44

غربت اور مہنگائی ( تحریر میاں عصمت رمضان)

کہتے ہے کہ غریب جب بھی مرتا ہے غربت کے ہاتھوں مرتا ہے-اسکو ہر وقت ایک ہی پریشانی لگی رہتی ہے کہ اپنا اور اپنے بچون کا پیٹ کیسے پالو.کہا سے انکے لیے کھاںے کا انتظام کروں.روز کی آمدن یا چند ہزار ماہنامہ کمائی سے اسکا پیٹ نہیں پلتا-لیکن ہمارے وزیراعظم کے مشیر خزانہ و محصولات شوکت ترین نے قوم کو معاشی صورت حال میں بہتری کی نوید سناتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں اصل مسئلہ غربت نہیں مہنگائی ہے جبکہ بظاہر یہ دونوں مسائل ایک ہی سکے کے دو رُخ نظر آتے ہیں۔ اگر لوگ غریب نہ ہوں اور بہتر مالی حیثیت کی وجہ سے ان کی قوتِ خرید مستحکم ہو تو مہنگائی ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوگی جیسا کہ دولت مند ملکوں میں عالمگیر مہنگائی کے باوجود دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعے کو ایک تقریب سے خطاب کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں مشیر خزانہ نے ورلڈ بینک کے تازہ اعداد و شمار کے حوالے سے اصرار کیا کہ ملک میں غربت کی شرح کم ہورہی ہے۔ مہنگائی کو اصل مسئلہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس نے شہری علاقوں میں نچلے متوسط طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے جبکہ اچھی زرعی فصلوں کے سبب دیہی علاقے ترقی کی منازل طے کررہے ہیں۔ ایسا ہے تو یہ بڑی خوش آئند بات ہے لیکن اسے حقیقت میں ڈھالنے کے لیے ضروری ہے کہ مناسب اقدامات کے ذریعے اچھی فصلوں کے بھرپور فائدے کی کسان تک منتقلی یقینی بنائی جائے۔ آئی ایم ایف سے تازہ معاہدے پر پائے جانے والے خدشات کو بھی مشیر خزانہ نے بے بنیاد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ٹیکس بڑھانے کے مطالبے کو تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے قوم کو یقین دہانی کرائی کہ مالیاتی ادارے سے ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں نہ کوئی نیا ٹیکس لگایا جائے گا نہ پہلے سے عائد محصولات کی شرح بڑھائی جائے گی بلکہ صرف بعض اشیاء پر دی گئی ٹیکس کی چھوٹ ختم کی جائے گی اور اس اقدام سے عوام کو نقصان نہیں فائدہ ہوگا۔ ان کا موقف تھا کہ ٹیکسوں پر چھوٹ کا فائدہ عوام کو نہیں ہوتا اس لیے اب انہیں ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے گی۔ مشیر خزانہ کے اس بیان کی حقیقت بھی عملی نتائج ہی سے واضح ہوگی ورنہ بظاہر تو یہی نظر آتا ہے کہ سات ارب کے ٹیکسوں کی چھوٹ ختم ہوجانے کے بعد متعلقہ کاروباری حلقے قیمتوں میں اضافے کے ذریعے اسے آخری صارف تک منتقل کردیں گے، 22کروڑ پاکستانیوں میں سے جن کا تناسب کم از کم 95فیصد ہے جبکہ ٹارگٹڈ سبسڈی کا تجربہ اگر کامیاب ہوا بھی تو متاثرین کی نہایت محدود تعداد ہی اس سے مستفید ہو سکے گی۔ روپے کی قدر میں ہولناک رفتار سے ہوتی ہوئی کمی بھی مشیر خزانہ کے مطابق کوئی فکرمندی کی بات نہیں۔ انہوں نے اس ضمن میں اپنے اس حالیہ دعوے کو دُہرایا کہ یہ صورت حال سٹہ بازوں کی کارروائی کا نتیجہ ہے ورنہ ڈالر کی اصل قیمت آٹھ نو روپے تک کم ہے اور روپے کی قدر بہتر کرنے کے حکومتی اقدامات کے بعد سٹے باز جلد ہی مار کھائیں گے لہٰذا لوگ روپے کی قدر گرنے کی افواہوں پر توجہ نہ دیں۔ تیل کی قیمتوں میں جلد ہی کمی کی خوش خبری بھی مشیر خزانہ نے سنائی۔ معیشت کی بحالی کے ثبوت کے طور پر ان کا کہنا تھا کہ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں نئی کمپنیوں کا تیزی سے اندراج ہورہا ہے۔ ماضی کی نسبت کمپنیوں کی رجسٹریشن میں بیس فی صد کا اضافہ ہوا ہے اور ان نئی کمپنیوں نے کاروبار کا آغاز کیا تو معیشت میں بہتری ہوگی۔نئی کمپنیوں کا قیام بلاشبہ مستحکم معاشی بحالی کے حوالے سے ایک امید افزاء علامت ہے تاہم نئی کمپنیوں کی کامیابی کے لیے بجلی اور گیس کی ارزاں اور خاطر خواہ فراہمی، قرض کے حصول کی بہتر سہولتوں اور دیگر اقدامات کے ذریعے سازگار حالات حکومت ہی کو مہیا کرنا ہوں گے جبکہ ملک کو قرضوں کے دباؤ سے نجات دلانے کیلئے غیر ضروری سرکاری اخراجات کا آخری ممکنہ حد تک کم کیا جانا بھی ناگزیر ہے، وزیروں مشیروں کی تعداد کو حقیقی ضرورت تک محدود اوران کو دی گئی فیاضانہ مراعات کو آخری حد تک کم کرکے اس ہدف کے حصول کے لیے نتیجہ خیز پیش رفت کی جا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں