60

خواتین جو مرضی پہنیں ریپ کرنے والا ہی ذمہ دار ہے، عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خواتین جو مرضی پہنیں لیکن جو شخص ریپ کرتا ہے وہی اسکا ذمہ دار ہے، میرے خواتین کے لباس سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔

امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے پردے کا لفظ استعمال کیا، پردے کا مطلب صرف لباس نہیں، پردہ صرف خواتین کے لیے ہی نہیں ہے، مردوں کے لیے بھی ہے، اسلام خواتین کو عزت و احترام دیتا ہے۔ اسلام میں پردے کا مقصد بگاڑ کو روکنا ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستانی معاشرے میں جنسی جرائم میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، جنسی جرائم کو صرف خواتین سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ صرف خواتین نہیں بچے بھی جنسی جرائم کا شکار ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں زیادتی کے واقعات کا موازنہ مغرب سے کیا جاتا ہے، پاکستان میں زیادتی کے واقعات مغرب کے مقابلے میں کم ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان میں خانہ جنگی کے خدشات ہیں، سیاسی تصفیہ ہی افغانستان کے مسئلے کا حل ہے، اگر سیاسی تصفیہ نہیں ہوتا تو افغانستان میں سول وار ہوسکتی ہے اور ایسا ہوتا ہے تو بھیانک صورتحال ہوگی۔

انٹرویو میں عمران خان نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہوا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی معیشت کو 150ارب ڈالر کا نقصان ہوا، پاکستان کی معیشت مزید افغان مہاجرین کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اشرف غنی کو انتخابات میں تاخیر کرنی چاہیے تھی، افغانستان کا پاکستان پر جہادی بھیجنے کا الزام احمقانہ ہے، افغانستان جہادی بھیجنے کے ثبوت کیوں نہیں فراہم کرتا۔ الزام لگایا گیا کہ ہم نے طالبان کو محفوظ ٹھکانے دیئے ثبوت کہاں ہیں، نائن الیون کے بعد امریکا کا ساتھ دیا تو ملک بھر میں خودکش حملے ہوئے۔ ہم ا فغانستان میں امن چاہتے ہیں کسی محاذ آرائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے، پاکستان نے افغان جنگ کا حصہ بن کر 70 ہزار جانیں قربان کیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اب کسی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، پاکستان اب مزید کسی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا، ملکی معیشت کی بحالی چاہتے ہیں، دوبارہ جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ جب پاکستانی حکومت نے امریکی جنگ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو ملک تباہ ہوگیا، ہماری اقتصادی قوت ایسی نہیں کہ مزید افغان پناہ گزین برداشت کرسکیں، ابتر صورتحال کی وجہ سے خانہ جنگی پاکستان میں امڈ سکتی ہے۔ طالبان جنگجو نہیں عام شہری کی طرح ہیں، انہیں کیسے تلاش کیا جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جارہا ہے، پاکستان کا موقف واضح ہے کہ امریکا اور طالبان مذاکرات کی میز پر آئیں، امریکا اور طالبان کو ایک میز پر لانے کے لیے ہم نے کردار ادا کیا۔ افغان عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس قسم کی حکومت چاہتے ہیں، سب نے دیکھا افغان مسئلے کا فوجی حل ناکام ہوا، جب کہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں تو مجھے طالبان خان کہا گیا۔

عمران خان نے کہا کہ جب افغانستان میں 150 ہزار نیٹو فوجی تھے وہ وقت تھا کہ کوئی سیاسی حل نکالا جاتا، جب افغانستان سے انخلا کی تاریخ دی گئی تو طالبان نے سوچا کہ وہ جنگ جیت گئے، اب مشکل ہے کہ طالبان کو کسی سیاسی حل کی طرف لایا جائے، طالبان سمجھتے ہیں وہ جیت چکے۔ امریکا نے افغانستان میں ستیاناس کردیا، امریکا جس مقصد کے لئے بھی افغانستان گیا اس کا طریقہ کار ٹھیک نہیں تھا۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں تھا، القاعدہ افغانستان میں تھی، جنگجو طالبان پاکستان میں نہیں تھے، نائن الیون حملوں میں کوئی پاکستانی شامل نہیں تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں