17

عدالتیں آزاد ہیں، کسی میں ہمت نہیں ہمیں ڈکٹیشن دے، الزامات لگانے والے انتشار نہ پھیلائیں، چیف جسٹس گلزار احمد

لاہور( میاں عصمت سے ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہاہے کہ عدالتیں آزاد ہیں کسی میں ہمت نہیں ہمیں ڈکٹیشن دے، بتادیں کس کی ہدایت پر کس کا فیصلہ ہوا؟ عہدہ پہلے چھوڑ دیا تھا اب بھی چھوڑ دینگے، غیر جمہوری سیٹ اپ قبول نہیں کرینگے، غلط فہمیاں نہ پھیلائیں، سپریم کورٹ فیصلے کرنے میں آزاد ہے اور کسی کی ہمت نہیں ہمیں روکے جبکہ آج تک کسی ادارے کی بات سنی اور نہ ہی دبائو لیا،ضمیر کے مطابق فیصلے کرتا ہوں، عدلیہ کے معاملات میں کوئی مداخلت نہیں ہورہی، الزامات لگانے والے انتشار نہ پھیلائیں، میں اپنے ادارے کے بار ے میں بات کرتا ہوں، لوگوں کو غلط باتیں نہ بتائیں،اداروں کے اوپر سے لوگوں کا بھروسہ نہ اٹھوائیں، یہ کام نہیں ہے، ملک کے اندر قانون کی، آئین کی اور ہر طرح سے جمہوریت کی حمایت کرتے رہیں گے اوراسی کا پرچار کرتے رہیں گے اور اسی کو نافذ کرتے رہیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور کے مقامی ہوٹل میں دو روزہ تیسری عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے پہلے روز خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آزادی صحافت، خواتین کے حقوق کو خطرات لاحق ہیں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے کہا ماضی میں غلطیاں ہوئیں آئندہ نہیں کرینگے،میڈیا، سول سوسائٹی اور عدلیہ کو ملکر انصاف کے نظام کو بہتر کرنا ہوگا، میڈیا آزاد نہیں ہوگا تو عدلیہ بھی آزاد نہیں ہوگی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ امیر بھٹی نے کہا کہ آئین اور عوامی حقوق کا تحفظ ہماری ذمہ داری، ہمارے نظام میں خاموش تحریک چل رہی ہے، اقلیتوں،خواتین اور بچوں سمیت کسی کیساتھ زیادتی کی اجازت نہیں دی جا سکتی،

صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون نے کہا کہ ہماری عدلیہ بہت اچھی اور قابل مگر تاثر ٹھیک نہیں، سپریم کورٹ سومو موٹو کیسز میں اپیل کا حق دے، اس حوالے سے رولز میں تبدیلی ہونی چاہیے ،وکیل رہنماء اور سابق صدر سپریم کورٹ بار علی احمد کرد نے کہا کہ عدلیہ میں تقسیم ہے، بڑے عہدوں پر چھوٹے لوگ بیٹھے ہیں، 130ممالک میں پاکستان کی عدلیہ 126ویں نمبر پرہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ علی احمد کرد نے کچھ باتیں کہی ہیں جسکے بارے میں ذکر کرنا بہت ضروری ہے، لوگوں کوکسی قسم کی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے ۔ عدلیہ کے ادارے کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے یہ مجھ پر لازم ہے کہ جہاں تک بن سکتا ہے میں ان باتوں کا کسی حد تک جواب دوں۔ سب سے پہلی بات یہ کہ جو علی احمد کرد نے اگر میری عدالت کے بارے میں کوئی بات کہی ہے تو میں بالکل اس بات سے اتفاق نہیں کروں گا۔ میں اگر اپنی سپریم کورٹ کے بارے میں کہوں تو میرے سارے سپریم کورٹ کے ججز پوری تندہی کے ساتھ ، اضافی وقت لگا کر محنت کے ساتھ کام کررہے ہیں اور لوگوں کو انصاف کی فراہمی، بنیادی حقوق کی فراہمی اور قانون کی عملداری اور ایک جمہوری ملک کی خوشحالی کیلئے مستقل کام کررہے ہیں اور تندہی کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ اسی طرح سے میری ہائی کورٹس کے ججز چاہے وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ہوں، چاہے وہ پشاور ہائی کورٹ کے ہوں، چاہے وہ لاہور ہائی کورٹ کے ہوں ، چاہے وہ بلوچستان کے ہوں یا سندھ کے ہوں ، میری عدالت کے سب ججز تندہی کے ساتھ کام کرہے ہیں۔ میری ماتحت عدلیہ بھی بہت محنت کے ساتھ اورلگن کے ساتھ لوگوں کو انصاف فراہم کررہی ہے،ان کے جو مقدمے ہیں ان کو سنتے ہیں اوراس پر قانون کے مطابق فیصلے دیتے ہیں۔ اگر کسی کے مقدمہ میں کسی کو اعتراض ہوتا ہے تو اس کا قانونی حق ہوتا ہے کہ وہ اس کو چیلنج کرے ، بڑی عدالت میں چیلنج کرکے اور قانون کی پیروی کرکے اس فیصلے تبدیل کروانا چاہتے تو تبدیل بھی ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک جنرل اسٹیٹمنٹ دے کہ یہاں پر ہماری عدالت آزاد نہیں ہے ، یہ تاثر دینا کہ کسی کے دبائو میں ہم کام کررہے ہیں ، کسی اداروں کے دبائو میں کام کررہے ہیں ، میں نے کبھی کسی ادارے کا کوئی دبائو نہیں لیا اور نہ میں نے کبھی کسی ادارے کی بات سنی، مجھے کوئی نہیں بتاتا کہ میں اپنا فیصلہ کیسے لکھوں، مجھے کو کوئی گائیڈ نہیں کرتا کہ میں اپنا فیصلہ کیسے لکھوں اور میں نے کبھی اپنے سامنے آنے والے کسی مقدمے کا کوئی ایسا فیصلہ نہیں کیا جو کسی کے کہنے پر کیا ہو، نہ کسی کو جرا ت ہوئی میرے کو آج تک کچھ کہنے کی۔ کسی نے میرے کام میں مداخلت نہیں کی، میں نے جو فیصلے دیئے وہ میں نے اپنے ضمیر کے مطابق ، اپنی سمجھ کے مطابق اورآئین کی سمجھ اور وقانو ن کی سمجھ کے مطابق فیصلے دیئے ہیں، میں نے آج تک کسی کی ڈکٹیشن نہ سنی، نہ دیلھی، نہ سمجھی اور نہ میں نے اپنے اوپر ا ثرات لئے اور میں یہ سمجھتا ہوںکہ یہی کردار باقی سارے ججز کا ہے۔ میری عدالت لوگوں کو انصاف دیتی ہے، علی احمد کرد عدالتوں میں آئیں اوردیکھیں کہ کیا ہورہا ہے، عدالتوں کے فیصلے پڑھیں دیکھیں کیا ہورہا ہے، روز میرے ججز فیصلے لکھتے ہیں، کتابوں میں چھپتے ہیں ان کو پڑھیں اوردیکھیں کہ کس قدرآزادی کے ساتھ ہماری عدالت کام کررہی ہے، قانون کی پیروی کررہی ہے اور آئین پر عملدآمد کرر ہی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کوئی حوالہ دیئے بغیر ایک جنرلائز بیان دینا اور اگر کوئی غلطی ہے تو آکر اس غلطی کو صحیح کروایا جاتا ہے، عدالتوں کے فیصلے ایک مسلسل جاری عمل ہے ، دنیا کی ہرعدالت کے ساتھ یہ ایولوشنری پراسیس چلے ہیں۔ کہیں غلط فیصلے آتے ہیں، کہیں صیح فیصلے آتے ہیں، یہ غلط اور صیح فیصلے بھی لوگوں کی اپنی رائے ہوتے ہیں، ضروری نہیں ہے کہ ایک رائے کو دوسرا مانے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں یہ صیح فیصلے ہیں ور کچھ لوگ کہتے ہیں یہ غلط فیصلے ہیں، ہر ایک کا اپنا، اپنا نقطہ نظر ہے، ہر ایک کو اپنی رائے کا اختیار ہے، سب کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے، یہی خوبصورتی ہے ہمارے قانون کی، یہی خوبصورتی ہے عدالتی نظام کی، یہی جمہوری پراسیس کی ایک خوبصورتی ہے اوراس پر ہم عملدرآمد کرتے ہیں، کوئی ہمیں روکے، آج تک کسی کی ہمت نہیں ہوئی ہمیں روکنے کی۔ ہماری عدالت جو فیصلہ کرنا چاہتی ہے کرنے کے لئے فری ہے اور کرتی ہے، ہر ایک کا محاسبہ کرتی ہے جس کا مقدمہ سامنے آتا ہے، بتادیں کہ کس کی ڈکٹیشن کے اوپر آج تک کون سا فیصلہ ہوا ہے، ایسا نہیں ہے، لوگوں میں غلط فہمیاں پیدا نہ کریں۔ میں اپنے ادارے کے بار ے میں بات کرتا ہوں، لوگوں کو غلط باتیں نہ بتائیں، انتشار نہیں پھیلائیں، اداروں کے اوپر سے لوگوں کا بھروسہ نہ اٹھوائیں، یہ کام نہیں ہے،میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ ملک پاکستان ہمارے لئے قائم ودائم ہے اور قائم ودائم رہے گا اوراس میں قانون کی حکمرانی ہے، انسانوں کی حکمرانی نہیں ہے۔ ہماری عدالت جس طرح سے ہم کام کررہی ہے اور کرتی رہے گی ، اس ملک کے اندر قانون کی، آئین کی اور ہر طرح سے جمہوریت کی حمایت کرتے رہیں گے اوراسی کا پرچار کرتے رہیں گے اور اسی کو نافذ کرتے رہیں گے۔ کسی غیر جمہوری سیٹ اپ کو ہم قبول نہیں کریں گے، ہم چھوڑ دیں گے، ہم نے پہلے بھی چھوڑا، میرے خیال میں آج کے لئے اتنی بات کافی ہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی نے کہا کہ عدلیہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، آئین اور عوامی حقوق کی حفاظت بھی عدلیہ کی ذمہ داری ہے،عدلیہ ان اصولوں کی پاسداری کرتی ہے جن کی بنیاد پر پاکستان بنا۔ جسٹس امیر بھٹی نے کہا آئین کا آرٹیکل 25انتہائی اہم ہے جو کہ تمام شہریوں کو مساوی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے کا کہتاہے اسی طرح آئین کا آرٹیکل 19اے رائٹ آف انفارمیشن کے بارے میں ہے جو ہر شخص کا بنیادی حق ہے۔ اس قانون کے تحت ہر ایک کو یہ حق حاصل ہے کہ ہر وہ چیز جان سکتا ہے جو عوام کے ٹیکس کے پیسے سے بنائی گئی یا جاری ہے ۔ یہ قانون شفافیت کیلئے انتہائی ضروری ہے ۔ انصاف کی فراہمی صرف عدلیہ کا کام نہیں دیگر ادارے بھی اپنی حدود میں رہتے ہوئے مدد کرتے ہیں جبکہ قانون کی بالا دستی میں عدلیہ کا ایک اہم کردار ہے۔ مقامی حکومتوں کی بحالی سمیت دیگر کئی کیسز میں عدالتوں نے فیصلے دیکریہ ثابت کیا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور کسی بھی دوسرے ادارے سے بڑھ کر قانون کی بالادستی کیلئے کام کر رہی ہیں ۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے کہا کہ کئی عدالتی فیصلے ماضی کا حصہ ہیں جنہیں مٹایا نہیں جا سکتا،ہم اپنا سر ریت میں نہیں چھپا سکتے، ہمیں اپنی غلطیاں تسلیم کرنا چاہئیں،ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم عوام میں اپنی ساکھ بحال کریں، ہمارے لیے بہت ضروری ہے کہ ہم جانیں عوام ہمارے متعلق کیا سوچ رہے ہیں ،کوئی جج دبائو میں آنے کی کوئی توجیہہ نہیں دے سکتا، ہم اللہ کا نام سے حلف اٹھاتے ہیں یہ المیہ صرف عدلیہ کا نہیں بلکہ دیگر اداروں کا ہے جب 2000میں اخبارات میں چھپا کہ جج پی سی او کا حلف اٹھائینگے میں نے ہاتھ سے لکھ کر اس کے خلاف درخواست دی، مجھ سے اس وقت سپریم کورٹ کے ججوں نے پوچھا کہ آپ نےکیوں درخواست دائر کی میں نے کہا کہ پی سی او کا حلف آئین کے حلف کی خلاف ورزی ہے۔سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تمام جج اور افواج پاکستان آئین پاکستان کی پاسداری کا حلف لیتے ہیں، ہر پاکستانی آئین کی پاسداری کا پابند ہے، پریس کی آزادی ، آزادی اظہار اور خواتین کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے، دنیا میں پریس کی آزادی میں پاکستان انتہائی نچلے درجے پر ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کچھ بنیادی حقوق کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں جن پر حملے ہو رہے ہیں ان میں آزادی صحافت، آزادی اظہار رائے اور بچیوں کی تعلیم شامل ہے ۔ علی احمد کرد شاید بھول گئے کہ بلوچستان کے جسٹس دراب پٹیل نے بھی پی سی او کے تحت بلوچستان سے حلف نہیں لیا تھا پاکستان انصاف کی فراہمی میں جتنا نیچے چلا گیا یہ بات قابل معافی نہیں، پاکستان پہلے 48ممالک میں شامل ہے جنہوں نے انسانی حقوق کے حوالےسے معاہدے پر دستخط کیے ۔ قائد اعظم کہتے تھے جمہوریت کیلئے آپ بھیک نہیں مانگتے یہ آ پکا حق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کیا آپ لوگوں کو اپنے پائوں تلے روندنا چاہتے ہیں کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور کہیں کہ ہمارا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نبی پاکﷺ نے فرمایا کہ جہاد اکبر جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 58/2بی کا اختیا ر سابق صدر پاکستان غلام اسحاق خاں نے استعمال کیا جب اس آرٹیکل کو آئین سے ختم کیا گیا تو کہا گیا کہ مارشل لا ء کا راستہ بند کر دیا گیا ہے لیکن 12اکتوبر 1999کو آمر مشرف نے دوبارہ اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ جنرل مشرف نے دوسری مرتبہ 2007میں آئین توڑا پہلے ججوں کو اپنا حلف دلوایا گیا پھر اپنے کسیز سننے کا کہا گیا۔ صدر سپریم کورٹ احس بھون نے کہا کہ ہماری عدلیہ بہت اچھی اور جج قابلیت رکھتے ہیں مگر تاثر ٹھیک نہیں ، آمروں نے بھی اپنے اقدامات کو عدلیہ سے قانونی حیثیت دلوائی ، اب وقت آ گیا ہے کہ جمہوریت کیلئے کھڑا ہو جانا چاہیے۔ احسن بھون نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کے ویژن اور آواز کی یاد میں یہ کانفرنس منعقد کی گئی ہے جس کو ہمیشہ یاد رکھنا ہوگا ۔ہمارے نوجوانوں کا جذبہ قابل تقلید ہے ، مگر آج کا پروگرام سیاسی نہیں ہے بلکہ ہمیں وہ تجاویز دینا ہیں جو اداروں ، ملک اور دنیا کے حوالےسے ہمیں آگے لے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا کی آزادی اور عدلیہ دبائو میں ہیں۔ احسن بھون نےعلی احمد کرد کی تقریر پر تنقید کرتے ہوئے کہا آج کوئی سیاسی جلسہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کیلئے سفارشات پیش کرنی ہیں یہاں شیم شیم کے نعرے نہیں لگنے چاہئیں تھے، تمام مہمان قابل احترام ہیں۔ وکیل رہنماء اور سابق صدر سپریم کورٹ بار علی احمد کرد نے کہا کہ اس وقت ملک میں کون سی جوڈیشری موجود ہے؟ کیا عدلیہ وہ ہے جہاں صبح سے شام تک لوگ داد رسی کیلئے آتے ہیں اور شام کو سینے پر زخم لیکر جاتے ہیں؟ آج ہماری عدلیہ دنیا میں سب سے نچلے نمبروں پر ہے ،میرا حق ہے کہ عدلیہ پر بات کروں موجودہ عدلیہ میں تقسیم ہے، ملک کی 22کروڑ عوام پر جو حادی ہیں اب انہیں نیچے آنا پڑے گا یا پھر عوام کو اوپر جانا پڑے گا اب برابری ہو گی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والے اور ایک عام شہری میں کوئی فرق نہیں ہو گا، ان کی تقریر پر حاضرین نے نعرے بازی کی۔ تقریب میں سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ر)میاں ثاقب نثار، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے حاضر سروس ججز اور وکلاء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کمپرئنگ کے فرائض مسلم لیگ (ن)سے تعلق رکھنے والے سینیٹر چوہدری اعظم نذیر تارڑ نے ادا کیے۔ سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس علی باقر نجفی، جسٹس شہرام سرور چوہدری، سابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار،سابق صدور سپریم کورٹ بار سید قلب حسن ، محمد یاسین آزاد سینئر صحافی حامد میر، جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ اقبال ، ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ ،پی ٹی آئی کے سینیٹر سید علی ظفر،یورپی یونین ، برطانوی ہائی کمیشن ،کینیڈا سمیت دیگر ممالک کےسفیروں ،مختلف ممالک کے مندوبین سمیت سپریم کورٹ ، پاکستان بار کونسل کے وکلاء ، سول سوسائٹی اور تنظیموں کے نمائندے بھی شریک ہوئے،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں