12

عائشہ اکرم سے بلیک میلنگ، ریمبو سمیت 8 ملزمان کا جسمانی ریمانڈ

مینارِ پاکستان کے گریٹر اقبال پارک میں دست درازی کا نشانہ بننے والی ٹاک ٹاکر عائشہ اکرم کو بلیک میل کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم ریمبو کو عدالت نے 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ حسن سرفراز چیمہ کے رو برو ملزم عامر سہیل عرف ریمبو سمیت 8 ملزمان صدام حسین، ظفر علی، منصب علی، حسنین، محسن علی، آصف، عظیم کو ریمانڈ کے لیے پیش کیا گیا۔

پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ عائشہ اکرم نے عامر سہیل عرف ریمبو اور دیگر پر بلیک میلنگ کا الزام لگایا ہے۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان سے وقوعے کی بابت موبائل، نقدی اور دیگر اشیاء برآمد کرنی ہیں، ملزمان کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

مجسٹریٹ حسن سرفراز چیمہ نے ریمبو کے ساتھ گرفتار مزید 8 ملزمان کا بھی 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے پولیس کو ملزمان کو دوبارہ 13 اکتوبر کو پیش کرنے کا حکم دیا۔

واضح رہے کہ مینارِ پاکستان پر خاتون سے درندگی کے واقعے میں اس وقت ٹوئسٹ آیا، جب متاثرہ خاتون عائشہ اکرم نے اپنے دوست ریمبو کو سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا۔

ملزم ریمبو پر موبائل فون سے قابلِ اعتراض ویڈیو چوری کر کے بلیک میل کرنے، مزید ویڈیوز بنانے اور 10 لاکھ روپے بھتہ وصول کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ٹک ٹاکر عائشہ اکرم کا کہنا ہے کہ 14 اگست کو ریمبو نے ہی گریٹر اقبال پارک جانے پر مجبور کیا، ریمبو کے دوست پہلے سے وہاں موجود تھے۔

ٹک ٹاکر نے الزام عائد کیا کہ ریمبو نے اسے سیلفیاں بناتے ہوئے رش میں دھکیل دیا، ریمبو کے ساتھیوں نے اسے اچھالنا شروع کر دیا، کپڑے پھاڑ دیئے، زیورات اور نقدی چھین لی۔

دوسری جانب ملزم ریمبو نے الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ہی جانتا ہوں کہ کس طرح عائشہ کو ہجوم سے زندہ لے کر گھر آیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں