38

رمضان المبارک کیسے گزاریں، استقبال رمضان کاصحیح طریقہ

کراچی:ٹیوٹرپاکستان (تحریر: محمد تقی عثمانی) انشاء اللہ چند روز کے بعد رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہونے والا ہے، اور کون مسلمان ایسا ہو گا جو اس مہینے کی عظمت اور برکت سے واقف نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مہینہ اپنی عبادت کے لئے بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نامعلوم کیا کیا رحمتیں اس مہینہ میں اپنے بندوں کی طرف مبذول فرماتے ہیں۔ ہم ان رحمتوں کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

اس مہینے کے اندر بعض اعمال ایسے ہیں۔ جن کو ہر مسلمان جانتا ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے ۔ مثلاً اس ماہ میں روزے فرض ہیں۔ الحمد للہ۔ مسلمانوں کو روزہ رکھنے کی توفیق ہو جاتی ہے۔ تراویحکے بارے میں معلوم ہے کہ یہ سنت ہے، مسلمانوں کو اس میں شرکت کی سعادت حاصل ہو جاتی ہے۔لیکن اس وقت کورونا وباء کی وجہ سے احتیاط لازم ہے۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ رمضان المبارک کی خصوصیت صرف یہ ہے کہ اس میں روزے رکھے جاتے ہیں اور تر اویح پڑھی جاتی ہے۔ اور بس، اس کے علاوہ اور کوئی خصوصیت نہیں۔ اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ یہ دونوں عبادتیں اس مہینے کی بڑی اہم عبادات میں سے ہیں۔ لیکن بات صرف یہاں تک ختم نہیں ہوتی، بلکہ در حقیقت رمضان المبارک ہم سے اس سے زیادہ کا مطالبہ کرتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ جل شانہ نے ارشاد فر مایا ہے کہ:’’ میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اور صرف ایک کام کیلئے پیدا کیا، وہ یہ کہ میری عبادت کریں‘‘۔ (سورۃ الذاریات:56)

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا بنیادی مقصد یہ بتایا کہ وہ اللہ کی عبادت کرے۔کیا اس کے لئے فرشتے کافی نہیں تھے؟یہاں بعض لوگ کہتے ہیں اگر انسان کی تخلیق کا مقصد صرف عبادت تھا، تو انسان کو پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ کام تو فرشتے پہلے سے بہت اچھی طرح انجام دے رہے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت تسبیح اور تقدیس میں لگے ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق فرمانے کا ارادہ کیا اور فرشتوں کو بتایا کہ میں اس طرح کا ایک انسان پیدا کرنے والا ہوں تو فرشتوں نے یہ کہا کہ آپ ایک ایسے انسان کو پیدا کر رہے ہیں جو زمین میں فساد مچائے گا اور خون ریزی کرے گا، اور عبادت ،تسبیح وتقد یس ہم انجام دے رہے ہیں۔ اس طرح آج بھی اعتراض کرنے والے اعتراض کر رہے ہیں کہ اگر انسان کی تخلیق کا مقصد صرف عبادت ہوتا تو اس کے لئے انسان کو پیدا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ کام تو فرشتے پہلے ہی انجام دے رہے ہیں۔

بیشک فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کر رہے تھے لیکن ان کی عبادت بالکل مختلف نوعیت کی ہے ۔ انسان کے سپرد جو عبادت کی گئی ہے وہ الگ نوعیت کی ہے ،فرشتے جو عبادت کر رہے تھے ان کے مزاج میں اس کے خلاف کرنے کا امکان ہی نہیں ہے۔ وہ اگر چاہیں کہ عبادت نہ کریں تو ان کے اندر عبادت چھوڑنے کی صلاحیت نہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر سے گناہ کرنے کا امکان ہی ختم فرما دیاہے ۔ انہیں بھوک لگتی ہے نہ پیاس ۔حتیٰ کہ ان کے دل میں گناہ کا وسوسہ کبھی نہیں گزرتا ، گناہ کی خواہش اور گناہ پر اقدام تو دور کی بات ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی عبادت پر کوئی اجر و ثواب بھی نہیں رکھا۔ کیونکہ اگر فرشتے گناہ نہیں کر رہے ہیں تو اس میں ان کا کوئی کمال نہیں اور جب کوئی کمال نہیں تو پھر جنت والا اجر و ثواب بھی مرتب نہیں ہوگا۔

مثلاً ایک شخص بینائی سے محروم ہے، جس کی وجہ سے ساری عمر اس نے نہ کبھی فلم دیکھی، نہ کبھی ٹی وی دیکھا۔ نہ کبھی غیر محرم پر نگاہ ڈالی۔ بتایئے کہ ان گناہوں کے نہ کرنے میں اس کا کیا کمال ظاہر ہوا؟ اس لئے کہ اس کے اندر ان گناہوں کے کرنے کی صلاحیت ہی نہیں۔ لیکن ایک دوسرا شخص جس کی بینائی بالکل ٹھیک ہے۔ جو چیز چاہے دیکھ سکتا ہے۔ لیکن دیکھنے کی صلاحیت موجود ہونے کے باوجود جب کسی غیر محرم کی طرف دیکھنے کاتقاضاء دل میں پیدا ہوتا ہے تو فوراً صرف اللہ تعالیٰ کے خوف سے نگاہ نیچی کر لیتا ہے۔ اب بظاہر دونوں گناہوں سے بچ رہے ہیں لیکن دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پہلا شخص بھی گناہ سے بچ رہا ہے۔ اور دوسرا شخص بھی گناہ سے بچ رہا ہے۔ لیکن پہلے شخص کا گناہ سے بچنا کوئی کمال نہیں اور دوسرے شخص کا گناہ سے بچنا کمال ہے۔لہٰذا اگر ملائکہ صبح سے شام تک کھانا نہ کھائیں تو یہ کوئی کمال نہیں اس لئے کہ انہیں بھوک ہی نہیں لگتی۔ انہیں کھانے کی حاجت ہی نہیں۔ لہٰذا ان کے نہ کھانے پر کوئی اجر و ثواب بھی نہیں۔ لیکن انسان ان تمام حاجتوں کو لے کر پیدا ہوا ہے لہٰذا کوئی انسان کتنے ہی بڑے سے بڑے مقام پر پہنچ جائے تب بھی وہ کھانے پینے سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ کفار نے انبیاء پر یہی اعتراض کیا ۔

تو کھانے کا تقاضاء انبیاء کے ساتھ بھی ہے۔ اب اگر انسان کو بھوک لگ رہی ہے۔ لیکن اللہ کے حکم کی وجہ سے کھانا نہیں کھا رہا ہے تو یہ کمال کی بات ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک ایسی مخلوق پیدا کر رہا ہوں، جس کو بھوک بھی لگے گی ، پیاس بھی لگے گی، اور اس کے اندر گناہ کرنے کے داعے کبھی ان کے اندر پیدا ہوں گے، لیکن جب گناہ کا داعیہ پیدا ہو گا، اس وقت وہ اللہ تعالیٰ کو یاد کر لے گا۔ اور اسے یاد کر کے اپنے نفس کو اس گناہ سے بچا لے گا۔ اس کی ہی عبادت اور گناہ سے بچنا ہمارے یہاں قدر و قیمت رکھتا ہے۔ جس کے اجر و ثواب اور بدلہ دینے کے لئے ایسی جنت تیار کر رکھی ہے۔ جس کی صفت ’’عرضھا السموت و الارض‘‘ ہے۔یہ انسان اللہ کے خوف اور عظمت کے تصور سے اپنی آنکھ کو گناہ سے بچا لیتا ہے۔ گناہوں کی طرف اٹھتے ہوئے قدموں کو روک لیتا ہے۔ تو یہ عبادت ہے یہ عبادت فرشتوں کے بس میں نہیں تھی۔ اس عبادت کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا۔

حضرت یوسف علیہ السلام کو جو فتنہ، زلیخا کے مقابلے میں پیش آیا۔ کون مسلمان ایسا ہے جو اس کو نہیں جانتا۔ زلیخا نے حضرت یوسف علیہ السلام کو گناہ کی دعوت دی۔ قرآن کریم یہ بتانا چاہتا ہے کہ گناہ کا خیال آ جانے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے خوف اور ان کی عظمت کے استحضار سے اس گناہ کے خیال پر عمل نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کر لیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ’’ میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ یہ عبادت ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا‘‘۔(سورۃ یوسف: 24)

جب انسان کا مقصد تخلیق عبادت ہے تو اس کا تقاضاء یہ تھا کہ جب انسان دنیا میں آئے تو عبادت کرے، چنانچہ دوسری جگہ قرآن کریم نے فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لئے‘‘۔(سورۃ التوبہ:111)

اور اس کا انعام آخرت میں جنت کی صورت میں ملے گیا۔ ہماری جانیں ہماری نہیں ہیں۔ جب یہ جان اپنی نہیں ہے تو اس کاتقاضاء یہ تھا کہ اس جان اور جسم کو سوائے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے کسی دوسرے کام میں نہ لگایا جائے۔ لہٰذا اگر ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم دیا جاتا ہے کہ تمہیں صبح سے شام تک دوسرے کام کرنے کی اجازت نہیں۔لیکن قربان جایئے ایسے خریدار پر کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری جان و مال کو خرید بھی لیا، اور اس کی قیمت بھی پوری لگا دی یعنی جنت، پھر وہ جان و مال میں واپس بھی لوٹا دیا کہ یہجان و مال تم اپنے پاس رکھ لو۔ اور ہمیں اس بات کی اجازت دے دی کہ کھاؤ ، پیو، کماؤ، اور دنیا کے کاروبار کرو۔ بس پانچ وقت کی نماز پڑھ لیا کرو اور فلاں فلاں چیزوں سے پرہیز کرو۔ باقی جس طرح چاہو، کرو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت اور عنایت ہے۔

اس ماہ میں اصل مقصد کی طرف آجاؤ

اللہ تعالیٰ بھی جانتے تھے کہ جب یہ انسان دنیا کے کاروبار اور کام دھندوں میں لگے گا تو رفتہ رفتہ اس کے دل پر غفلت کے پردے پڑ جایا کریں گے۔ اور دنیا کے کاروبار اور دھندوں میں کھو جائے گا تو اس غفلت کو دور کرنے کے لئے فوقتاً فوقتاً کچھ اوقات مقرر فرما دیئے ہیں۔ ان میں سے ایک رمضان المبارک کا مہینہ ہے۔ اس لئے کہ سال کے گیارہ مہینے تو آپ تجارت میں، زراعت میں، مزدوری میں اور دنیا کے کاروبار اور دھندوں میں، کھانے کھانے اور ہنسنے بولنے میں لگے رہے اور اس کے نتیجہ میں دلوں پر غفلت کا پردہ پڑنے لگتا ہے۔ اس لئے ایک مہینہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے مقرر فرما دیا کہ اس مہینے میں تم اپنے اصل مقصد تخلیق یعنی عبادت کی طرف لوٹ کر آؤ۔ جس کے لئے تمہیں دنیا میں بھیجا گیا، اور جس کے لئے نہیں پیدا کیا گیا، اس ماہ میں اللہ کی عبادت میں لگو، اور گیارہ مہینے تک تم سے جو گناہ سرزد ہوئے ہیں، ان کو بخشواؤ، اور دل کی صلاحیتوں پر جو میل آچکا ہے اس کو چھلواؤ اور دل میں جو غفلت کے پردے پڑ چکے ہیں، ان کو اٹھواؤ۔ اس کام کے لئے ہم نے یہ مہینہ مقرر کیا ہے۔

رمضان کے معنی

لفظ ’’رَمْضان ‘‘ میم کے سکون کے ساتھ ہم غلط استعمال کرتے ہیں۔ صحیح لفظ ’’ رَمَضان ‘‘ میم کے زبر کے ساتھ ہے۔ اور رمضان کے لوگوں نے بہت سے معنی بیان کئے ہیں۔ لیکن اصل عربی زبان میں رمضان کے معنی ہیں’’ جھلسا دینے والا اور جلا دینے والا ‘‘اور اس ماہ کا یہ نام اس لئے رکھا گیا ہے کہ سب سے پہلے جب اس ماہ کا نام رکھا جا رہا تھا اس سال یہ مہینہ شدید جھلسا دینے والی گرمی میں آیا تھا۔ اس لئے لوگوں نے اس کا نام رمضان رکھ دیا۔

اپنے گناہوں کو بخشوا لو

علماء نے فرمایا کہ اس ماہ کو ’’رمضان ‘‘ اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے فضل و کرم سے بندوں کے گناہوں کو جھلسا دیتے ہیں اور جلا دیتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ مہینہ مقرر فرمایا۔ گیارہ مہینے دنیاوی کاروبار، دنیاوی دھندوں میں لگے رہنے کے نتیجے میں غفلتیں دل پر چھا گئیں، اور اس عرصہ میں جن گناہوں اور خطاؤں کا ارتکاب ہوا، ان کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر انہیں بخشوا لو اور غفلت کے پردوں کو دل سے اٹھا دو، تا کہ زندگی کا ایک نیا دور شروع ہو جائے۔ اس لئے قرآن کریم نے فرمایا کہ’’(یعنی) یہ روزے تم پر اس لئے فرض کئے گئے ہیں تا کہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو جائے‘‘۔(سورۃ البقرہ:183)

تو رمضان کے مہینے کا اصل مقصد یہ ہے کہ سال بھر کے گناہوں کو بخشوانا ، اور غفلت کے حجاب دل سے اٹھانا اور دلوں میں تقویٰ پیدا کرنا۔ جیسے کسی مشین کو جب کچھ عرصہ استعمال کیا جائے تو اس کے بعد اس کی سروس کرانی پڑتی ہے۔ اس کی صفائی کرانی ہوتی ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کی سروس اور اوور ہالنگ کے لئے یہ رمضان المبارک کا مہینہ مقرر فرمایا ہے۔ تاکہ اس مہینے میں اپنی صفائی کرالو، اور اپنی زندگی کو ایک نئی شکل دو۔

لہٰذا صرف روزہ رکھنے اور تراویح پڑھنے کی حد تک بات ختم نہیں ہوتی بلکہ اس مہینے کاتقاضاء یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو اس مہینے میں دوسرے کاموں سے فارغ کر لے۔ اس لئے کہ گیارہ مہینے تک زندگی کے دوسرے کاموںمیں لگے رہے۔ لیکن یہ مہینہ انسان کے لئے اس کی اصل مقصد تخلیق کی طرف لوٹنے کا مہینہ ہے۔ اس لئے اس مہینے کے تمام اوقات، ورنہ کم از کم اکثر اوقات یا جتنا زیادہ سے زیا دہ ہو سکے ۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں صرف کرے اور اس کے لئے انسان کو پہلے سے تیار ہونا چاہئے۔ اور اس کا پہلے سے پروگرام بنانا چاہئے۔

استقبال رمضان کاصحیح طریقہ

عالم اسلام میں ایک بات چل پڑی تھی جس کی ابتداء خاص کر مصر اور شام سے ہوئی اور پھر دوسرے ملکوں میں بھی رائج ہو گئی تھی۔ ہمارے یہاں بھی آئی۔ وہ یہ ہے کہ رمضان شروع ہونے سے پہلے محفلیں منعقد ہوتی ہیں جس کا نام محفل استقبال رمضان رکھا جاتا ہے۔ جس میں رمضان سے ایک دو دن پہلے ایک اجتماع منعقد کیا جاتا ہے اور اس میں قرآن کریم اور تقریر اور وعظ رکھا جاتا ہے۔ جس کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ ہم رمضان المبارک کا استقبال کر رہے ہیں اور اس کو خوش آمد ید کہہ رہے ہیں۔ رمضان المبارک کے استقبال کا یہ جذبہ بہت اچھا ہے، لیکن اسے یہیں تک رہنا چاہیے ۔ رمضان المبارک کا اصل استقبال یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے نظام الاوقات بدل کر اپنا بنانے کی کوشش کرو کہ اس میں زیادہ سے زیادہ وقت اللہ جل شانہ کی عبادت میں صرف ہو، رمضان کا مہینہ آنے سے پہلے یہ سوچو کہ یہ مہینہ آرہا ہے ، کس طرح میں اپنی مصروفیات کم کر سکتا ہوں۔ اس مہینے میں اگر کوئی شخص اپنے آپ کو عبادت کے لئے فارغ کر لے تو سبحان اللہ، اور اگر کوئی شخص بالکل فارغ نہیں ہو سکتا تو پھر یہ دیکھے کہ کون کون سے کام ایک ماہ کے لئے چھوڑ سکتا ہے ، ان کو چھوڑے۔ اور کن مصروفیات کو کم کر سکتا ہے ان کو کم کرے، اور جن کاموں کو رمضان کے بعد تک موخر کر سکتا ہے۔ ان کو موخر کرے۔ اور رمضان کے زیادہ سے زیادہ اوقات کو عبادت میں لگانے کی فکر کرے۔ استقبال رمضان کا یہ نیا طریقہ نہیں ہے۔

اگر یہ کام کر لیا تو انشاء اللہ رمضان المبارک کی روح اور اس کے انوار و برکات حاصل ہوں گے، ورنہ یہ ہوگا کہ رمضان المبارک آئے گا اور چلا جائے گا اور اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔روزہ اور تراویح سے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے دیگر کاموں سے فارغ ہوکر عبادت کیجئے۔ اس ماہ مبارک میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کچھ زیادہ کیجئے اور کچھ نوافل زیادہ پڑھیے ۔ پانچ وقت کی نماز مساجد میں ادا نہ کرنے والے بھی نماز تراویح میں روزانہ شریک ہوتے ہیں۔ یہ سب الحمد للہ اس ماہ کی برکت ہے کہ لوگ عبادت میں، نماز میں، ذکر و اذکار اور تلاوت قرآن میں مشغول ہوتے ہیں۔

ایک مہینہ اس طرح گزاریئے !

ان سب نفلی نمازوں، نفلی عبادات اعلی ذکر و اذکار اور تلاوت قرآن کریم سے زیادہ مقدم ایک اور چیز ہے۔ جس کی طرف توجہ نہیں دی جاتی ۔ وہ ہے اس مہینے کو گناہوں سے پاک کر کے گزارنا ،تاکہ ہم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو۔ اس مبارک مہینے میں آنکھ نہ بہکے،کان غلط بات نہ سنیں، زبان سے کوئی غلط کلمہ نہ نکلے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی معصیت سے مکمل اجتناب ہو، یہ مبارک مہینہ اگر اس طرح گزار لیاتو آپ قابل مبارک باد ہیں اور یہ مہینہ آپ کے لئے مبارک ہے۔ یہ اللہ تبارک تعالیٰ کا ایک مہینہ آرہا ہے کم از کم اس کو تو گناہوں سے پاک کر لو، اللہ کی نافرمانی نہ کرو، جھوٹ نہ بولو، غیبت نہ کرو، بد نگاہی کے اندر مبتلا نہ ہو، رشوت اور سود نہ کھاؤ، کم از کم یہ ایک مہینہ اس طرح گزار لو۔

یہ کیسا روزہ ہوا؟

روزے تو ماشا اللہ بڑے ذوق و شوق سے رکھیں گے ، لیکن روزے کے کیا معنی ہیں؟ روزے کے معنی یہ ہیں کہ کھانے سے اجتناب کرنا، پینے سے اجتناب اور نفسانی خواہشات کی تکمیل سے اجتناب کرنا، روزے میں ان تینوں چیزوں سے اجتناب ضروری ہے۔ یہ تینوں چیزیں فی نفسہ حلال ہیں۔ کھانا حلال، پینا حلال اور جائز طریقے سے نفسانی خواہشات کی تکمیل کرنا ۔اب روزے کے دوران آپ ان حلال چیزوں سے تو پرہیز کر رہے ہیں۔ نہ کھا رہے ہیں نہ پی رہے ہیں۔ لیکن جو چیز میں پہلے سے حرام تھیں، منشا جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، بد نگاہی کرنا، جو ہر حال میں حرام تھیں، روزے میں یہ سب چیز یں ہو رہی ہیں۔ اب روزہ رکھا ہوا ہے اور جھوٹ بول رہے ہیں۔ روزہ رکھا ہوا ہے اور نیت کر رہے ہیں۔ روزہ رکھا ہوا ہے اور بد نگاہی کر رہے ہیں۔ روزہ رکھا ہوا ہے لیکن بری فلمیں دیکھ رہے ہیں، یہ کیسا روزہ ہوا کہ حلال چیز تو چھوڑ دی اور حرام چیز نہیں چھوڑی۔

اس لئے حدیث شریف میں حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’’جو شخص روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا نہ چھوڑے تو مجھے اس کے بھوکے اور پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں ‘‘۔اس لئے جب جھوٹ بولنا نہیں چھوڑا جو پہلے سے حرام تھا تو کھانا چھوڑ کر اس نے کون سا بڑا عمل کیا۔اگر چہ فقہی اعتبار سے روزہ درست ہو گیا۔ اگر کسی مفتی سے پوچھو گے کہ میں نے روزہ بھی رکھا تھا اور جھوٹ بھی بولا تھا تو وہ مفتی یہی جواب دے گا کہ روزہ درست ہو گیا اس کی قضا واجب نہیں۔ لیکن اس کی قضا نہ ہونے کے باوجود اس روزے کا ثواب اور برکات ختم ہوگئیں، اس واسطے کہ تم نے اس روزے کی روح حاصل نہیں کیا۔

روزہ تقویٰ کی سیڑھی ہے

روزہ کا مقصد تقویٰ کی شمع روشن کرناہے یہ پورا ہونا چاہئے ،ارشاد باری تعالیٰ ہے،’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے پچھلی امتوں پر فرض کئے گئے ،تا کہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو‘‘۔(البقرہ : 183)

یعنی روزہ تقویٰ کی شمع روشن کرنے کے لئے ہے ۔ بعض علماء کرام نے فرمایا کہ روزے سے تقویٰ اس طرح پیدا ہوتا ہے کہ روزہ انسان کی قوت حیوانیہ کو توڑتا ہے، اور قوت نیکی کو طاقت ور بناتا ہے جب آدمی بھوکا رہے گا تو اس کے نتیجے میں گناہوں پر اقدام کرنے کا داعیہ اور جذبہ سست پڑ جائے گا۔حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی ؒ نے فرمایا کہ صرف قوت بھی توڑنے کی بات نہیں ہے۔ بلکہ بات دراصل یہ ہے کہ جب آ دی صحیح طریقے سے روزہ رکھے گا تو یہ روزہ خود تقویٰ کی ایک عظیم الشان سیدھی ہے۔ اس لئے کہ تقویٰ کے کیا معنی ہیں؟ تقویٰ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ جل جلالہ کی عظمت کے استحضار سے گناہوں سے بچنا، یعنی یہ سوچ کر کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو کر مجھے جواب دینا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے۔ اس تصور کے بعد جب انسان گناہوں کو چھوڑتا ہے تو اس کا نام تقویٰ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں’’ (یعنی) جو شخص اس بات سے ڈرتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہونا ہے۔ اور کھڑا ہونا ہے،اس کے نتیجے میں وہ اپنے آپ کو ہوائے نفس اور خواہشات سے روکتا ہے‘‘۔ (سورۃ النازعات :۰۴)یہی تقویٰ ہے۔

لہٰذا روزہ حصول تقویٰ کے لئے بہترین ٹریننگ اور بہترین تربیت ہے، جب روزہ رکھ لیا تو آدی پھر کیا ہی گنہگار، خطا کار اور فاسق و فاجر ہو، جیسا بھی ہو، لیکن روزہ رکھنے کے بعد اس کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ سخت گرمی کا دن ہے اور سخت پیاس لگی ہوئی ہے اور کمرہ میں اکیلا ہے، کوئی دوسرا پاس موجود نہیں، اور دروازے پر کنڈی لگی ہوئی ہے اور کمرہ میں فریج موجود ہے، اور اس فریج میں ٹھنڈا پانی موجود ہے۔ اس وقت انسان کا نفس یہ تقاضاء کرتا ہے کہ اس شدید گرمی کے عالم میں ٹھنڈا پانی پی لوں، لیکن کیا وہ محض فریج سے ٹھنڈا پانی نکال کر پی لے گا؟ ہر گز نہیں پیئے گا۔ حالانکہ اگر وہ پانی پی لے تو کسی بھی انسان کو کانوں کان خبر نہ ہو گی۔ کوئی لعنت و ملامت کرنے والا نہیں ہوگا۔ اور دنیا والوں کے سامنے وہ روزہ دار ہی رہے گا، اور شام کو باہر نکل کر آرام سے لوگوںکے ساتھ افطاری کھا لے تو کسی شخص کو بھی پتہ نہیں چلے گا کہ اس نے روزہ توڑ دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ پانی نہیں پیتا ہے، کیوں نہیں پیا؟ پانی نہ پینے کی اس کے علاوہ کوئی اور وجہ نہیں ہے کہ وہ یہ سوچتا ہے کہ اگر چہ کوئی مجھے نہیں دیکھ رہا ہے، لیکن میرا مالک جس کے لئے میں نے روزہ رکھا ہے، وہ مجھے دیکھ رہا ہے۔

اسی لئے اللہ جل شانہ فرماتے ہیں کہ ’’میں ہی اس کا بدلہ دوں گا‘‘(ترمذی، کتاب الصوم باب ما جاء فی فضل الصوم حدیث نمبر) یعنی روزہ میرے لئے ہے لہٰذا میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ اعمال کے بارے میں تو یہ فرمایا کہ کسی عمل کا دس گنا اجر، کسی عمل کا ستر گنا اجرا اور کسی عمل کا سو گنا اجر ہے۔ حتیٰ کہ صدقہ کا اجر سات سو گنا ہے، لیکن روزے کے بارے میں فرمایا کہ روزے کا اجر میں دوں گا۔ کیونکہ روزہ اس نے صرف میرے لئے رکھا تھا۔ اس احساس کا نام تقویٰ ہے۔ اگر یہ احساس پیدا ہو گیا تو تقویٰ بھی پیدا ہو گیا۔ لہٰذا تقویٰ روزے کی ایک شکل بھی ہے۔ اور اس کے حصول کی ایک سیڑھی ہے۔ روزے اس لئے فرض کئے تا کہ تقویٰ کی عملی تربیت ہو ورنہ یہ تربیتی کورس مکمل نہیں ہوگا۔اور جب تم روزہ کے ذریعے عملی تربیت حاصل کر رہے ہو تو پھر اس کو اور ترقی دو، اور آگے بڑھاؤ ، لہٰذا جس طرح روزے کی حالت میں شدت پیاس کے باوجود پانی پینے سے رک گئے تھے، اور اللہ کے خوف سے کھانا کھانے سے رک گئے تھے، اسی طرح جب کاروبار زندگی میں گئے اور وہاں پر اللہ کی معصیت اور نا فرمانی کاتقاضاء اور داعیہ پیدا ہو تو یہاں بھی اللہ کے خوف سے اس کی معصیت سے رک جائو ۔تقویٰ اس وقت پیدا ہوگا، جب اللہ کی نافرمانیوں اور معصیتوں سے پرہیز کرو گے۔

اصل مقصد’’ علم کی اتباع‘‘

اس طرح روزے کے اندر یہ حکمت کہ اس کا مقصد قوت ہی یہ توڑنا ہے۔ یہ بعد کی حکمت ہے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ ان کے علم کی اتباع ہو اور سارے دین کا مدار اللہ اور اللہ کے رسول کے حکم کی اتباع ہے۔ وہ جب کہیں کہ کھاؤ، اس وقت کھانا دین ہے۔ اور جب وہ کہیں کہ مت کھاؤ اس وقت نہ کھانا دین ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت اور اپنی اتباع کا عجیب نظام بنایا ہے کہ سارا دن تو روزے رکھنے کا حکم دیا، اور اس پر بڑا اجر و ثواب رکھا۔ لیکن ادھر آفتاب غروب ہوا اور یہ حکم آ گیا کہ اب جلدی افطار کرو، اور افطار میں جلدی کرنے کو مستحب قرار دیا۔ اور بلا وجہ افطار میں تاخیر کرنا مکروہ اور ناپسند یدہ ہے۔ کیوں نا پسند یدہ ہے؟ اس لئے کہ جب آفتاب غروب ہو گیا تو اب ہمارا یہ علم آ گیا کہ کھاؤ اب بھی اگر نہیں کھاؤ گے اور بھوکے رہو گے تو یہ بھوک کی حالت پسند نہیں۔ اس لئے کہ اصل کام ہماری اتباع کرنا ہے۔ اپنا شوق پورا نہیں کرنا ہے۔عام حالات میں زندگی کی کسی چیز کی حرص اور ہوس بہت بری چیز ہے۔ لیکن جب وہ کہیں کہ حرص کرو، تو پھر حرص میں ہی لطف اور مزہ ہے۔

افطار میں جلدی کرو۔اور پھر جیسے ہی آفتاب غروب ہو گیا تو یہ حکم آگیا کہ اب جلدی کھاؤ، اگر بلا وجہ تاخیر کر دی تو گناہ ہو گا، کیوں؟ اس لئے کہ ہم نے حکم دیا تھا کہ کھاؤ، اب کھانا ضروری ہے۔سحری میں وقت ختم ہونے سے پہلے تک تاخیر سے کھانا افضل ہے۔یعنی جلدی کھانا خلاف سنت ہے۔ بعض لوگ رات کو بارہ بجے سحری کھا کر سو جاتے ہیں۔ صحابہ کرام ؓ کا بھی یہی معمول تھا کہ بالکل آخری وقت تک کھاتے رہتے تھے۔ اس لئے کہ یہ وہ وقت ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ صرف یہ کہ کھانے کی اجازت ہے بلکہ کھانے کا حکم ہے، اس لئے جب تک وہ باقی رہے گا، ہم کھاسکیں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اتباع اور اطاعت اسی میں ہے، اب اگر کوئی شخص پہلے سحری کھالے تو گویا کہ اس نے روزے کے وقت میں اپنی طرف سے اضافہ کر دیا، اس لئے پہلے سے سحری کھانے کو ممنوع قرار دیا۔

پورے دین میں سارا زور اتباع پر ہے، جب ہم نے کہا کہ کھائو تو کھانا ثواب ہے، اور جب ہم نے کہا کہ مت کھاؤ تو نہ کھانا ثواب ہے۔ اس لئے حضرت حکیم الامت قدس اللہ سرہ فرمایا کرتے تھے کہ جب اللہ میاں کہہ رہے ہیں کہ کھاؤ، اور بندہ کہے کہ میں تو نہیں کھاتا۔ یا میں کم کھاتا ہوں۔ یہ تو بندگی اور اطاعت نہ ہوئی۔ ارے بھائی! نہ تو کھانے میں کچھ رکھا ہے اور نہ ہی نہ کھانے میں کچھ رکھا ہے۔ سب کچھ ان کی اطاعت میں ہے، اس لئے جب انہوں نے کہہ دیا کہ کھاؤ، تو پھر کھاؤ، اس میں اپنی طرف سے زیادہ پابندی کرنے کی ضرورت نہیں۔

اس ماہ میں رزق حلال

ایک اہم بات ،کم از کم اس ایک مہینے میں تو رزق حلال کا اہتمام کر لو، جو لقمہ آئے، وہ حلال کا آئے، ہمیں ایسا نہ ہو کہ روزہ تو اللہ کے لئے رکھا، اور اس کو حرام چیز سے افطار کر رہے ہیں سود پر افطار ہو رہا ہے یا رشوت پر افطار ہو رہا ہے یا حرام آمدنی پر افطار ہو رہا ہے۔ یہ کیسا روزہ ہوا؟ کہ سحری بھی حرام اور افطاری بھی حرام، اور درمیان میں روزہ۔ اس لئے خاص طور پر اس مہینہ میں حرام روزی سے بچو۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے مانگو کہ یا اللہ! میں رزق حلال کھانا چاہتا ہوں۔ مجھے رزق حرام سے بچا لیجئے۔بعض حضرات کا ذریعہ معاش حرام نہیں ہے، بلکہ حلال ہے، البتہ اہتمام نہ ہونے کی وجہ سے کچھ حرام آمدنی کی آمیزش ہو جاتی ہے۔ ایسے حضرات کے لئے حرام سے بچنا کوئی دشوار کام نہیں ہے، وہ کم از کم اس ماہ میں تھوڑا سا اہتمام کر لیں اور حرام آمدنی سے بچیں ۔ یہ عجیب قصہ ہے کہ اس ماہ کے لئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ یہ صبر کا مہینہ ہے۔ یہ مواخات اور غم خواری کا مہینہ ہے۔ ایک دوسرے سے ہمدردی کا مہینہ ہے۔ لیکن اس ماہ میں مواخات کے بجائے لوگ الٹا کھال کھینچنے کی فکر کرتے ہیں۔ ادھر رمضان المبارک کا مہینہ آیا اور ادھر چیزوں کی ذخیرہ اندوزی شروع کر دی۔ لہٰذا کم از کم اس ماہ میں اپنے آپ کو ایسے حرام کاموں سے بچا لو۔

بعض حضرات وہ ہیں جن کا ذریعہ آمدنی مکمل طور پر حرام ہے، مثلا وہ کسی سودی ادارہ میں ملازم ہیں، ایسے حضرات اس ماہ میں کیا کریں؟ ہمارے حضرت ڈاکٹر عبد کی صاحب ہر آدمی کے لئے راستہ بتا گئے۔ وہ فرماتے ہیں کہ: میں ایسے شخص کو جس کی مکمل آمد نی حرام ہے۔ یہ مشورہ دیتا ہوں کہ اگر ہو سکے تو رمضان میں چھٹی لے لے، اور کم از کم اس ماہ کے خرچ کے لئے جائز اور حلال ذرائع سے انتظام کر لے۔ کوئی جائز آمدنی کا ذریہ اختیار کر لے۔ اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو اس ماہ کے خرچ کے لئے کسی سے قرض لے لے۔ اور یہ سوچے کہ میں اس مہینہ میں حلال آمدنی سے کھاؤں گا۔ اور اپنے بچوں کو بھی حلال کھلاؤں گا، کم از کم اتنا تو کرلے۔

گناہوں سے بچنا آسان

بہر حال میں یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ لوگ اس مہینہ میں نوافل وغیرہ کا تو اہتمام بہت کرتے ہیں ، لیکن گناہوں سے بچنے کا اتنا اہتمام نہیں کرتے۔ حالانکہ اس ماہ میں اللہ تعالیٰ نے گناہوں سے بچنے کو آسان فرما دیا ہے۔ چنانچہ اس ماہ میں شیطان کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں۔لہٰذا صرف روزہ رکھنے اور تراویح پڑھنے کی حد تک بات ختم نہیں ہوتی، بلکہ اس مہینے کاتقاضاء یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو اس مہینے میں دوسرے کاموں سے فارغ کر لے۔ اس لئے کہ گیارہ مہینے تک زندگی کے دوسرے کام دھندوں میں لگے رہے۔ لیکن یہ مہینہ انسان کے لئے اس کی اصل مقصد تخلیق کی طرف لوٹنے کا مہینہ ہے۔ اس لئے اس مہینے کے تمام اوقات، ورنہ کم از کم اکثر اوقات یا جتنا زیادہ سے زیا دہ ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں صرف کرے۔ اور اس کے لئے انسان کو پہلے سے تیار ہونا چاہئے۔ اور اس کا پہلے سے پروگرام بنانا چاہئے۔

استقبال رمضان کا صحیح طریقہ

رمضان المبارک کا اصل استقبال یہ ہے کہ رمضان آنے سے پہلے اپنے نظام الاوقات بدل کر ایسا بنانے کی کوشش کرو کہ اس میں زیادہ سے زیادہ وقت اللہ جل شانہ کی عبادت میں صرف ہو، رمضان کا مہینہ آنے سے پہلے یہ سوچو کہ یہ مہینہ آرہا ہے، کس طرح میں اپنی مصروفیات کم کر سکتا ہوں۔ اس مہینے میں اگر کوئی شخص اپنے آپ کو بالکل عبادت کے لئے فارغ کر لے تو سبحان اللہ، اور اگر کوئی شخص بالکل اپنے آپ کو فارغ نہیں کر سکتا تو پھر یہ دیکھے کہ کون کون سے کام ایک ماہ کے لئے چھوڑ سکتا ہوں ، ان کو چھوڑے۔ اور کن مصروفیات کو کم کر سکتا ہوں، ان کو کم کرے، اور جن کاموں کو رمضان کے بعد تک موخر کر سکتا ہے۔ ان کو موخر کرے۔ اور رمضان کے زیادہ سے زیادہ اوقات کو عبادت میں لگانے کی فکر کرے۔ میرے نزدیک استقبال رمضان کا نیا طریقہ نہیں ہے۔ اگر یہ کام کر لیا تو انشاء اللہ رمضان المبارک کی روح اور اس کے انوار و برکات حاصل ہوں گے، ورنہ یہ ہوگا کہ رمضان المبارک آئے گا اور چلا جائے گا اور اس سے صحیح طور پر فائدہ ہم نہیں اٹھا سکیں گے۔

جب رمضان المبارک کو دوسرے مشاغل سے فارغ کر لیا ، تو اب اس فارغ وقت کو کسی کام میں صرف کرے؟ جہاں تک روزوں کا تعلق ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ روزہ رکھنا فرض ہے۔ اور جہاں تک تراویح کا معاملہ ہے۔ اس سے بھی ہر شخص واقف ہے۔ لیکن ایک پہلو کی طرف خاص طور پر متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔ وہ یہ کہ الحمد اللہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہے، اس کے دل میں رمضان المبارک کا ایک احترام اور اس کا تقدس ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ اس ماہ مبارک میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کچھ زیادہ کرے اور کچھ نوافل زیادہ پڑھے۔ جو لوگ عام دنوں میں پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کے لئے مسجد میں آنے سے کتراتے ہیں۔ وہ لوگ بھی تراویح جیسی لمبی نماز میں بھی روزانہ شریک ہوتے ہیں۔ یہ سب الحمد اللہ اس ماہ کی برکت ہے کہ لوگ عبادت میں، نماز میں، ذکر و اذکار اور تلاوت قرآن میں مشغول ہوتے ہیں۔

ایک مہینہ اس طرح گزار لو

اس مہینے میں ایک اور مقدم چیز ہے۔ جس کی طرف توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس مہینے کو گناہوں سے پاک کر کے گزارنا کہ اس ماہ میں ہم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو۔ اس مبارک مہینے میں آنکھ نہ بہکے، نظر غلط جگہ پر نہ پڑے، کان غلط چیز نہ سنیں۔ زبان سے کوئی غلط کلمہ نہ نکلے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی معصیت سے مکمل اجتناب ہو، یہ مبارک مہینہ اگر اس طرح گزار لیا۔ پھر چاہے ایک نفلی رکعت نہ پڑھی ہو اور تلاوت زیادہ نہ کی ہو اور نہ ذکر و اذکار کیا ہو لیکن گناہوں سے بچتے ہوئے اللہ کی معصیت اور نافرمانی سے بچتے ہوئے یہ مہینہ گزار دیا تو آپ قابل مبارک باد ہیں۔ اور یہ مہینہ آپ کے لئے مبارک ہے۔ گیارہ مہینے تک ہر قسم کے کام میں مبتلا رہتے ہیں یہ اللہ تبارک تعالیٰ کا ایک مہینہ آرہا ہے کم از کم اس کو تو گناہوں سے پاک کر لو۔ اس میں تو اللہ کی نافرمانی نہ کرو۔ اس میں تو کم از کم جھوٹ نہ بولو۔ اس میں تو غیبت نہ کرو۔ اس میں تو بد نگاہی کے اندر مبتلا نہ ہو۔ اس مبارک مہینہ میں تو کانوں کو غلط جگہ پر استعمال نہ کرو۔ اس میں تو رشوت نہ کھاؤ، اس میں تو سود نہ کھاؤ، کم از کم یہ ایک مہینہ اس طرح گزار لو۔

نفسانی خواہشات سے اجتناب

اس لئے کہ آپ روزے تو ماشا اللہ بڑے ذوق و شوق سے رکھ رہے ہیں، لیکن روزے کے کیا معنی ہیں؟ روزے کے معنی یہ ہیں کہ کھانے سے اجتناب کرنا، پینے سے اجتناب اور نفسانی خواہشات کی تکمیل سے اجتناب کرنا، روزے میں ان تینوں چیزوں سے اجتناب ضروری ہے۔ اب یہ دیکھیں کہ یہ تینوں چیزیں ایسی ہیں جو فی نفسہ حلال ہیں، کھانا حلال، پینا حلال اور جائز طریقے سے زوجین کا نفسانی خواہشات کی تکمیل کرنا حلال، اب روزے کے دوران آپ ان حلال چیزوں سے تو پرہیز کر رہے ہیں۔ نہ کھا رہے ہیں اور نہ پی رہے ہیں۔ لیکن جو چیز پہلے سے حرام تھیں، مثلاً جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، بد نگاہی کرنا، جو ہر حال میں حرام تھیں، روزے میں یہ سب چیز ہو رہی ہیں۔ اب روزہ رکھا ہوا ہے اور جھوٹ بول رہے ہیں۔ روزہ رکھا ہوا ہے اور بدنیتی کر رہے ہیں۔ روزہ رکھا ہوا ہے اور بد نگاہی کر رہے ہیں۔ روزہ رکھا ہوا ہے لیکن وقت پاس کرنے کے لئے گندی فلمیں دیکھ رہے ہیں، یہ کیا روزہ ہوا؟ کہ حلال چیز تو چھوڑ دی اور حرام چیز نہیں چھوڑی۔

روزے میں غصے سے پرہیز

جس بات کا روزے سے خاص تعلق ہے وہ ہے غصے سے اجتناب اور پرہیز، چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ حضور اقدسؐ نے فرمایا کہ یہ مواخات کا مہینہ ہے۔ ایک دوسرے سے غمخواری کا مہینہ ہے۔ لہٰذا غصہ اور غصہ کی وجہ سے سرزد ہونے والے جرائم اور گناہ ، مثلاً جھگڑا، مار پٹائی اور تو تکار ، ان چیزو ں سے پرہیز کا اہتمام کریں۔ حدیث شریف میں حضور ﷺ نے یہاں تو فرما دیا کہ:’’یعنی اگر کوئی شخص تم سے جہالت اور لڑائی کی بات کرے تو تم کہہ دو کہ میرا روز ہے۔ میں لڑنے کے لئے تیار نہیں۔ نہ زبا ن سے لڑنے کے لئے تیار ہوں اور نہ ہاتھ سے‘‘۔ اس سے پرہیز کریں۔ یہ سب بنیادی کام ہیں۔

رمضان میں نفلی عبادات زیادہ کریں

جہاں تک عبادات کا تعلق ہے تمام مسلمان ماشاء اللہ جانتے ہیں کہ روزہ رکھنا، تراویح پڑھنا ضروری ہے، اور تلاوت قرآن کو چونکہ اس مہینے سے خاص مناسبت ہے چنانچہ حضور نبی کریم ﷺ رمضان کے مہینے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ پورے قرآن کریم کا دور فرمایا کرتے تھے۔ اس لئے جتنا زیادہ سے زیادہ ہو سکے اس مہینہ میں تلاوت کریں اور اس کے علاوہ چلتے پھرتے ، اٹھتے بیٹھتے زبان سے اللہ کا ذکر کریں اور تیسرا کلمہ:سبحان اللہ و الحمد للہ و لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر اور درود شریف اور استغفار کا چلتے پھرتے اس کی کثرت کا اہتمام کریں اور نوافل کی جتنی کثرت ہو سکے کریں۔ اور عام دنوں میں رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھنے کا موقع نہیں ملتا، لیکن رمضان المبارک میں چونکہ انسان سحری کے لئے اٹھتا ہے تھوڑا پہلے اٹھ جائے اور تہجد پڑھنے کا معمول بنالے اور اس ماہ میں نماز خشوع کے ساتھ اور با جماعت نماز پڑھنے کا اہتمام کر لیںیہ سب کام تواس ماہ میں کرنے ہی چاہئیں۔

یہ رمضان المبارک کی خصوصیات میں سے ہیں۔ لیکن ان سب چیزوں سے زیادہ اہم گناہوں سے بچنے کی فکر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور رمضان المبارک کے انوار و برکات سے صحیح طور سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں