15

جہنم کا دروازہ بند کرنےکیلئے مدد لینے کا فیصلہ

وسط ایشیائی ملک ترکمانستان میں موجود آتشی گڑھے، المعروف ’’جہنم کا دروازہ‘‘ بند کرنے کی تمام تر مقامی کوششیں ناکام ہوگئیں۔
واضح رہے کہ اس گڑھے میں پچاس برس سے آگ بھڑک رہی ہے۔ اس دوران اربوں ڈالر مالیت کی قدرتی گیس ضائع ہو چکی ہے۔ جبکہ اندرونی درجہ حرارت ایک ہزار سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔ مقامی ماہرین کی بار ہا ناکامیوں کے بعد ترکمانی صدر نے آگ بجھانے کیلئے غیر ملکی فرمز سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
مقامی جریدے ’’ترکمانستان‘‘ کے مطابق صدر قربان قلی نے حالیہ احکامات میں اس گڑھے کو پاٹنے اور گیس کے ضیاع کو روکنے کی نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس آتشی گڑھے کی چوڑائی چند میٹرز تک تھی۔ لیکن مسلسل آگ بھڑکنے کی وجہ سے اب اس کی چوڑائی 70 میٹر اور گہرائی 30 میٹر ہو چکی ہے۔ ماضی میں ترکمان حکومت نے اس مقام پر عوام کے جانے پر پابندی لگا کر سیکورٹی سخت کردی تھی۔ لیکن چند برسوں سے سیاحتی سرگرمیوں کی اجازت دے دی گئی تھی۔ اب سالانہ ہزاروں سیاح یہ آتشی گڑھا دیکھنے آتے ہیں۔ خاص طور پر سرد موسم میں یہاں سیاحتی سرگرمیاں عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔ جو ٹورسٹ گائیڈز، آپریٹرز اور مقامی سہولت کنندگان کی کمائی کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں