42

لاہور: اورنج لائن ٹرین سروس کا آج سے باقاعدہ آغاز-وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے منصوبے کا افتتاح کردیا

لاہور(میاں عصمت سے) لاہوریوں کا انتظار ختم ، اورنج لائن ٹرین چل پڑی، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے منصوبے کا افتتاح کردیا ۔لاہور میں میٹرو اورنج لائن ٹرین سروس کا آج سے باقاعدہ آغاز ہوگیا، ٹرین کا افتتاح گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کیا تھا۔

انتظامیہ کی جانب سے اورنج لائن میٹرو ٹرین کا یکطرفہ کرایہ 40 روپے رکھا گیا ہے، بجلی سے چلنے والی ٹرین کو 8 گرڈ اسٹیشن بجلی فراہم کریں گے، ابتدائی طور پر ٹرین کو 12 گھنٹے کے لیے چلایا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک چین دوستی سے ترقی کا نیا سفر شروع ہوچکا ہے،دونوں ممالک کی دوستی سمندروں سے گہری اور پہاڑوں سے بلند ہے،یہ دوستی مزید شہد سے میٹھی ہوگی ۔ حکومت پنجاب اس منصوبے کیلئے 15 ارب روپےسبسڈی دے گی، اورنج لائن ٹرین منصوبہ مکمل کرنے میں چین کی کوششیں انتہائی اہم ہیں۔
اورنج لائن میٹرو ٹرین کی افتتاحی تقریب میں چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ اور چینی سفیر بھی شریک ہوئے۔حکومت پنجاب کی جانب سے اورنج لائن میٹرو ٹرین کا یکطرفہ کرایہ 40 روپے رکھا گیا ہے۔افتتاحی تقریب کے بعد 26 اکتوبر سے شہری اورنج ٹرین میں سفر کر سکیں گے، ٹرین صبح ساڑھے 7 سے رات ساڑھے 8 بجے تک چلائی جائے گی۔

خیال رہے اورنج لائن میٹرو ٹرین کوبلا تعطل بجلی فراہم کرنے کا منصوبہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچایا جا سکا،آٹھ کی بجائے چھ سرکٹس سے بجلی فراہم کر کے ٹرین کو آپریشنل کر دیا گیا۔ اورنج لائن ٹرین کو آپریشنل کرنے کے لئے بلا تعطل بجلی فراہمی کے انتظامات تاحال نا مکمل ہیں،،ٹرین کو چلانے کے لئے لیسکو نے آٹھ سرکٹس سےبجلی کی فراہم کرنا تھی ،تاہم آپریشنل ہونے تک لیسکو نے چھ سرکٹ سے بجلی فراہم کی ہے ۔
منصوبے کے تحت دو سرکٹ سے تاحال بجلی سپلائی کرنے کا منصوبہ التواء کا شکار ہے، اورنج لائن ٹرین کو بجلی دینے کے لئے ماس ٹرانزٹ اتھارٹی نے علیحدہ دو گرڈ سٹیشن بنائے جس میں سنگھ پورہ اور ملتان روڈ پر شاہ نور گرڈ سٹیشن شامل ہیں،، شالامار کے علاقے میں چار کی بجائے دو سرکٹ سے بجلی فراہم کی جائیگی، مذکورہ گرڈ پر فتح گڑھ اور شالامار گرڈ سٹیشنز سے اورنج لائن کو بجلی دی جائیگی،،، جبکہ دوسری جانب بند روڈ اور سید پور گرڈ سٹیشن سے بھی دو دو سرکٹ نکال کر بجلی دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ٹرین سروس کا دورانیہ 16 گھنٹے تک بڑھانے کا منصوبہ ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے 6 ماہ بعد نئے کرایہ کا جائزہ لیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں