17

قوم کا حقیقی آثاثہ—- محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیرخان-تحریر – میاں عصمت رمضان

قوم کا حقیقی آثاثہ—— محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیرخان
کہتے ہے کہ جاب گھر میں بیٹا پیدا ہوتا ہے تو پورے گھر میں خوشی ہوتی ہے اس گھر میں عید کا سماں ہوتا ہے خصوصی والدین خوشی سے پھولے نہیں سماتے- ایسی ہی ایک خوشی 1 اپریل 1936ء کو ہندوستان کے شہر بھوپال میں ایک اردو بولنے والے غوری پٹھان گھرانے میں بھی ہوئی جب ایک سکول ٹیچر عبدالغفور خان کے گھر ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام عبدالقدیرخان رکھا گیا اس خاندان کو کیا پتہ تھا کہ ایک دن ان کا بیٹا ایک ایسا عظیم انسان بن جائے گا جیسے دنیا محسن پاکستان اور ایک عظیم ایٹمی سائسندان کے نام سے یاد کرے گی-
عبد القدیر خان پندرہ برس یورپ میں رہنے کے دوران مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوؤن میں پڑھنے کے بعد 1976ء میں واپس پاکستان لوٹ آئےـ عبد القدیر خان نے ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئری کی اسناد حاصل کیں-
ڈاکٹر عبدالقدیرخان نے تعلیم حاصل کرنے کے بعد 31 مئی 1976ء کو ذوالفقار علی بھٹو کی دعوت پر “انجینئری ریسرچ لیبارٹریز” کے پاکستانی ایٹمی پروگرام میں حصہ لیا۔ بعد ازاں اس ادارے کا نام صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے یکم مئی 1981ء کو تبدیل کرکے ’ ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘ رکھ دیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان نے نومبر 2000ء میں ککسٹ نامی درسگاہ کی بنیاد رکھی۔
عبد القدیرخان وہ مایہ ناز سائنس دان تھے جنہوں نے آٹھ سال کے انتہائی قلیل عرصہ میں انتھک محنت و لگن کی ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کرکے دنیا کے نامور نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کو ورطہ حیرت میں ڈالدیا۔
مئی 1998ء کو آپ نے بھارتی ایٹمی تجربوں کے مقابلہ میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے کی درخواست کی-بالآخر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دورمیں آپ نے چاغی کے مقام پر چھ کامیاب تجرباتی ایٹمی دھماکے کیے ـ
اس موقع پر عبد القدیر خان نے پورے عالم کو پیغام دیا کہ : ہم نے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنادیا ہے۔
عبد القدیرخان پر ہالینڈ کی حکومت نے غلطی سے اہم معلومات چرانے کے الزام میں مقدمہ دائر کیا لیکن ہالینڈ، بیلجیئم، برطانیہ اور جرمنی کے پروفیسروں نے جب ان الزامات کا جائزہ لیا تو انہوں نے عبد القدیر خان کو بری کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ جن معلومات کو چرانے کی بنا پر مقدمہ داخل کیا گیا ہے وہ عام کتابوں میں موجود ہیں ـ جس کے بعد ہالینڈ کی عدالت عالیہ نے ان کو باعزت بری کردیاـ
کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز نے نہ صرف ایٹم بم بنایا بلکہ پاکستان کیلئے ایک ہزار کلومیٹر دور تک مار کرنے والے غوری میزائیل سمیت چھوٹی اور درمیانی رینج تک مارکرنے والے متعدد میزائیل تیار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
عبد القدیرخان کو صدر جنرل پرویز مشرف نے بطور چیف ایگزیکٹیو اپنا مشیر نامزد کیا اور جب جمالی حکومت آئی تو بھی وہ اپنے نام کے ساتھ وزیراعظم کے مشیر کا عہدہ لکھتے تھے لیکن 19 دسمبر 2004ء کو سینیٹ میں ڈاکٹر اسماعیل بلیدی کے سوال پر کابینہ ڈویژن کے انچارج وزیر نے جو تحریری جواب پیش کیا ہے اس میں وزیراعظم کے مشیروں کی فہرست میں ڈاکٹر قدیر خان کا نام شامل نہیں تھاـ
ڈاکٹر قدیر خان نے ہالینڈ میں قیام کے دوران ایک مقامی لڑکی ہنی خان سے شادی کی اور جن سے ان کی دو بیٹیاں ہوئیں۔ دونوں بیٹیاں شادی شدہ ہیں-
ڈاکٹر قدیر خان کو وقت بوقت 13 طلائی تمغے ملے، انہوں نے ایک سو پچاس سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی لکھے ہیں ـ
1993ء میں کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند سے نوازا۔
چودہ اگست 1996ء میں صدر فاروق لغاری نے ان کو پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا جبکہ 1989ء میں ہلال امتیاز کا تمغہ بھی انکو عطا کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر قدیر خان نےسیچٹ sachet کے نام سے ایک این جی او بھی بنائی جو تعلیمی اور دیگر فلاحی کاموں میں سرگرم ہےـ پرویز مشرف دور میں پاکستان پر لگنے والے ایٹمی مواد دوسرے ممالک کو فراہم کرنے کے الزام کو ڈاکٹر عبد القدیر نے ملک کی خاطر سینے سے لگایا اور نظربند رہے۔
اور آخرکار قوم کا حقیقی آثاثہ اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیرخان 10 اکتوبر 2021 کو اسلام آباد میں اس دنیا فانی کو ہمیشہ کیلیے خیر اباد کہ کر اپنی آخری آرام گاہ کی طرف کوچ کر گئے۔ اللّٰہ پاک ان کی بخشش فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے آمین۔
آخر میں میں پاکستان کی غیور قوم اور ماضی کے حکمرانوں اورحکومت وقت سے ایک معصومانہ سوال کرنا چاہوں گا کہ کیا ہم نے ایک سچے اور مخلص پاکستانی ہیرو کو اسکی اس ملک کے ساتھ محبت و عقیدت کا بھرپورصلہ دیا ہے کیا ہمارا ضمیر مطمن ہے کہ ہم نے اس قومی ہیرو کے ساتھ انصاف کیا ہے اورجسکے وہ حقدار تھے مرنے سے پہلے ان کا وہ حق ادا کیا ہے اور اور مرنے کے بعد انکا حق ادا کرے گے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں