20

عورتوں کو جتنے حقوق ہمارے دین اسلام نے دئیے دنیا کا کوئی اور مذہب نہیں دیتا۔ صوبائی وزیر تعلیم پنجاب مراد راس

عورتوں کو جتنے حقوق ہمارے دین اسلام نے دئیے دنیا کا کوئی اور مذہب نہیں دیتا۔ صوبائی وزیر تعلیم پنجاب مراد راس
یماری حکومت نے چند سالوں میں صوبے بھر کے 7 ہزار سے زائد پرائمری سکولوں کو ایلیمنٹری میں اپگریڈ کیا-صوبائی وزیر
صوبائی وزیر تعلیم پنجاب کی بطور مہمان خصوصی تیسری سالانہ صوبائی بیداری کانفرنس برائے خواتین حقوق میں شرکت کی
لاہور(نمائندہ سدید)صوبائی وزیر تعلیم پنجاب مراد راس نے بطور مہمان خصوصی تیسری سالانہ صوبائی بیداری کانفرنس برائے خواتین حقوق میں شرکت کی اور اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ عورتوں کو جتنے حقوق ہمارے دین اسلام نے دئیے دنیا کا کوئی اور مذہب نہیں دیتا۔ ہم نے محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب میں آن لائن تبادلوں کا سسٹم ای ٹرانسفر متعارف کرایا جس کی مدد سے آج صوبے بھر کے اساتذہ گھر بیٹھے اپنے تبادلوں کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔ مراد راس نے کہا کہ ای ٹرانسفر سسٹم کے آغاز سے خواتین کے لئے بہت آسانی و سہولت ہوئی ہے کیونکہ تبادلوں کے لئے پہلے انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ صوبائی وزیر مراد راس کا انصاف آفٹرنون سکول کے حوالے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ چند سالوں میں صوبے بھر کے 7 ہزار سے زائد پرائمری سکولوں کو ایلیمنٹری میں اپگریڈ کیا ہے تاکہ ہمارے بچوں کا تعلیمی خرج نہ ہو۔ پرائمری کے بعد ایلیمنٹری سکول قریب نہ ہونے کی بدولت زیادہ تر لڑکیاں سکول چھوڑ جاتیں تھیں۔ انصاف آفٹرنون سکولز پروگرام کو خصوصی طور پر بچیوں کی تعلیمی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا۔ وزیر سکول ایجوکیشن پنجاب مراد راس کا مزید کہنا تھا کہ ایک ماں کے پڑھے لکھے ہونے کا مطلب ایک پورے خاندان کا پڑھا لکھا ہونا ہے۔ عورتوں کے حقوق کے لیے جو بھی ہم کر سکیں ضرور کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ مراد راس نے یہ بھی کہا کہ تعلیم کے شعبے میں جتنا کام ہم نے پچھلے چار سال میں کیا کسی نے چالیس سال میں بھی نہیں کیا۔ محکمہ تعلیم کو مکمل طور پر ٹھیک کرنے کے لئے کم از کم دس سال درکار ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے تعلیم کے شعبے کو دانستہ طور پر پیچھے دھکیلا گیا۔سالانہ بیداری کانفرنس برائے خواتین حقوق کا انعقاد لاہور کے نجی ہوٹل میں کیا گیا۔ کانفرنس میں ملالہ فنڈ، پنجاب پولیس، لوکل گورنمنٹ و دیگر اداروں کے نمائندگان موجود تھے۔ کانفرنس میں مُوٹ کورٹ کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں بچیوں نے اپنے تحفظات کے حوالے نمائندگان سے سوال کئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں