15

عمر شریف کیلئے بک ایئر ایمبولینس کمپنی کی ہنگامی سروسز اور ذمہ داریاں کیا؟

مشہور پاکستانی کامیڈین عمر شریف کے انتقال کے بعد ان کے اہلخانہ اور مداحوں کی جانب سے اِنہیں امریکا پہنچانے کے لیے بک ایئر ایمبولینس کمپنی کی ہنگامی سروسز اور ذمہ داریوں کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اس سلسلے میں ایئر ایمبولینس کمپنی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے مطالبات بھی سامنے آرہے ہیں۔

امریکا میں عمر شریف کے معالج ڈاکٹر طارق شہاب کی کوششوں سے کینیڈا کی ’آن کال انٹرنیشنل کمپنی‘ کے ذریعے ایئر ایمبولینس بک کی گئی، عمر شریف کو امریکا لے جانے کے لیے آن کال انٹرنیشنل نے بکنگ کا ریفرنس نمبر 2118985 جاری کیا۔

اسی ریفرنس کے ساتھ سندھ حکومت نے اکنامکس اور فنانس ڈویژن کی اجازت سے 20 سمتبر کو 169800 امریکی ڈالر یعنی دو کروڑ 84 لاکھ 98 ہزار روپے کی خطیر رقم آن کال انٹرنیشنل کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کی۔

آن کال انٹرنیشنل نے عمر شریف کو امریکا پہنچانے کی ذمہ داری جرمنی کی ایئر ایمبولینس کمپنی ’ایف اے آئی رینٹ کے جیٹ‘ کو دے دی۔

27 طیاروں کا ہوائی بیڑا رکھنے والی ایئر ایمبولینس کمپنی نے مریض کی جان بچانے کے لیے فوری اور ہنگامی نوعیت کے اقدامات کرنے کی بجائے پاکستان پہنچنے اور عمر شریف کو امریکا لے جانے کے لیے 5 دن کا وقت دیا، خطیر رقم کی ادائیگی اور کنفرمیشن کے بعد 25 ستمبر تک ایئر ایمبولینس کو کراچی پہنچ جانا چاہیے تھا۔

عمر شریف کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ کمپنی کی جانب سے زیادہ تاخیر ہوتی تو ایئر ایمبولینس 26 ستمبر کو ہی پہنچ جاتی مگر ایسا نہیں ہوا، اسپتال کی میڈیکل ہسٹری میں ریکارڈ پر ہے کہ 21 سے 25 ستمبر تک عمرشریف کی صحت بہت اچھی تھی یہاں تک کہ اِنہیں سی سی یو سے کمرے میں منتقل کردیا گیا تھا، عمر شریف کو امریکا لے جانے اور ہوائی سفر کرنے کے لیے 5 دن کا یہ بہترین وقت تھا مگر یہ سب ایئر ایمبولینس کے بروقت پہنچنے کی صورت میں ممکن تھا۔

ایئر ایمبولینس منیلا سے 27 ستمبر کو صبح روانہ ہوئی جو اسی دن 11:56 پر کراچی پہنچی اور 12:30 بجے روانگی مقرر کر دی۔

27 ستمبر کو جب طیارہ کراچی پہنچا تو اسپتال میں عمر شریف کے ڈائیلائسز شیڈول تھے، ڈائیلائسز کے دوران عمر شریف کی حالت پھر بگڑ گئی اور ان کا بلڈ پریشر انتہائی سطح پر کم ہوگیا۔

اس صورتحال میں عمر شریف طویل فضائی سفر کے لیے قطعی طور پر فٹ نہیں تھے جس پر ایئر ایمبولینس کو مزید 48 گھنٹے تک روکنے کی باتیں شروع ہوئیں تو اہل خانہ کے مطابق ایئر ایمبولینس کے عملے نے 24 گھنٹے سے زائد وقت تک کراچی میں رکنے سے صاف انکار کر دیا۔

کمپنی کی جانب سے یہ بھی صاف طور پر سامنے آیا کہ اگر عمر شریف کی صحت ہوائی سفر کرنے کے قابل نہ ہوئی تو وہ عمر شریف کو اسپتال میں ہی چھوڑ کر چلے جائیں گے۔

دوبارہ کال کرنے کی بات کی گئی تو ایئرایمبولینس دوبارہ بک کرنے اور پوری رقم کی دوبارہ ادائیگی کی باتیں کی گئیں، اس صورتحال پر خاندان میں کہرام مچ گیا، اہلخانہ کی جانب سے صدر مملکت، وزیر اعظم اور سندھ حکرمت سے مداخلت اور ایئر ایمبولینس کمپنی کو 48 گھنٹے تک روکنے کی اپیل کی گئی۔

اس دوران عمر شریف کی صحت پھر بہتر ہونے لگی اور ڈاکٹرز نے 27 ستمبر کو رات گئے اِنہیں سفر کے لیے فٹ قرار دے دیا، ایئر ایمبولینس کمپنی کی جانب سے مریض کو لے جانے کے لیے 28 ستمبر کی صبح 11 بجے کراچی سے روانگی کا شیڈول دے دیا گیا تھا جس کے لیے عمرشریف کو ایئرپورٹ پہنچایا گیا۔

انتہائی نگہداشت کے مریض کو شہر کے مہنگے ترین اسپتال سے انتہائی غیر ذمے دارانہ انداز میں ایئرپورٹ پہنچایا گیا، تمام ضروری لوازمات سے لیس ایمبولنس کی بجائے ایک غیر معروف ادارے کی کرایہ کی گاڑی نما ایمبولینس منگوائی گئی جس میں اس طرح کے سیریئس مریض کی جان کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں تھا، اس گاڑی کا عملہ غیر تربیت یافتہ تھا۔

امراض قلب کے ایسے مریض جسے علاج کے لیے ایئرایمبولنس میں امریکا روانہ کیا جانا تھا کی اس دیسی طرز کی گاڑی میں دھکم پیل سے طبیت مزید بگڑ گئی، یہاں یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ مہنگے ترین نجی اسپتال نے ملک کے اس قیمتی اثاثے کو اپنی محفوظ ترین ایمبولینس میں کیوں ایئر ایمبولینس تک نہیں پہنچایا؟

صدر مملکت، وزیر اعظم، گورنر، وزیر اعلیٰ اور پارٹی قیادت کے قافلوں کے پیچھے بھاگتی دوڑتی کسی جدید ایمبولنس کو تھوڑی دیر کے لیے بھی طلب نہیں کیا گیا اور نہ ہی ایدھی یا امن ایمبولینس جیسے خیراتی ادارے کو بلوایا گیا، نہ جانے کیوں اس اہم ترین مرحلے میں متعلقین نے اپنا بھرپور کردار ادا نہیں کیا، کیا اس مرحلے کو بخوبی انجام دینا ایئرایمبولینس کمپنی کی ذمے داری نہیں تھی ؟

رہی سہی کسر کراچی ایئرپورٹ پر عمر شریف کو اسپتال لانے والی گاڑی سے ایئر ایمبولنس میں منتقلی کے مرحلے نے پوری کر دی، عمرشریف کو گاڑی سے ایک عام سے اسٹریچر پر باہر نکالا گیا، ایئرپورٹ پر گرمی اور رخصت کرنے والے لوگوں کے ہجوم کے درمیان عمر شریف کو اسٹیچر پر کچھ دیر تک فرش پر رکھا گیا، اگلا مرحلہ اس سے بھی تشویشناک تھا جس کی تمام ذمے داری ایئرایمبولنس کے عملے پر عائد ہوتی ہے کہ انتہائی نگہداشت کے مریض کو ایک عام اسٹریچر پر اس انداز سے ایئر ایمبولینس میں سوار کرایا گیا جیسے بس اڈوں پر بھاری بھر کم سامان گاڑیوں کی چھتوں پر پہنچایا جاتا ہے، اس مرحلے کی تصویروں کو میڈیا پر نشر ہوتا دیکھ کر انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ کی دھجیاں اڑتی نظر آئیں۔

عمر شریف کا امریکا میں فوری پہنچنا ضروری تھا اور اس کا آپریشن کیا جانا تھا ایئر ایمبولینس کمپنی نے اسے عام نوعیت کا کیس لیتے ہوئے ہنگامی اقدامات نہیں کیے، عمر شریف طیارہ میں سفر کر رہے تھے تو ان کی اہلیہ زریں غزل کو عملے نے ایئر ایمبولینس میں نقص سے آگاہ کیا۔

کمپنی نے نیورمبرگ ایئرپورٹ پر اس روز موجود اپنے 9 دیگر ایئرایمبولنس طیاروں میں سے کسی ایک کو عمر شریف کی امریکا کی پرواز جاری رکھنے کے لی تیار کیوں نہیں کیا؟ اس کے بجائے عمر شریف کو عام انداز میں جرمن اسپتال داخل کیوں کرا دیا گیا۔؟

نیورمبرگ ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے تین دن بعد تک اسپتال میں عمر شریف کی صحت ٹھیک تھی ان کے امریکا میں معالج ڈاکٹر طارق شہاب کے مطابق وہ ہر وقت نیورمبرگ ساؤتھ اسپتال کے ڈاکٹرز سے رابطے میں تھے۔

یومیہ بنیادوں پر ہمیں دی گئی بریفنگ میں بھی ڈاکٹر طارق شہاب نے عمر شریف کو فٹ اور صحت کو بہترین قرار دیا، یہاں تک کہ عمر شریف کے انتقال سے محض 10 گھنٹے قبل ڈاکٹر طارق شہاب نےعمر شریف کو صحت مند قرار دیا تھا۔

سوال یہی ہے کہ عمر شریف کی صحت اچھی تھی تو انہیں تین دن کے دوران ایئر ایمبولینس کے ذریعے امریکا روانہ کیوں نہیں کیا گیا؟ کراچی سے عمر شریف کو نیورمبرگ تک پہنچانے والی ایئر ایمبولینس بھی اس دوران ٹھیک ہوگئی تھی جس نے 30 ستمبر اور یکم اکتوبر کے دو دنوں کے دوران مختصر دورانیہ کی 4 ٹیسٹ فلائٹس کیں۔

یہ طیارہ ٹھیک نہ بھی ہوتا تو نیورمبرگ ایئرپورٹ پر ’ایف اے آئی رینٹ اے جیٹ‘ کمپنی کے 8 ایئرایمبولینس طیارے موجود تھے، ان کے ذریعے مریض کو منزل تک پہنچایا جاسکتا تھا۔

اب آخر میں اداکار عمر شریف کے جرمنی کے اسپتال میں انتقال کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیں تو بھی ایئر ایمبولینس کمپنی کے غیر ذمہ دارانہ کردار پر رونا آتا ہے۔

بین الاقوامی سفر کا تجربہ رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ ہوائی سفر کے دوران مسافروں کے تمام معاملات کی ذمہ داری ایئر لائن پر عائد ہوتی ہے، اگر کوئی پرواز تاخیر یا فنی خرابی کا شکار ہوجائے تو مسافروں کے قیام و طعام اور کسی بھی طریقے سے منزل تک پہنچانے کی ذمہ داری متعلقہ ایئر لائن کی ہوتی ہے خواہ اس کے لیے کتنے ہیں اخراجات آئیں اور جتنا بھی عرصہ درکار ہو ایئر لائنز اپنے کسٹمزر کے اعتماد کے لیے ان کی ہر شکایت کا ازالہ کرتی ہے۔

سفر کے دوران اگر کوئی مسافر انتقال کر جائے تو اس کی میت منزل تک پہنچانے کی ذمہ داری بھی ایئر لائن پر ہوتی ہے مگر عمر شریف کے لیے ہائیر کی گئی یہ کون سی ایئر ایمبولینس سروس ہے جس نے عمر شریف کے انتقال کے بعد میت اور ان کی اہلیہ کو دیارغیر میں لاوارث چھوڑ دیا۔

پاکستانی سفارتی عملہ اور کمیونٹی نہ ہوتی تو جرمن اسپتال میں پڑی اپنے شوہر کی میت کے اس کی بیوی کیسے وطن پہنچاتی، یہ اس صورتحال کا شکار شخص ہی جان سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں