46

برکتوں والی رات شبِ برات- تحریر- رخسا نہ اسد لاہور

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا شعبان شھری و رمضان شھر اللہ (شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے) مزید فرمایا کہ جو شعبان میں اچھی تیاری کرے گا اسکا رمضان اچھا گزرے گا اور وہ ماہ رمضان کی برکتوں اور سعادتوں سے لطف اندوز اور بہرہ مند ہوگا ۔ شعبان المعظم کا پورا ماہ بابرکت و باسعادت اور حرمت و تعظیم والا مہینہ ہے لیکن اس مہینہ کو بطور خاص کچھ فضیلتیں ، امتیازات اور شرف عطا کئے گئے، یہ مہینہ ’’شہر التوبہ‘‘ بھی کہلاتا ہے اس لئے کہ توبہ کی قبولیت اس ماہ میں بڑھ جاتی ہے ۔ اس ماہ میں مسلمانوں پر برکتوں کا اضافہ کر دیا جاتا ہے ۔ اس لئے یہ ماہ اس کا حقدار ہے کہ دیگر مہینوں سے بڑھ کر اس میں اللہ کی اطاعت و عبادت اختیار کی جائے ۔ بزرگانِ دین نے فرمایا ہے کہ جو لوگ اپنی جان کو اس مہینہ میں ریاضت و محنت پر تیار کر لیں گے وہ ماہ رمضان المبارک کی جملہ برکتوں اور سعادتوں کو کامیابی کے ساتھ حاصل کریں گے ۔ اس بناء پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ رمضان کے بعد سال کے 12 مہینوں میں سب سے زیادہ روزے اس ماہ رکھتے تھے ۔ اس ماہ کی ایک خاص امتیازی خصوصیت 15 شعبان المعظم کی رات ہے ۔ اس رات کو اللہ نے ’’لیلتہ مبارکہ‘‘ ’’برکت والی رات‘‘ کہا ہے ۔ علماء ، مشاءخ، آئمہ، مفسرین کی اکثریت کا نقطہ نظر یہ ہے کہ شب قدر کے بعد سال کے 12 مہینوں میں سب سے زیادہ افضل شب برات ہے ۔ ارشاد فرمایا ۔ ’’اہل کتاب میں ایک گروہ ایسا ہے جو دین پر قائم ہے‘ وہ رات کے اوقات میں آیات الہٰی کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدے کرتے ہیں ۔ شعبان المعظم کی پندرہویں رات کو شب برات کہا جاتا ہے ۔ برات کا مطلب نجات کی رات ہے ۔ اس رات کی خصوصیت یہ ہے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو اپنی خصوصی رحمت سے نوازتا ہے اور اس رات ہر امر کا فیصلہ ہوتا ہے اور اللہتعالیٰ مخلوق میں تقسیم رزق فرماتا ہے ۔ اس کے علاوہ پورے سال میں اْن سے سرزد ہونے والے اعمال اور پیش آنے والے واقعات سے اپنے فرشتوں کو باخبر کرتا ہے ۔ انسان اتنا بے حس ہے کہ اقبال کے روپ میں کہتا ہے‘ روزحشر میں بے خوف گھس جاءوں گا‘ جنت میں وہاں سے آیا تھا آدم وہ میرا باپ کا گھر ہے ۔ لیکن خدا تعالیٰ نے بھی کیا خوب جواب دیا کہ’’ اِن اعمال کے ساتھ تو جنت کا طلب گار ہے کیا،وہاں سے نکلے گئے تھے آدم تو تیری حیثیت ہے کیا‘‘ ۔ حضور ایسی ہی بے خوف امت کے لیے ارشاد فرماتے ہیں : اٹھو شعبان مہینہ کی پندرہویں رات کو‘ یہ رات مبارک ہے فرماتا ہے اللہ تعالیٰ اس رات کو ہے کوئی ایسا جو بخشش چاہتا ہو‘ مجھ سے تاکہ میں بخش دوں اور تندرستی مانگے تو تندرستی دوں اورہے کوئی محتاج کہ آسودہ مالی چاہتا ہو تاکہ اْس کو آسودہ کروں چنانچہ صبح تک ہی ارشاد ہوتا ہے ۔ جیسے سورۃ رحمن میں ہے کہ اے لوگو! اور تم خدا کی کن کن رحمتوں کو جھٹلاءوں گے ۔ حضرت علی;230; سے روایت ہے کہ حضور اقدس نے ارشاد فرمایا کہ نصف شعبان کی رات میں اللہ تعالیٰ قریب ترین آسمان کی طرف نزول فرماتا ہے اور مشرک دل میں کینہ رکھنے والے اور رشتہ داروں کو یا منقطع کرنے والے اور بدکار عورت کے سوا تمام لوگوں کو بخش دیتا ہے ۔ اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتا ہے ۔ ہماری بارگاہ کے حکم سے، بے شک ہم ہی بھیجنے والے ہیں ۔ (یہ) آپ کے رب کی جانب سے رحمت ہے، بے شک وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے ۔ آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے (اسکا) پروردگار ہے، بشرطیکہ تم یقین رکھنے والے ہو اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہی زندگی دیتا اور موت دیتا ہے (وہ) تمہارا (بھی) رب ہے اور تمہارے اگلے آباوَ اجداد کا (بھی) رب ہے‘‘ ۔ ۔ ‘ اس کے ساتھ ساتھ ابونصر نے بالا سناد مروہ سے روایت کی کہ حضورپاک ;248; نے فرمایا اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات میں دنیا کے آسمان پر جلوہ فرما ہوتا ہے اور اپنی کلب کی بکریوں کے بالوں کے شمار سے زیادہ لوگوں کی بخشش فرما دیتا ہے ایک اور جگہ حضرت عائشہ ;230; سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے مجھ سے فرمایا! عائشہ یہ کونسی رات ہے;238; انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی بخوبی واقف ہیں ۔ حضور;248; نے فرمایا یہ نصف شعبان کی رات ہے ۔ اس رات میں دنیا کے اعمال‘ بندوں کے اعمال اوپر اٹھائے جاتے ہیں ‘ ان کی پیشی بارگاہ رب العزت میں ہوتی ہے ۔ تو کیا تم آج کی رات مجھے عبادت کی آزادی دیتی ہو;238; میں نے عرض کیا ضرور! پھر آپ نے نماز پڑھی اور قیام میں تخفیف کی‘ سورت فاتحہ اور ایک چھوٹی سورت پڑھی‘ پھر آدھی رات تک آپ سجدے میں رہے ۔ پھر کھڑے ہو کر دوسری رکعت پڑھی اور پہلی رکعت کی طرح اس میں قرات فرمائی اور پھر سجدے میں چلے گئے‘ یہ سجدہ فجر تک رہا‘ میں دیکھتی رہی مجھے یہ اندیشہ ہو گیا کہ اللہتعالیٰ نے اپنے رسول کی روح مبارک قبض فرمالی ہے ۔ پھر جب میرا انتظار طویل ہوا تو میں آپ کے قریب آئی اور میں نے حضور کے تلوءوں کو چھوا تو حضور نے حرکت فرمائی میں نے خود سنا کہ حضور سجدے کی حالت میں یہ الفاظ ادا فرمارہے تھے‘‘ الہٰی میں تیرے عذاب سے تیری عفو اور بخشش کی پناہ میں آتا ہوں ‘ تجھ سے ہی پناہ چاہتا ہوں ‘ تجھ سے ہی تیری رضا کی پناہ چاہتا ہوں تیری ذات بزرگ ہے‘ میں تیری شایان شان ثنا بیان نہیں کر سکتا تو ہی آپ اپنی ثناء کرسکتا ہے ۔ ‘‘صبح کو میں نے عرض کیا کہ آپ سجدے میں ایسے کلمات ادا فرمارہے تھے کہ ویسے کلمات میں نے آپ کو کہتے کبھی نہیں سنا ۔ آپ نے دریافت فرمایا;238; کیا تم نے یاد کر لیے ہیں ‘ میں نے عرض کی جی ہاں آپ نے فرمایا خود بھی یاد کرلو اور دوسروں کو بھی سکھا دو ۔ کیونکہ جبرئیل علیہ السلام نے مجھے ان کلمات کو ادا کرنے کا حکم دیا تھا ۔ اگر اس رات (نماز خیر) پڑھی جائے تو انسان کے ستر گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس کی 100رکعتیں ہیں ہر رکعت میں 10مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھی جائے اس طرح 100رکعتوں میں ایک ہزار سورۃ اخلاص پڑھی جائے گی ۔ اس نماز کی بہت برکت ہیں ۔ اس کے علاوہ اس شب میں قرآن شریف‘ درود شریف‘ صلوٰۃ التسبیح اور دیگر نوافل پڑھیں ۔ پھر روزہ رکھیں ۔ اللہ اپنے حبیب پاک کے صدقہ میں تمام مسلمانوں کو خلوص کے ساتھ نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے اورلیلتہ مبارکہ نیک عمل کرکے حضور پاک کوراضی فرماکے دنیاوآخرکے حقداربنیں تاکہ آخرت میں اپنے آقا;248; کے سامنے رسوانہیں بلکہ چہرے پرمسکان ہو(آمین)
٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں