27

جامعہ کراچی میں انشورنس، رجسٹریشن نہ ہونے سے 8 نئی بسیں بیک یارڈ کی زینت بن گئی

جامعہ کراچی کے شعبہ فنانس کی غفلت و لاپرواہی اور فنانشل منیجمنٹ سے عدم آگہی اپنے عروج پر جا پہنچی ہے، زرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایچ ای سی کی خصوصی گرانٹ سے خریدی گئی 8 نئی بسیں رجسٹریشن اور انشورنس نہ ہونے کے سبب یونیورسٹی کے شعبے ایچ ای جے ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں کئی ماہ سے کھڑی ہیں۔
تقریباً 10 کروڑ روپے سے خریدی گئی ان نئی 8 بسوں کی انشورنس اور رجسٹریشن کی مد میں تقریباً 80 لاکھ روپے کی رقم درکار ہے اور 14 کروڑ روپے سے لیوو انکیشمنٹ جاری کرنے والا شعبہ فنانس طلبہ کے لیے خریدی گئی ان بسوں کے لیے 80 لاکھ روپے جاری کرنے کے لیے تیار نہیں جس کے باعث یہ نئی بسیں شہر کے مختلف علاقوں کو چلنے والی جامعہ کراچی کی شٹل سروس کے ’’فلیٹ‘‘ میں شامل نہیں ہو پا رہی۔
ادھر دوسری جانب کیمپس کے اندر چلنے والی شٹل سروس میں سے ایک سافیر نامی کمپنی نے اپنی خدمات ختم کر دی ہیں جبکہ این ٹی ایس ٹیکنالوجیز کے نام سے دوسری کمپنی الیکٹرک آپریٹریڈ صرف 4 شٹل کارٹ چلا رہی ہے اور یوں جامعہ کراچی کے 42 ہزار طلبہ کے لیے کیمپس کے اندر 4 شٹل کارٹ اور کیمپس سے باہر صرف 22 بسیں دستیاب ہیں۔
آٹھ نئی بسوں کی خریداری کے حوالے سے جامعہ کراچی کے معتبر ترین ذرائع نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ سابق وائس چانسلر مرحوم ڈاکٹر اجمل خان کے دور میں سال 2017 میں ایچ ای سی نے 10 نئی بسوں کی خریداری کے لیے 8 کروڑ روپے جاری کیے تھے اور اس وقت ایک بس کی قیمت 85 لاکھ روپے تھی تاہم یونیورسٹی کے شعبہ فنانس کی جانب سے بسوں کی فوری خریداری کے بجائے اس رقم کو متعلقہ مد میں استعمال ہی نہیں کیا گیا اور بسوں کی قیمت ڈالر کی اڑان کے سبب مسلسل بڑھتی رہی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں