147

برآمدات بڑھنے کے باوجود تجارتی خسارہ کیوں؟ کنکریاں ۔ کاشف مرزا

برآمدات بڑھنے کے باوجود تجارتی خسارہ کیوں؟

کنکریاں ۔ کاشف مرزا
تحریک انصاف حکومت نے ملکی درآمدات میں کمی لانے کا اعلان کیا تھا تاکہ اسکے ذریعے تجارتی اورجاری کھاتوں کے خسارے کو کم کیا جا سکے۔ اگرچہ گذشتہ مالی سال میں تحریک انصاف کی حکومت اس خسارے میں تھوڑی بہت کمی لانے میں کامیاب ہوئی تاہم موجودہ مالی سال کے آغاز سے درآمدات میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس سے تجارتی خسارہ بڑھنا شروع ہو گیا ہے۔ تجارتی خسارے میں اضافہ ملکی معیشت کے لیے ایک خطرناک علامت ہے کیونکہ یہ خسارے جاری کھاتوں کے خسارے کو بڑھا کر شرح مبادلہ پر منفی اثر ڈالتا ہے جسکا براہ راست منفی اثر روپے کی ڈالر کے مقابلے میں کمی کی صورت میں نکلتا ہے۔ ملکی درآمدات میں زیادہ اضافہ پاکستانی روپے پر بھی دباؤ ڈال رہا ہے جو امریکی کرنسی کے مقابلے میں اس مالی سال کے پہلے چھ مہینوں میں 155 روپے سے 178 روپے تک جا پہنچا ہے، جسکی بنیادی وجوہات میں سے ایک درآمدی بل میں اضافے کی وجہ سے ڈالر کی طلب میں بہت زیادہ اضافہ ہے جبکہ دوسری جانب ملکی برآمدات میں بہت ہی کم اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

گذشتہ حکومت کے آخری مالی سال میں ملک کا تجارتی خسارہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا جب یہ 37 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گیا تھا۔تحریک انصاف حکومت کے پہلے مالی سال میں یہ خسارہ 31 ارب ڈالر، دوسرے مالی سال میں 23 ارب ڈالر رہا تھا۔ تاہم خسارے میں کمی کا یہ رجحان برقرار نہیں رہ سکا اور 30 جون 2021 کو ختم ہونے والے موجودہ حکومت کے تیسرے مالی سال میں یہ خسارہ ایک بار پھر 30 ارب ڈالر تک پہنچ گیا اور اس میں اضافے کا رجحان تسلسل سے جاری ہے۔پاکستان کے درآمدی شعبے میں ملک میں آنے والی مصنوعات کا جائزہ لیا جائے تو اس میں کھانے پینے کی چیزوں، تیل کی مصنوعات، گاڑیاں اور مشینری کی درآمدات میں بے تحاشا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اگرچہ مشینری کی درآمد پیداواری شعبے میں توسیع کے لیے منگوائی جا رہی ہے تاہم فوڈ سیکٹر کی درآمد میں بھی بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے جسکی وجہ گندم اور چینی کی بڑی مقدار میں درآمد ہے، پاکستان کبھی ان چیزوں کو دنیا میں برآمد کرتا تھا۔ یہ ملک کے بیرونی تجارت کے شعبے اور جاری کھاتوں کے خسارے کو عدم توازن سے دوچار کر دیتا ہے۔ موجودہ مالی سال کے پہلے چھ مہینوں میں ملکی برآمدات 25 فیصد کی شرح سے بڑھتے ہوئے 15 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں جو گذشتہ سال 12 ارب ڈالر تھیں۔ ایک جانب ملک کی برآمدات میں اضافے کو بیرونی تجارت کے شعبے میں خوش آئند پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے مگر دوسری جانب رواں مالی سال کے پہلے چھ مہینوں میں ملک کا تجارتی خسارہ 100 فیصد بڑھ کرتقریباً 25 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ چھ مہینوں میں تجارتی خسارہ 25 ارب ڈالر تھا اور اگر اس حساب سے دیکھا جائے تو یہ سال کے اختتام پر 48 سے 50 ارب ڈالر ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر درآمدات میں کمی کا رجحان آیا ہے تو اس حساب سے بھی تجارتی خسارہ 40 ارب ڈالر تک جا سکتا ہے جو پاکستان کے بیرونی تجارت کے شعبے کے لیے بہت الارمنگ ہے۔
تجارتی خسارے میں اس بے تحاشہ اضافے کی وجہ ملکی درآمدات میں ساٹھ فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہے جو چھ مہینوں میں تقریباً 40 ارب ڈالر ہو چکا ہے۔ پاکستان کے تجارتی خسارے میں 100 فیصد اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں بگاڑ کی وجہ سے بے پناہ مشکلات کا شکار ہے اور اسکے باعث رقم کے حصول کے لیے اسے بیرونی ذرائع اورآئی ایم ایف جیسے پروگرامز پرانحصار ہے، جو اپنی سخت شرائط کی وجہ سے پہلے ہی ملک میں مہنگائی کی لہر کو جنم دے چکا ہے، جوحکومتی پالییسوں اور مرکزی بینک کی جانب سے لیے جانے والے اقدامات کے باوجود مسلسل بڑھ رہا ہے اور پاکستان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے

حکومت کے پاس عملی طور پر کوئی مربوط اور جامع حکمت عملی نہیں۔اگر تجارتی خسارہ جی ڈی پی کے مقابلے میں چار فیصد سے زائد ہونا شروع ہو جائے تو یہ ملکی معیشت کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں سخت اصلاحات تو متعارف نہیں کرائی جا سکیں کہ وہ معیشت کو بہتر بنا سکیں اور مقامی پیداوار کو بڑھا سکیں، اس لیے تجارتی خسارہ درآمدات کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔ اس سال پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کے لیے 23 ارب ڈالر کی ضرورت ہے، آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کی قسط کے اجرا کیلیے سخت شرائط پر رضامندی اختیار کی جسکے جاری ہونے کے بعد دوسرے بین الاقوامی مالیاتی اداروں جیسے عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے قرضے کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہو گا۔
ضروری ہے کہ ملک کے اندر تیار ہونے والی مصنوعات سرپلس ہوں اور انھیں بیرونی ملک بھی برآمد کیا جا سکے، تاکہ سرمایہ ڈالرز کی صورت میں ملک میں لایا جاسکے،جس سے پیداواری شعبہ زیادہ متحرک ہوگااورترقی کی رفتار بڑھنے سے ملکی معیشت کی شرح نمو بڑھے گی اورلوگوں کیلیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہونگے۔ یوں برآمدات میں اضافہ درآمدات سے زیادہ ہو نے کی صورت میں نہ صرف تجارتی توازن سرپلس ہوگا بلکہ ڈالر کے مقابلہ میں پاکستانی روپے پر بھی دباؤ کم ہوگا اور بہتر کرنسی تبادلہ ریٹ سے ناصرف مہنگائی پر قابو پایا جاسکے گا بلکہ بیرونی ملک ادائیگیوں کا توازن بھی بہتر ہوگا۔ اس مقصد کے لیے برآمدی شعبے کے بنیادی مسائل بھی ترجیح بنیادوں پر حل کیے جائیں، جسکی وجہ سے یہ شعبہ اس رفتار سے اپنی کارکردگی نہیں دکھا سکا۔ اسی طرح گیس اور بجلی کی قیمتوں پر قابو پانا انتہائی اھم ہے، جس نے اس شعبے کی لاگت میں اضافہ کیا اور اسکی بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقت کوکم کیا۔گورننس کےمسائل نے بھی برآمدات کی گروتھ میں زیادہ اضافہ نہیں کرنے دیا۔ ایکسپوڑز کیلیے فنانسنگ کی سہولت کا مسئلہ حل کرنا ضروری ہے، تاہم حکومت کی جانب سے ٹیمپوریری اکنامک ری فائنانسنگ فیسیلیٹی کے اجرا سے اس شعبے کو سہولت حاصل ہوئی، جسکے دائرہ کار کو مزید توسیع دے کر برآمدات کی نئی مارکیٹس میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ساتھ ٹیکسٹائل کے شعبے کو مراعات دے کر میشنری زیادہ درآمد کی جا رہی ہے لیکن یہ عمل پائیدار نہیں ہے، ضروری ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی کا بجٹ بڑھا کرملکی سطح پربہتر ٹیکنالوجی اوروسائل سے میشنریز تیار کی جائیں، اس سے ناصرف مقامی صنعت سازی پروآن ہوگی بلکہ خطیر زرمبادلہ بچا کے معیشت کو استحکام ملے گا۔
اگرچہ اس وقت ترسیلات زر کی وجہ سے پاکستان کو فائدہ ہو رہا ہے وگرنہ جس رفتار سے تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے وہ پاکستان کے جاری کھاتوں کے خسارے کو بے پناہ بگاڑ سکتا ہے۔ اگرچہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بہت ساری درآمدی مصنوعات پر 100 فیصد کیش مارجن لگا دیا ہے تاہم اسکے باوجود کھانے پینے کی اشیا کی غیر ضروری درآمد رک پائیں، لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ کھانے پینے کی اشیا کی غیر ضروری درآمد پر مکمل آبادی عائد کرکے ملکی سطح پر ان اشیا کی پیداوار میں اضافہ کیلیے ترغیب، مراعات اور ماحول دیا جائے، جس سے ناصرف تجارتی خسارہ کم اور توازن ادائیگی بہتر ہوگا بلکہ برآمدات کی نئی مارکیٹس میں بھی اضافہ ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں