5

جمائمہ نے کس پاکستانی روایت سے متاثر ہو کر فلم لکھی؟

چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کی سابقہ اہلیہ، برطانوی اسکرین رائٹر جمائمہ گولڈ اسمتھ کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے اپنی نئی فلم ’واٹس لوو گوٹ ٹو ڈو وِد اِٹ‘ میں خوبصورت پاکستانی تہذیب کے رنگوں کو اجاگر کیا ہے۔
جمائمہ گولڈ اسمتھ نےآسٹریلوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب 30 برس کی ہونے کے بعد برطانیہ واپس گئی تو اس فلم کو بنانے کا ارادہ اپنے دوستوں کے ساتھ بات چیت کے دوران مذاق میں کیا۔
اُنہوں نے بتایا کہ میرے سابق شوہر کا خاندان کافی قدامت پسند ہے اس لیے میں پاکستان میں ان کے والد، ان کی بہنوں، بہنوں کے شوہروں اور بچوں کے ساتھ 24 افراد پر مشتمل مشترکہ خاندان کے گھر میں رہتی تھی۔
جمائمہ نے بتایا کہ میں نے پاکستان میں ارینج میریج کی روایت کو قریب سے دیکھا، وہ طویل مدتی شادیاں تھیں اور میں وہ شادیاں کروانے کی کمیٹی میں بھی شامل تھی۔
اُنہوں نے بتایا کہ ان شادیوں میں سے کچھ شادیاں حیرت انگیز طور پر میرے تصورات کے مطابق کامیاب رہیں، چنانچہ جب میں 30 برس کی ہونے کے بعد برطانیہ واپس آئی تو میرے دوست اپنی زندگی کے اس حصّے میں تھے جہاں وہ شادی کے بعد بچے پیدا کرنے اور اپنی فیملی کا آغاز کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔
جمائمہ نے بتایا کہ ہم دوست اس بارے میں بات کر رہے تھے کہ کیا آپ نے ایسے والدین کو دیکھا ہے جو اپنے بچوں کے لیے پارٹنر خود تلاش کریں، یہ موضوع کہ محبت شادی کے بعد ہوتی ہے ہمارے لیے بالکل مختلف نظریہ تھا جس نے مجھے میری یہ نئی فلم لکھنے کے لیے کافی متاثر کیا اور مجھے لگا کہ میرے پاس اس موضوع پر کہنے کو بہت کچھ ہے۔
اُنہوں نے اپنی نئی فلم کو ’روم- کوم پاکستان‘ کا نام دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے اپنی اس فلم میں پاکستانی معاشرے کے مثبت پہلو کو اجاگر کیا ہے، سیاست کے اندھیروں سے ہٹ کر آپ اس فلم میں اسکرین پر زندگی کے رنگوں اور خوشیوں سے بھرپور پاکستان دیکھیں گے۔
جمائمہ نے یہ بھی کہا ہے کہ خاص طور پر امریکا اور برطانیہ میں لوگ پاکستان کو مسائل میں گھری ایک تاریک جگہ کے طور پر دیکھنے کے عادی ہیں لیکن اس فلم میں رنگوں سے بھرپور وہ پاکستان دکھائی دے گا جہاں میں کئی سال رہی، جس پاکستان سے مجھے محبت ہوئی اور دیکھنے والوں کو یقیناً یہ سب دیکھ کر اچھا لگے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں