46

مریم نے کس طرح ایک مہلک مرض سے نجا ت حاصل کرکے اپنا بچپن دوبارہ پالیا۔

لاہور(ٹیوٹرپاکستان) تپِ دق (ٹی بی) ‘مائیکوبیکٹیرئیم ٹیوبرکلوسس’ نامی بیکٹیریا کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔ یہ بیکٹیریا عموماََ پھیپھڑوں پراثر کرتا ہے لیکن ٹی بی جسم کے کسی بھی حصے کو متاثر کرسکتاہے۔ پاکستان میں ٹی بی کی وباکی شرح بہت زیادہ ہے اور مسلسل بڑھ رہی ہے جس کی وجہ ہے کہ اس بیماری کے بارے میں آگہی بہت کم ہے۔ پاکستان دنیا بھر میں اس ریجن میں ٹی بی کا 5واں سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ یہ مرض بچوں میں زیادہ پایا جاتا ہے کیونکہ اس کی علامات مخصوص نہیں ہیں اور آسانی سے نظر انداز ہوجاتی ہیں جس کے سبب اس کی تشخیص بھی آسان نہیں ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں ہرسال ٹی بی کی وجہ سے 8%سے20%بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
مریم محمود 13سالہ بچی ہے جو گریڈ4میں پڑھتی ہے اور اپنی فیملی کے ساتھ نیوکراچی میں رہتی ہے۔5ماہ پہلے تک وہ ایک شوخ اور چنچل لڑکی تھی مگر پھر اس کی طبیعت اکثر خراب رہنے لگی۔اس کی بیماری کی علامات میں سانس لینے میں دشواری، پھیپھڑوں میں شدید دردا ور بے انتہاشدید کھانسی اور بخار شامل ہے۔چند دن ڈاکٹروں سے مشورے لور کچھ ٹیسٹ کرنے کے بعد مریم کو ٹی بی اوربائیں طرف کا Pneumothorax.تشخیص ہوئی۔
اس وقت سے مریم کی کھیلوں میں دلچسپی کم ہوگئی، اس کے گریڈبھی گرنے لگے اور ہاضمہ اتنا خراب ہوگیا کہ اس کا وزن نمایاں طور پر کم ہونے لگا۔صورتحال اس وقت اتنی بگڑ گئی کہ غیرمعمولی طور پر دل کی دھڑکن زیادہ ہونے اور سانس میں دقت کے سبب وہ بے ہوش ہوگئی۔ اس کو ایک سرکاری ہسپتال لیجایا گیا تاکہ ابتدائی علاج شروع ہوسکے لیکن وہاں بڑی رکاوٹ سامنے آئی۔ ٹی بی کے شدید حملے اور بائیں طرف کے Pneumothorax.کے باعث اس کو علیحدگی (آئسولیشن) میں رکھا گیا۔تاہم پانچ چھوٹے بچوں کے والد محمد اسلم مریم کو علیحدہ نجی فرم میں داخل کرانے کے قابل نہیں تھے۔ اس کے والد ایک بچت بازار میں اشیاء فروخت کرکے 20,000/-روپے ماہانہ کی معمولی رقم کماتے تھے۔ اس کو گھر چلانے کے ساتھ بچوں کی تعلیم کاخرچہ پورا کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ اس طرح وہ صحت کے نجی ادار ے کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے تھے۔
اور اس طرح ننھی مریم اور اس کی فیملی بے بسی کی حالت میں آگئے تھے۔ اس کے والدین اپنی بیٹی کیلئے کوئی بھی متبادل علاج ڈھونڈنے میں ناکام ہوچکے تھے جس کی سخت ضرورت تھی۔ کئی بند دروازے دیکھنے اور ناکام کوششیں کرنے کے بعد اسلم کو آخر پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن (PAF)کے کام کے بارے میں پتہ چلاجو انہوں نے JPMCمیں کیا ہے۔ پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن (PAF)کی مدد اور تعاون سے ٹی بی کے پیچیدہ کیسزاور پھیپھڑوں کے دوسرے مسائل کیلئے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC) میں 13بستروں کا ٹی بی آئسولیشن وارڈ قائم کیا ہے۔

۔ ۲ ۔
مریم کو اسی وارڈ کے ایک آئسولیشن کمرے میں منتقل کردیا گیا جہاں اس کو آرام سے رکھا گیا۔اس کا علاج شروع کیا گیااور ڈاکٹروں نے ایکو، سی ٹی اسکین ار الٹرا ساؤنڈ وغیرہ جیسے ٹیسٹ تجویز کئے۔ اس کو بائیں طرف کےPneumothoraxکیلئے چھوٹا سا طریقہ کار اختیار کیا گیا اور سانس لینے میں آسانی کیلئے اس کو آکسیجن سلنڈر فراہم کردیا گیا۔وہاں وہ 13دن رہی۔

مریم کے گھر والے (JPMC) میں پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن (PAF)کی خدمات پر بہت ممنون ہوئے۔ اس کے والد عملے کے خلوص اور اپنی بیٹی کی دیکھ بھال اور مختلف تشخیصی ٹیسٹ پربہت شکرگزار ہوئے، جو وہ پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن (PAF)کی مدد کے بغیر برداشت کرنے کے قابل نہیں تھے۔

مریم نے بتایا،”میں بہترمحسوس کررہی ہوں اور خوش ہوں۔ مجھے سانس لینے میں کوئی مشکل نہیں ہے اور نہ میرے سینے میں درد ہے۔ میں بالکل ٹھیک اور صحت مند محسوس کررہی ہوں۔ مجھے واپس گھر آنے پربہت اچھا لگ رہا ہے کہ میں اپنی ماں کو دیکھ سکتی ہوں، اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ کھیل سکتی ہوں اور اسکول بھی جاسکتی ہوں۔”

مریم اب بحالی کے آخری مرحلے میں ہے۔وہ بہت کم وقت میں صحت مند ہوگئی ہے اور گھرواپس آنے اور دوبارہ اسکول جانے کے علاوہ کھیل کود میں حصہ لینے کے قابل ہوگئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں