پی ٹی آئی کی امیدوار کے طور پر پاکستان کی قومی اسمبلی کی نشست کے لیےالیکشنمین حصہ لیا لیکن ناکام رہی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اس وقت کے صدر نواز شریف کے خلاف 52،354 ووٹ حاصل کیے جنہوں نے 91،683 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔
جولائی 2017 میں ، سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے پاناما پیپرز کیس کے فیصلے کے بعد نواز شریف کے نااہل ہونے کے بعد ، این اے 120 (لاہور III) کی نشست خالی ہوئی اور اس حلقے میں ضمنی انتخابات کا اعلان کیا گیا۔ پی ٹی آئی نے راشد کو ستمبر 2017 میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست کے لیے بطور امیدوار نامزد کیا۔تاہم وہ کلثوم نواز شریف سے انتخابات ہار گئیں۔
وہ 2018 کے پاکستانی عام انتخابات میں خواتین کی مخصوص نشست پر پی ٹی آئی کی امیدوار کے طور پر پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے لیے منتخب ہوئیں۔
27 اگست 2018 کو اسے وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی صوبائی پنجاب کابینہ میں شامل کیا گیا تھا اور موجودہ صوبائی وزیر برائے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر اور سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ہیں۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد چند ماہ قبل بریسٹ کینسر میں مبتلا ہو گئی تھیں جس کے ساتھ ان کی جنگ تاحال جاری ہے۔آج کل وہ سرجری کروانے کے بعد اب کیموتھیراپی سے گزر رہی ہیں اور ساتھ ساتھ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داراییاں بھی نبھا رہی ہیں۔ تاہم ڈاکٹر یاسمین راشد ایک باہمت خاتون ہے ان کا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے فرائض جاری رکھے ہوئے ہیں اور انھیں کسی دقت کا سامنا نہیں ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی بیماری کا معاملہ ذاتی نوعیت کا ہے-
ڈاکٹر یاسمین راشد اس تکیف دہ مرض کے باوجود کورونا وبا کی روک تھام اور متاثرین کی دیوانہ وار خدمت کررہی ہے اوراپنا کرب محسوس کرتے ہوئے دوسروں کی تکلیف کو اتنی شدت سے محسوس کرتی ہیں۔‘
ہم آپ کی خدمات کا بدل تو نہیں دے سکتے لیکن دعا دے سکتے ہیں کہ خدا ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ کو کینسر جیسی بیماری سے جلد از جلد صحت کاملہ عطا فرمائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں