22

ماہرین صحت کی روشنی میں سونے والے افراد کیلئے وارننگ

شکاگو میں کی گئی ایک نئی تحقیق کے نتائج سامنے آنے کے بعد ماہرینِ صحت نے ان تمام افراد کے لیے وارننگ جاری کردی ہے جوکہ روشنی کی موجودگی میں سوتے ہیں۔

شکاگو میں نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی فین برگ اسکول آف میڈیسن کی ایک تحقیق میں ڈاکٹرز نے نیند اور صحت کے دوران روشنی کی نمائش کے درمیان تعلق کا مطالعہ کیا ہے۔

اس نئی تحقیق کے مطابق، روشنی کی موجودگی میں سونے سے موٹاپے، ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

اس حوالے سے تحقیق میں شامل مصنف ڈاکٹر منجی کم کا کہنا ہے کہ ’ہم مصنوعی ذرائع سے حاصل ہونے والی روشنی کی وافر تعداد کے درمیان رہتے ہیں جوکہ دن کے 24 گھنٹے دستیاب رہتی ہے‘۔

اُنہوں نے کہا کہ’میں ہر طرح کی روشنی کے بارے میں بات کررہی ہوں جو کہ اسمارٹ فونز، ٹی وی اور بڑے شہروں میں عام روشنی کی آلودگی سے ملتی ہے‘۔

اُنہوں نے وضاحت کی کہ ’تحقیق کے دوران، نوجوان اور صحت مند بالغ افراد، جن پر رات بھر لیبارٹری میں تجربہ کیا گیا، ان کے دل کی دھڑکن میں اضافہ اور خون میں گلوکوز پایا گیا‘۔

اگرچہ یہ تحقیق صرف بالغ افراد پر کی گئی ہے لیکن اس سے پہلے کی گئی ایک تحقیق میں یہ ثابت ہوا ہے کہ اندھیرے میں نہ سونا تمام عمر کے افراد کو متاثر کرتا ہے۔

لہٰذا، ہم اس حالیہ تحقیق کے نتائج کو بھی تمام عمر کے افراد کے لیے موزوں سمجھ سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں