15

رسالت مآب ﷺ کی سیرتِ مبارکہ بہترین نمونہ ( تحریر. میاں عصمت رمضان )

رسالت مآب ﷺ کی سیرتِ مبارکہ بہترین نمونہ
مسلمانوں کے لیے جنابِ رسالت مآب ﷺ کی سیرتِ مبارکہ وہ بہترین نمونہ ہے جس پر عمل پیرا ہو کر وہ دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ آپؐ کی پاک زندگی میں ہر طبقۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے ہدایت و رہنمائی موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگ آپؐ کی پاک سیرت کا مطالعہ کریں اور پھر مختلف پہلوؤں کے حوالے سے اس بات کا جائزہ لیں کہ آج کے حالات میں وہ اپنی زندگیوں کو آپؐ کی حیاتِ اقدس سے روشنی لے کر کیسے منور کرسکتے ہیں اور اپنے زندگیوں پر چھائے ہوئے اندھیروں کو کیسے دور کرسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں بنیادی بات یہی ہے کہ لوگوں کو عمر کے ہر درجے، ہر حصے اور ہر مرحلے میں جنابِ رسول مکرم ﷺ کی پاک زندگی کے بارے میں ایسی معلومات فراہم کی جائیں جو ان کے لیے مشعلِ راہ بنیں اور وہ ان کی مدد سے اپنے اقوال و افعال کا جائزہ لیتے ہوئے خود کو سنواریں۔
اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے ایک ایسا تاریخی اقدام کیا ہے جو واقعی لائق تحسین اور قابل ستائش ہے۔ ان کی طرف سے قومی سطح پر قائم کی جانے والی رحمۃ للعالمینؐ اتھارٹی کا ایک ایسا فورم ہے جسے پاکستان کے معاشرتی ڈھانچے میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لیے ایک بڑے اور اہم پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ عشرۂ رحمۃ للعالمینؐ کی تقریبات کے سلسلے میں ہونے والی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نبی آخر الزماں ﷺ کی سیرتِ طیبہ کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ زندگی میں دو راستے ہوتے ہیں، ایک راستہ ناجائز دولت کمانے کا اور دوسرا سیرتِ النبیؐ پر عمل کرنے کا ہے۔ اللہ ہمیں نبی کریم ﷺ کی زندگی سے سیکھنے کا کہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم آج نبی اکرم ﷺ کا یومِ ولادت منانے کے لیے پروگرام کا آغاز کررہے ہیں۔ ہم ریاستِ مدینہ کے اصولوں پر عمل کریں گے تو ملک ترقی کرے گا۔ عمران خان نے کہا کہ عید میلادالنبیؐ سب مناتے ہیں لیکن نبی پاکؐ کی سیرت پر عمل نہیں کرتے۔ رحمۃ للعالمینؐ اتھارٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اتھارٹی کے قیام کا مقصد بچوں اور نوجوانوں کو نبی اکرم ﷺ کی سیرت سے متعلق آگاہ کرنا ہے۔ اتھارٹی کے لیے چیئرمین کی تلاش شروع کردی ہے اور اس عہدے پر ہم ایسا بندہ لگائیں گے جس نے سیرتِ طیبہ کے حوالے سے تحقیق و تصنیف کا بہت کام کیا ہو اور وہ اس حوالے سے شہرت رکھتا ہو۔

وزیراعظم کی جانب سے اس اتھارٹی کا قیام ایک ایسا اقدام ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے لیکن اس حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارے حکمران، بااثر اور طاقتور طبقات کو سیرتِ طیبہ سے سب سے زیادہ رہنمائی لینے کی ضرورت ہے کیونکہ ملک میں اس وقت استحصال اور ظلم و ستم کی جتنی بھی شکلیں رائج ہیں ان سب پر قابو پانے کا کام بہرطور ان طبقات نے ہی کرنا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں اس وقت ایک طرف تو مہنگائی اور بے روزگاری جان کا عذاب بنی ہوئی ہیں تو دوسری جانب قانون و انصاف کے نظام کی معاشرے میں توازن قائم کرنے میں ناکامی عوام کے لیے سوہانِ روح بنی ہوئی ہے۔ اگر عمران خان واقعی چاہتے ہیں کہ ملک میں حقیقی طور پر کوئی مثبت تبدیلی آئے تو انہیں چاہیے کہ سب سے پہلے وہ وفاقی اور صوبائی سطح پر اختیار رکھنے والے تمام افراد کو اس بات کے لیے آمادہ کریں کہ وہ جنابِ رسالت مآب ﷺ کی سیرتِ پاک کا مطالعہ کریں اور اس کی روشنی میں اپنے اعمال اور کردار کا جائزہ لیں اور پھر یہ دیکھیں کہ وہ کیا ایسا کرسکتے ہیں جس سے معاشرے میں مثبت تبدیلی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم میں برائی جب پھیلتی ہے تو اس کا آغاز اوپر کے طبقات سے ہوتا ہے اور پھر وہ آہستہ آہستہ پورے معاشرے میں سرایت کر جاتی ہے۔ اسی طرح اچھائی کے فروغ کا کام بھی معاشرے کے ان افراد سے شروع ہوتا ہے جو اقتدار، قوت اور اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ اس لیے رحمۃ للعالمینؐ اتھارٹی کے تحت سب سے پہلے ہمارے ملک میں قوت اور طاقت رکھنے والے افراد کو ہی سیرتِ رسولِ مکرم ﷺ کا مطالعہ کرایا جانا چاہیے تاکہ ملک میں مثبت تبدیلی کی داغ بیل پڑ سکے۔ پھر اس کے بعد ہم دیکھیں گے کہ باقی طبقات بھی سدھر جائیں گے کیونکہ انہیں یہ پتا ہوگا کہ اب معاشرے میں منفی اثرات پھیلانے کے لیے کیے جانے والے کسی بھی کام کو قبول نہیں کیا جائے گا اور اس پر سخت کارروائی ہوگی۔ اگر ہمارے مقتدر اور بااثر طبقات سیرتِ طیبہ کی روشنی میں اپنی اصلاح نہیں کرتے تو پھر ایسی کسی بھی اتھارٹی کا قیام اتنا سود مند ثابت نہیں ہو پائے گا جتنی وزیراعظم عمران خان اس سے توقع لگائے ہوئے ہیں اور یوں معاشرے کو درست سمت میں لے جانے کے لیے کیا جانے والا ایک انتہائی احسن فیصلہ بے اثر ہو کر رہ جائے گا۔ وزیراعظم اگر مقتدر اور بااثر طبقات کو اس بات پر آمادہ کرلیں کہ وہ سیرتِ پاک کی روشنی میں اپنے اعمال اور کردار کا جائزہ لے کر اپنی اصلاح کریں تو یہ ان کا ایک ایسا اقدام ہوگا جس کے باعث ان کا نام اس ملک کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری الفاظ میں درج کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں