16

صبر کیا ہے؟

صبر کی تعریف:‏

’’صبر‘‘ كےلغوی معنى ركنے،ٹھہرنے یا باز رہنے کے ہیں اور نفس کو اس چیز پر روکنا (یعنی ڈٹ جانا) جس پر رکنے (ڈٹے رہنے کا)کا عقل اور شریعت تقاضا کررہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کررہی ہو صبر کہلاتا ہے۔ بنیادی طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں : (۱) بدنی صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اوران پر ثابت قدم رہنا۔ (۲) طبعی خواہشات اور خواہش کے تقاضوں سے صبر کرنا۔ پہلی قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہوتو قابل تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر تعریف کے قابل صبر کی دوسری قسم ہے۔[1] (نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ۴۴، ۴۵)

آیت مبارکہ:

اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتاہے:( وَ اصْبِرُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶))(پ۱۰، الانفال: ۴۶)ترجمۂ کنزالایمان:’’اور صبر کرو بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔‘‘‏(نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ ۴۵)

(‏حدیث مبارکہ) صابرکے لیے اُخروی انعام:

حضور نبی رحمت شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ جنت نشان ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: ’’جب میں اپنے کسی بندے کو اُس کے جسم، مال یا اولاد کے ذریعے آزمائش میں مبتلا کروں ، پھر وہ صبر جمیل کے ساتھ اُس کا استقبال کرے تو قیامت کے دن مجھے حیا آئے گی کہ اس کے لیے میزان قائم کروں یا اس کا نامۂ اعمال کھولوں ۔‘‘[2](نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ ۴۵)

صبر کرنے کے مختلف اَحکام:

شریعت نے جن کاموں سے منع کیا ہے اُن سے صبر (یعنی رکنا) فرض ہے۔ ناپسندیدہ کام (جو شرعاً گناہ نہ ہو اس) سے صبر‏مستحب ہے۔ تکلیف دہ فعل جو شرعاً ممنوع ہے اس پر صبر(یعنی خاموشی) ممنوع ہے۔ مثلاً کسی شخص یا اس کے بیٹے کا ہاتھ ناحق کاٹا جائے تو اس شخص کا خاموش رہنا اور صبر کرناممنوع ہے، ایسے ہی جب کوئی شخص شہوت کے ساتھ بُرے اِرادے سے اس کے گھروالوں کی طرف بڑھے تو اس کی غیرت بھڑک اٹھے لیکن غیرت کا اِظہار نہ کرے اور گھروالوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس پر‏صبرکرے اور قدرت کے باوجود نہ روکے تو شریعت نے اس صبر کو حرام قرار دیا ہے۔[3]

صبر جمیل یعنی سب سے بہترین صبر یہ ہے کہ مصیبت میں مبتلا شخص کو کوئی نہ پہچان سکے، اس کی پریشانی کسی پر ظاہر نہ ہو۔[4]

صبر کا اعلیٰ ترین درجہ یہ ہے کہ لوگوں کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف پر صبر کیا جائے۔ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے: ’’جو تم سے قطع تعلق کرے اس سے صلہ رحمی سے پیش آؤ، جو تمہیں محروم کرے اسے عطا کرو اور جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کرو۔‘‘ اور حضرت سیدنا عیسیٰ رُوحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ارشاد فرمایا: ’’میں تم سے کہتا ہوں کہ برائی کا بدلہ برائی سے نہ دو بلکہ جو تمہارے ایک گال پر مارے اپنا دوسرا گال اس کے آگے کردو، جو تمہاری چادر چھینے تم کمربند بھی اسے پیش کردو اور جو تمہیں ایک میل ساتھ چلنے پر مجبور کرے تم اس کے ساتھ دو میل تک چلو۔‘‘ ان تمام ارشادات میں تکالیف پر صبر کرنے کا فرمایا گیا ہے اور یہی صبر کا اعلیٰ مرتبہ ہے۔[5](نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ ۴۵،۴۶)

صبر کی عادت بنانے کے سات (7)طریقے:

(1)صبر کے فضائل کا مطالعہ کیجئے:‏کیونکہ کسی بھی نیک کام یا اچھے عمل کے فضائل پیش نظر ہوں تو اس پر عمل کرنے کا جلدی ذہن بن جاتاہے، صبر تو وہ‏باطنی خوبی ہے کہ جس کے فضائل قرآن و حدیث میں بکثرت بیان فرمائے گئے ہیں ۔صبر کی معلومات، اَقسام، آیات، فضائل وتفصیلی روایات کے لیے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتب اِحیاء العلوم(جلدچہارم)، فیضانِ ریاض الصالحین(جلد اول)، مکاشفۃ القلوب، منہاج العابدین، جنت میں لے جانے والے اَعمال وغیرہ کامطالعہ بہت مفید ہے۔

(2)بارگاہِ اِلٰہی میں صبر کی دعا کیجیے:‏ دعا مؤمن کا ہتھیار ہے، جب مؤمن اپنا ہتھیار ہی استعمال نہیں کرے گا تویقیناً اس کے خطرناک دشمن نفس وشیطان اس پر حملہ آور ہوتے رہیں گے اور مصیبتوں پر صبر وشکر کی بجائے ناشکری وبے صبری جیسے مذموم اَفعال صادر ہوتے رہیں گے۔

‏ (3)اپنی ذات میں عاجزی پیدا کیجئے:‏کہ کسی کی طرف سے ملنے والی تکلیف پر بے صبری اور انتقامی کاروائی کا ایک سبب تکبر بھی ہے، جب بندہ اپنی ذات میں عاجزی وانکساری پیدا کرے گا تو انتقامی کاروائی کا ذہن ختم ہوجائے گا اور لوگوں سے ملنے والی تکالیف پر صبر نصیب ہوگااور رحمت الٰہی سے اس صبر پر اجر ملے گا۔اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَل

(4)جلد بازی نہ کیجئے:‏ہماری زندگی میں کئی کام ایسے ہیں جن میں جلدبازی کی وجہ سے صبر رخصت ہوجاتا ہے، بلکہ اس جلد بازی کی وجہ سے بسا اوقات شدید نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے، لہٰذا جلد بازی کی عادت کو دور کیجئے، صبر سے کام لیجئے۔

(5)معاف کرنے کی عادت اپنائیے:جب کسی کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو نفس اس سے بدلہ لینے پر اُبھارتا ہے جس کی ضد عفوو درگزر یعنی معاف کردینا ہے، جب بندہ معاف کردینے کی عادت اپنائے گا تو تکالیف پہنچنے پر اسے خود بخود صبر بھی نصیب ہوجائے گا۔

(6)مصیبت میں نعمتوں کو تلاش کیجیے:‏ یہ بزرگان دین کا طریقہ ہے اور اس سے صبر کرنے میں معاونت ملتی ہے، ہر مصیبت میں کوئی نہ کوئی نعمت مخفی(چھپی) ہوتی ہے، مثلاً بسا اوقات ایک چھوٹی مصیبت کسی بڑی مصیبت کو ٹالتی ہے، کوئی مصیبت کسی گناہ کے لیے کفارہ بن جاتی ہے، مصیبتیں درجات میں بلندی کا باعث بھی ہوتی ہے، دُنیوی مصیبتیں اُخروی مصیبتوں سے نجات بھی دلاتی ہیں ، یقیناً یہ تمام صورتیں ربّ تَعَالٰی کی بڑی نعمتیں ہیں جو مصیبت میں پوشیدہ ہیں ۔امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں :’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے جس مصیبت میں بھی مبتلا کیا اس میں مجھ پر چار نعمتیں تھیں : (۱)وہ آزمائش میرے دین میں نہ تھی۔ (۲) اس سے بڑھ کر مصیبت نہ آئی۔ (۳) میں اس پر راضی ہونے کی دولت سے محروم نہ ہوا۔ (۴) مجھے اس پر ثواب کی امید رہی۔‘‘[6]

(7)اپنے سے بڑی مصیبت والے کو دیکھیے:کیونکہ جسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ یہی سمجھتا ہے شاید مجھے سب سے زیادہ یا بڑی مصیبت پہنچی ہے اور یہی بات بسا اوقات اسے بے صبری میں مبتلا کردیتی ہے، جب وہ اپنے سے بڑی مصیبت والے کو دیکھے گا تو شکر کرے گا اور اسے صبر کی نعمت نصیب ہوگی۔ اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَل (نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ ۴۷تا۴۹)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں