37

مجرم بھی ہم منصف بھی ہم-رخسانہ اسد لاہور

مجرم بھی ہم منصف بھی ہم

آقادوجہاں پرایک ہندوعورت روز کوڑاپھینکتی تھی مگرایک دن آپ ؐ پرکوڑانہ آیاتوآپ اس بڑھیاکے گھرگئے توپتاچلاوہ بیمارہے تواس کی خیریت دریافت کی کھاناکھلایاتوآپ کے اخلاق کی وجہ سے اس عورت نے اسلام قبول کرلیایعنی میرے آقاؐ صرف مسلمانوں کیلئے نہیں غیرمسلم چرندپرندزمین وآسمان مختصراً یہ کہ وہ جنس وانس کے رہبرتھے مگرآج آپ ؐ کے نام پرہم انسانوں کوزندہ جلادیتے ہیں ذبح کر دیتے ہیں اورسوچتے ہیں ہم نے جنت خریدلی۔دسمبر2021یعنی چند ماہ قبل سیالکوٹ میں ایک سری لنکن شہری کوقتل کرکے اس کی نعش کوآگ لگا دی گئی یہ واقع ریاست پاکستا ن کے ماتھے پر ایسابدنماداغ ہے جس کو کبھی بھی دھونا ناممکنہے۔لنکن شہری پریا نتھا کمارا جو ایکگارمنٹس فیکٹری میں کوالٹیمنیجر تھا کومبینہ طورپرناموس رسالت کے نام پر جس ظالما نہ ووحشیانہ تشدد کر کے اس کینعش کوجلایااس سے ظالم ترین ہلاکواورچنگیزکی روح کوبھی ہلاکررکھ دیاہوگا۔اسی سال کے دوسرے مہینے فروری 2022 کاواقعہ ہے جب میاں چنوں میں مشتعل ہجوم نے اسلم نامی ایک شخص کو توہین رسالت کے الزام میں بدترین تشدد کے بعد نہ صرف ہلاک کر ڈالا بلکہ اسے ایک درخت کے ساتھ با ندھ کر حیوانیت کا مظاہرہ کیا گیا۔اس سا نحہ میں ملوث 300 افراد کے خلاف ایف۔آئی۔آر کاٹ کر مرکزی 60 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔مگراس سانحہ نے انسا یت کو شرما دیا وہاں عذاب الٰہی کو دعوت دی گئی۔میں جب بھی سوچتی ہوں کہ اس نہتے شخص پرکیسے تشدد کر رہئے ہوں گے تو اس کی بے بسی اور بے چارگی پرآسمان کاسینہ بھی چھلنی ہواہوگااوراس کی آہ کہاں کہاں تک ہیں پہنچی ہو گی؟؟ ایک اورسانحہ 22 مارچ 2022 اور قصور کی تحصیل پتوکی میں ایک شادی کے موقع پربارات میں شامل افراد آپس میں بات چیت میں مصروف اورکھانے کاانتظار کررہے ہیں شادی ہال باہر مختلف چھابہ فروشوں موجود ہیں بچے ان سے چیزیں خری دکر کھا ے میں مصروف ہیں کہ ایک دم ایک شخص اپنی جیب کٹنے کا شورمچاتاہے اورایک شخص ہال کے باہر پاپڑ بیچنے والے اشرف سلطا ن پاپڑفروش جس کی عمر 50سال ہے پر جیب کاٹنے کا الزام لگا دیتا ہے۔50 سالہ اشرف سلطان پاپڑفرش پرالزام لگاتے ہوئے ایک باربھی نہیں سوچاکہ دیہاڑی پر پاپڑ لے کر قریہ قریہ پیدل چل کر گرمی سردی میں انہیں بیچ کر اپنے بچوں کے لئے شاید ایک وقت کی روٹی مشکل سے کما تاہوگامگرشادی میں سب سوٹڈ بوٹڈکے آئے تھے توان میں سے درجنوں افرادنے نہتے پاپڑ فروش پر سب ہی اپنی طاقت آزماتے ہیں۔اسی دورا ن کوئی بھی اس غریب پاپڑفروش کونہیں چھڑواتااور شادی ہال کے منیجراورمیزبان کی طرف سے کھاناکھلنے کااعلان کر دیا جاتا ہے۔ہال کے ایک طرف اشرف سلطا ن پاپڑفروش ناکردہ گناہ کی سزا کے بعدپڑاہواہے توددوسری جانب شادی کا کھانا کھول دیا گیاکیونکہ وہاں پر اس کی دادرسی کر نے والا کوئی بھی نہیں تھا۔بیحسی۔یقیناً اس شادی ہال میں ظلم عروج پر تھا اورنا سا یت دم توڑ چکی تھی۔بے بس اشرف سلطان زمین پر گراہواتھاا لیکن شادی ہال میں موجود تمام افراد میزوں پر بیٹھے کھا نے سے لطف ا ندوز ہو رہے تھے۔کسی نے 1122پربھی کال کرنے کی زحمت نہ کی بلکہ کوئی کہہ رہاتھاشرم کے مارے چپ چاپ پڑاہواہے کوئی چورکہتاکوئی کچھ مگروہ پاپڑفروش سننے والااس دنیاسے جاچکاتھااوراس کے ساتھ ایک پیغام بھی دے گیاکہ اب انسانیت نہیں رہی تومیرابھی کوئی کام باقی نہ رہا اشرف سلطان کا قتل اور پھر شادی ہال میں اس کی میت پڑے ہو نے کے باوجود تمام مہما نوں کا کھانے میں مصروف رہنا،بے حسی اورانسانیت کی کتنی بڑی تذلیل ہییقیناً ایسے سانحات سے انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا یے۔اشرف سلطان کا وحشیا ہ قتل حکمرانوں،پولیس،انصاف فراہم کرنے والے اداروں اور ہمارے بے حس معاشرے کے منہ پر طمانچہ ہے۔ایسے تمام واقعات پاکستان میں قا نون کی عدم حکمرانی کی نشا ندھی کرتے ہوے معاشرے میں عدم انصاف اور بدترین روایات کو جنم دے رہئے ہیں جوہمارے ملک کیلئے نہایت ہی خطرناک ہیں۔عوامیعدالت میں ایک اور بے بس،مجبور اور غریب انساناپنی زندگی کی بازی ہار چکا بلکہ قتل ہو گیا۔ہمارے معاشرے میں امیرکیلئے قانون نہیں اورعام عوام امیراورطاقت ورکے سامنے دم ہلاتی ہے اوپاپڑ فروش غریب بے بس انسانپر جیب کاٹنے کا الزام لگا کر اس کو تشدد سے قتل کر دیاجاتاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں