47

جوبائیڈن نے نجی اور سیاسی زندگی کیسی گزاری؟

نومنتخب امریکی صدر جوزف بائیڈن آج اپنے منصب کا حلف اٹھائیں گے، ان کی نجی اور سیاسی زندگی کے سفر میں اہم واقعات پیش آئے ہیں جس پر قارئین کے لیے مختصراً ایک رپورٹ مرتب کی گئی ہے۔

جو بائیڈن 20 نومبر 1942 ء میں ریاست پینسلوینیا کے قصبے سکرینٹن میں عام محنت کش والدین کے ہاں پیدا ہوئے، انہوں نے 1968 ء میں سری کیویز یونی ورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔

بائیڈن نے 1966 ء میں دوران تعلیم ہی Neilia Hunter سے شادی کرلی جس سے ان کے یہاں دو بیٹے اورایک بیٹی، Beau، ہنٹر اور Naomi پیدا ہوئے، اس کے بعد 1977 ء میں Jill Jacobs سے دوسری شادی کی جس سے ان کے یہاں دوسری بیٹی Ashley بائیڈن کی ولادت ہوئی۔
سال 2015 ء میں جو بائیڈن کے جواں سال بیٹے بیو بائیڈن 46 برس کی عمر میں دماغ کے کینسر کا شکار ہوکر چل بسے۔

2009 ء میں امریکا کے 47 ویں نائب صدر منتخب ہونیوالے جوزف بائیڈن صدر اوباما کے دونوں ادوار میں ان کے نائب صدر رہے، اوباما اور ان کے درمیان مثالی دوستی کو امریکی میڈیا میں بے پناہ کوریج ملی۔

2017 ء میں اپنے دورِ اقتدار کے اختتام پر صدر براک اوباما نے انہیں امریکا کے اعلیٰ ترین اعزازات میں سے ایک صدارتی میڈل آف فریڈم سے نوازا۔

جو بائیڈن کی سیاست کا آغاز 1972 ء میں ریاست ڈلاوئیر سے ڈیموکریٹک پارٹی سے سینیٹ کے انتخابات میں کامیابی کے ساتھ ہوا۔

انہوں نے اس وقت ریپبلکن پارٹی کے ایک مضبوط امیدوار جے کیلِب بوگس کو غیر متوقع طور پر تھوڑے سے فرق کے ساتھ شکست دی تھی جس کے نتیجے میں بائیڈن امریکا کی تاریخ کے پانچویں کم عمر سینیٹر منتخب ہوئے۔

وہ سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھانے والے تھے کہ ان کی بیوی اور 3 بچے کار کے ایک حادثے کا شکار ہوئے، حادثے میں اُن کی بیوی نیلیہ اور 13 ماہ کی بیٹی نیومی موقعے پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ دونوں بیٹے شدید زخمی حالت میں اسپتال لائے گئے،

اس صوتحال میں جو بائیڈن نے بچوں کے بیڈ کے ساتھ کھڑے ہو کر سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھایا۔

اس کے بعد انہوں نے سینیٹ کے جتنے بھی انتخابات لڑے ان سب میں کامیاب ہوئے، ان کے حلقے کے لوگوں نے انہیں اس المیے کے بعد غیر رسمی طور پر اپنا ایک مستقل نمائندہ قرار دے دیا۔

جو بائیڈن کو نظریاتی طور پر ایک معتدل سیاستدان کے طور پر دیکھا جاتا ہے، تاہم بعض مبصرین کے مطابق جو بائیڈن نے اکثر موقعوں پر اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی کی پیروی کی۔

بائیڈن سینیٹ کی اہم کمیٹیوں کے رکن رہے اور پھر کافی عرصے تک خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔

انہوں نے روس کے ساتھ اسلحے کی دوڑ پر قابو پانے کا بھی معاہدہ کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔

جو بائیڈن نے عراق جنگ کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن بعد میں اسے اپنی غلطی تسلیم کیا، نائب صدر کے لئے ان کی ساتھ ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرِس نے ماضی میں ان پر کڑی تنقید کی تھی۔

انہوں نے 1988 ءاور 2007 ء میں صدارتی امیدواروں کی دوڑ میں حصہ لیا لیکن جلد ہی دستبردار ہوگئے۔

بائیڈن کے حمایتیوں کو امید ہے کہ وہ ٹرمپ دور کی تاریخی نوعیت کی بدترین نظریاتی تقسیم کا شکار امریکا کو دوبارہ جوڑنے میں معاون ثابت ہونگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں