18

عدالت میں عمران خان کی خاتون جج سے ذاتی حیثیت میں معافی مانگنے کی استدعا فردِ جرم عائد نہیں کرتے-چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللّٰہ

اسلام آباد ہائی کورٹ میں خاتون جج کو دھمکی دینے پر توہینِ عدالت کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی، سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے معافی مانگ لی۔

سماعت شروع ہوئی تو عمران خان روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ میں معافی مانگتا ہوں اگر میں نے کوئی لائن کراس کی، کبھی بھی عدلیہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی نیت نہیں تھی، یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ کبھی بھی ایسا عمل نہیں ہو گا۔

خاتون جج سے ذاتی حیثیت میں معافی مانگنے کی استدعا
عدالت میں عمران خان نے خاتون جج سے ذاتی حیثیت میں معافی مانگنے کی استدعا کر دی اور کہا کہ اگر خاتون جج کو تکلیف پہنچی ہے تو معافی مانگنے کو تیار ہوں۔

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ آج چارج فریم نہیں کر رہے، آپ کا بیان ریکارڈ کرتے ہیں، فردِ جرم عائد نہیں کرتے، آپ نے اپنے بیان کی سنگینی کو سمجھا، ہم اس کو سراہتے ہیں، آپ تحریری حلف نامہ جمع کرائیں، عمران نیازی صاحب! بیانِ حلفی داخل کریں، عدالت جائزہ لے گی۔

عمران خان نے کہا کہ اگر عدالت کچھ اور چاہے تو وہ بھی کرنے کو تیار ہوں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ ہم آپ کی اس بات کی ستائش کرتے ہیں، آپ کا بیان ریکارڈ کرتے ہیں، فردِ جرم عائد نہیں کرتے، 29 ستمبر کو حلف نامہ جمع کرائیں۔

عمران خان نے کہا کہ تقریر میں خاتون جج کو دھمکانے کی نیت نہیں تھی۔

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ آپ کی عدالت ہے، ہم آپ کے عدالت میں بیان کو قدرکی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت 29 ستمبر تک ملتوی کر دی جس کے بعد عمران خان عدالت سے واپس روانہ ہو گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں