21

لاہورعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے زیر اہتمام سالانہ تقریری مقابلہ بسلسلہ تحفظ ختم نبوت منعقد

لاہورعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے زیر اہتمام سالانہ تقریری مقابلہ بسلسلہ تحفظ ختم نبوت منعقد
اس مقابلہ کا مقصد نسل نو میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور فضیلت کو اجاگر کرنا ہے- علما کرام
لاہور (پ ر) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے زیر اہتمام مرکز ختم نبوت جامع مسجد عائشہ نیو مسلم ٹاؤن لاہور میں سالانہ تقریری مقابلہ بسلسلہ تحفظ ختم نبوت منعقد ہوا۔ مقابلہ دینی مدارس،کالجز، یونیورسٹیزکے طلباء نے شرکت کی۔ تقریری مقابلہ کاآغاز قرآن کریم کی تلاوت سے انعقاد پزیر ہوا تلاوت قرآن مولانا اسامہ سالم،اورہدیہ نعت مقبول رسول قاری راشد سراجی نے پیش کی۔تقریر ی مسابقہ میں 50 طلباء نے حصہ لیا۔تقریری مقابلہ میں تین موضوع کا انتخاب کیا گیا، عقیدہ ختم نبوت قرآن وحدیث کی روشنی میں، تحفظ ختم نبوت میں علامہ محمد اقبال کا کردار، قادیانیت آ ئین پاکستان کے تناظر میں۔پروگرام مہمانان گرامی مو لانا ڈاکٹر عبد الواحد قریشی، مولانا مفتی انیس احمد مظاہری، مولانا خرم یوسف، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا قاری علیم الدین شاکر، مولانا جمیل الرحمن اختر، میاں پیر رضوان نفیس، مولانااسامہ سالم، مولاناشیراحمد، مولاناقاری شفیق، مولانامفتی محمد حمزہ، مولانامحمد مدثر، مولانافضل الرحمن،مولاناقاری صدیق توحیدی، مولانامفتی جاوید حسن، مولاناعبدالعزیز، بھائی ابراہیم، مولاناقاری طاہر، مولانا سید عبداللہ شاہ، قاری محمدعابدسردار، مولانا محمد سعد، مولانا محمدیونس مدنی، مولانامحمدسمیع اللہ سمیت علماء اور طلباء نے شرکت کی۔ منصفین کے فرائض مولانا محبوب الحسن طاہر، مولانا ظہیراحمد قمر،مولانا مختار الحق ظفر نے سرانجام دیے۔ تقریری مقابلہ میں تمام شرکا ء کو ا عزازی انعام تین مختلف کتب کا سیٹ دیا گیا مسابقہ میں پہلی پوزیشن دارلعلوم اسلامیہ اقبال ٹاؤن کے طالب علم علی شیر بن نصر محمد نے حاصل کی جسے قیمتی کتب کا سیٹ اور نقد انعام 10000ہزارروپے دیا گیا،دوسری پوزیشن مدرسہ مظاہرالعلوم آ ر اے بازار کے طالب علم محمد طلحہ انور بن محمد انور نے حاصل کی جسے قیمتی کتب کا سیٹ اور نقد انعام 7000ہزارروپے دیا گیا، تیسری پوزیشن جامعہ فتحیہ اچھرہ کے طالب علم ابو طلحہ بن محمد اسلم نے حاصل کی قیمتی کتب کا سیٹ اورنقدانعام5000ہزارروپے دیا گیا علماء نے سٹوڈنٹس کی محنت کو سراہا۔ علما کرام نے کہا کے اس مقابلہ کا مقصد نسل نو میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور فضیلت کو اجاگر کرنا ہے ا ور نو جوان نسل کو فتنہ قادیانیت سے متعارف کروانا ہے تمام شرکاء نے اس عزم کا اظہار کہا کیا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کا کام زندگی بھر کرینگے۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی اپنے خطاب میں کہانے کہاکہ اسلام کے بنیادی عقائد ہیں جن کومانے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا۔ ان بنیادی عقائد میں ختم نبوت کا عقیدہ اساسی حیثیت رکھتا ہے، جس پر ہر مسلمان کا ایمان ہونا ضروری ہے منکرین ختم نبوت نے ایک نئے نبی کو مان کر خود اپنے راستے مسلمانوں سے جدا کرلئے ہیں، نئی نبوت پر ایمان لانے کے بعد ان کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔ مولانا عبدالواحد قریشی نے کہا کہ آج قادیانی پوری دنیا خصوصاًمغربی دنیا میں یہ پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ پاکستان میں منکرین ختم نبوت کے حقوق پامال کردیئے گئے ہیں، ان کے شہری حقوق معطل کردیئے گئے، اور انہیں پاکستان میں آزادی سے رہنے نہیں دیا جارہا حالانکہ دیکھا جائے تو وہ اسلام اور مسلمانوں کا نام استعمال کرکے مسلمانوں کے حقوق غصب کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں اور ہم کبھی قادیانی گروہ کو مسلمانوں کے حقوق غصب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں