94

سینٹائزرغائب کردیے گئے ہیں، سندھ ہائیکورٹ میں درخواست

سندھ ہائیکورٹ میں ایک شہری کی جانب سے درخواست دائر کی گئی ہے کہ کراچی میں ہینڈ سینٹائزر ذخیرہ کر کے مہنگے داموں پر فروخت کیے جا رہے ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ میں کراچی میں ہینڈ سینٹائزر ذخیرہ کر کے مہنگے داموں فروخت کے خلاف کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی، اس دوران عدالت کی جانب سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سپلائی اینڈ بیورو کو شوکاز جاری کرتے ہوئے حکم دیا گیا کہ آئندہ سماعت پر حاضری یقینی بنائی جائے۔

درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ملک میں سنسنی پھیلی ہوئی ہے، کراچی شہر میں ہینڈ سینٹائزر غائب کردیے گئے ہیں، عوام خوف کا شکار ہیں اور زخیرہ اندوزی کی جا رہی ہے۔

جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس د یتے ہوئے کہا کہ سینٹائزر غائب نہیں ہوئے وہ زائد فروخت ہو گئےہیں، عدالت کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ بتائیں سینٹائزر کہاں زخیرہ ہوئے ہیں؟ وہاں پولیس کو بھیج کر چھاپا پڑواتے ہیں، کیا سندھ حکومت نے اس معاملات کے لیے سیشن جج تعینات کیا ہے؟

جس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اب تک کوئی بھی سیشن جج تعینات نہیں کیا گیا ہے، رینجرز نے گزشتہ دنوں سینٹائرز اور ماسک ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کی تھی۔

درخواست گزار کی جانب سے مؤقف میں مزید کہا گیا کہ 1995ء کے ایکٹ کے مطابق ضروری اشیا کسی گودام میں ذخیرہ نہیں کی جاسکتی۔

جس پر سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے سیشن ججز کی تعیناتی کے حوالے سے سندھ حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے حکم دیا گیا کہ سندھ رجسٹریشن گودام ایکٹ 1995ء پر ہرصورت عملدر آمد کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں