217

قصائی کے تختے کے نیچے تحریر: رخسانہ سحر

قصائی کے تختے کے نیچے بیٹھے کتوں کا کوئی اتحاد نہیں ہوتا۔ وہ بس ہڈی کی آس میں اکٹھے ہوتے ہیں، نہ اُن میں وفاداری ہوتی ہے، نہ اصول پسندی، نہ مقصدیت۔ وہ نہ ساتھ بیٹھنے والوں کے سگے ہوتے ہیں، نہ قصائی کے۔ اُن کا سارا ایمان بس ایک ہی چیز سے بندھا ہوتا ہے — ہڈی۔
یہ جملہ سننے میں عام سا لگتا ہے، مگر اگر غور کریں تو ہماری سیاست، ادب، مذہب اور صحافت — سب اس منظر سے کچھ کم نہیں۔ آج معاشرے کے ہر شعبے میں ایسے لوگ کثرت سے موجود ہیں جو تختے کے نیچے اپنی جگہ سنبھالے بیٹھے ہیں — بس انتظار میں کہ کب کوئی بوٹی نیچے گرے۔
سیاست: نظریے نہیں، ہڈی کے گرد گھومتے اتحاد
ہمارے ہاں جتنے سیاسی اتحاد وجود میں آتے ہیں، اُن میں نظریے کی مقدار نمک کی مانند اور مفاد کی مقدار نمکین گوشت کی مانند ہوتی ہے۔ جیسے ہی کوئی نئی حکومت بنتی ہے، مخالفین کے لہجے بدلنے لگتے ہیں، زبانیں نرم ہو جاتی ہیں، وفاداریاں تازہ ہو جاتی ہیں۔
کل تک جنہیں “چور” کہا جاتا تھا، آج اُن کے ساتھ “مل کر ملک بچایا جا رہا ہے”۔ کیونکہ اصل ہدف ملک نہیں، ہڈی ہے — وہ عہدہ، وزارت، فنڈ یا حلقہ انتخاب جس کی ضمانت قصائی دے دے۔
ادب: تعریفیں بھی اب تختے سے مشروط ہیں
ادبی دنیا کبھی تخلیق، خلوص، اور معیار کا گہوارہ تھی۔ مگر اب اکثر جگہوں پر ادب بھی بوٹی کی خوشبو سے مشروط ہو چکا ہے۔ مشاعروں کے منتظمین، جج حضرات، نقاد اور سینیئرز — اکثر وہی نام چنتے ہیں جن سے کوئی ذاتی مفاد، چاپلوسی یا ہدیہ جُڑا ہو۔
کچھ خواتین شاعرات، جو “ادب برائے نمائشیات” کی ماہر ہو چکی ہیں، ہر مشاعرے، ایوارڈ اور تقریب کی زینت بنتی ہیں، کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ کس تختے کے نیچے بیٹھنا ہے۔ جبکہ وہ سنجیدہ اور باوقار تخلیق کار خواتین، جو نہ جھکتی ہیں، نہ بکتی ہیں، خاموشی سے کونے میں بیٹھی رہ جاتی ہیں۔ ان کے حصے میں صرف نظراندازی آتی ہے۔
میڈیا اور مذہب: اصول نہیں، ہڈی کے وکیل
ٹی وی چینلز پر جو صحافی کل تک حکومت کے لتے لے رہے تھے، آج اُس کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں۔ سب کچھ بدل گیا، بس وجہ ایک ہی ہے — “ریٹنگ” اور مراعات کی ہڈی۔
اسی طرح کچھ مذہبی راہنما بھی صرف اُس فقہ یا سوچ کو “حق” کہتے ہیں جس سے مدرسہ چلتا ہے، مسجد کا چندہ آتا ہے یا بیرونِ ملک کے دورے نصیب ہوتے ہیں۔ دین، نیت، علم سب کچھ ہڈی کی خوشبو میں تحلیل ہو جاتا ہے۔
نتیجہ: اصولوں کے لیے جینا، ہڈی کے لیے نہیں
ایسے معاشرے میں جہاں ہر ادارہ ہڈی کی طرف جھکتا ہو، وہاں حق، سچ، خلوص اور وقار دفن ہو جاتے ہیں۔ کتے جو صرف ہڈی کی طلب میں اکٹھے ہوں، کبھی “قوم” نہیں بن سکتے۔ اتحاد صرف اُس وقت بامعنی ہوتا ہے جب وہ اصول، ایمان اور ضمیر پر قائم ہو، نہ کہ کسی وقتی بوٹی پر۔
> وقت آ گیا ہے کہ ہم قصائی کے تختے سے اٹھیں، اور انسان بننے کی کوشش کریں۔
کیونکہ اصولوں کے لیے بھوکا رہنا، مفاد کے لیے جھکنے سے بہتر ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں