20

طوفان تاؤتے: ماہی گیروں کو سمندر میں جانے سے روک دیا گیا

متوقع سمندری طوفان تاؤتے کے پیشِ نظر کراچی سمیت سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں ماہی گیروں کو شکار پر جانے سے روک دیا گیا ہے جبکہ گہرے سمندر میں پہلے سے موجود ماہی گیروں کو فوری واپسی بلانے کے لیے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ترجمان فشر فوک فورم کے مطابق ماہی گیروں کی واپسی کے لیے رابطے شروع کر دیئے ہیں، تاہم ابھی بھی درجنوں لانچیں سمندر میں موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گہرے سمندر میں موجود ماہی گیروں کی لانچوں سے صوتی رابطے کیئے جا رہے ہیں، عید سے 5 روز قبل برف سے لدی درجنوں لانچیں شکار کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔

ترجمان فشر فوک فورم کا مزید کہنا ہے کہ ایک ماہ کے لیے شکار پر گئی لانچوں میں سے کچھ خطرے کے باعث جلدی لوٹ آئیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ابراہیم حیدری، ریڑھی گوٹھ، ککا پیر اور کیماڑی کے ماہی گیروں نے شکار پر روانگی روک دی ہے۔

رہنما فشر فوک فورم گلاب شاہ کے مطابق عید کے باعث گہرے سمندر میں شکار کے لیے گئی کشتیاں واپس آ گئی تھیں، ماہی گیروں نے کشتیاں ساحل پر کھڑی کر دی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایک دو کشتیاں سمندر میں رہ گئی ہیں، جنہیں واپس بلایا جا رہا ہے، جبکہ ساحلی پٹی کیٹی بندر پر فی الحال صورتِ حال نارمل ہے۔

کوسٹل میڈیا کوآرڈینیٹر برائے فشر فوک فورم کمال شاہ کا جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ عید سے قبل سمندر میں جانے والی لانچیں تاحال واپس نہیں آئی ہیں، جبکہ بہت ساری لانچیں گہرے سمندر سے واپس آچکی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماہی گیروں کے لیے حکومت کی جانب سے تاحال کوئی اقدامات نہیں کیئے گئے ہیں۔

متوقع سمندری طوفان کے پیشِ نظر ٹھٹھہ کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ عثمان تنویر کے مطابق ماہی گیروں کو 3 روز کے لیے سمندر میں شکار پر جانے سے روک دیا گیا ہے، جبکہ ریوینیو کے عملے کو ساحلی پٹی کی صورتِ حال پر نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ تمام افسران کو ہیڈ کوارٹرز میں موجود رہنے کی ہدایت کر دی ہے اور کہا گیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیئے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں