71

مولانا ثابت کردیں کہ جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے کہا ہو کہ عدم اعتماد فائل کردیں، ملک محمد احمد خان

مسلم لیگ ن کے رہنما ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ مولانا ثابت کردیں کہ کوئی ایک میٹنگ جس میں جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے کہا ہو کہ عدم اعتماد فائل کردیں۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے کہا کہ مولانا نے حقائق کے برعکس اور بر خلاف بات کی، مولانا ایک میٹنگ ثابت کردیں، کس کے ساتھ وہ میٹنگ ہوئی، کس کو کہا گیا؟ کیا مولانا کے ساتھ ہوئی؟ وہ ثابت کردیں۔

ملک احمد نے کہا کہ جو میٹنگ تمام سربراہوں کی تھی اس میں جنرل باجوہ نے کہا تھا کہ تحریک عدم اعتماد نہ لے کر آؤ، مولانا فضل الرحمٰن کے پاس کوئی آدمی ہے تو سامنے لے آئیں، جنرل فیض تو اس وقت کور کمانڈر تھے۔

ملک احمد خان نے کہا کہ اس عدم اعتماد کا فائل کرنا سب کے سامنے ہے، آج پتہ نہیں کیوں ایسا کہہ رہے ہیں، مولانا کی میرے سامنے جو بات چیت ہوئی وہ مختلف ہے، جنرل باجوہ کہہ رہے تھے کہ تحریک عدم اعتماد نہ لائیں اور مولانا نے اسٹینڈ لیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس ملاقات کی تاریخ میں بتا سکتا ہوں، چھبیس مارچ تھی، مجھے پتہ ہے بلاول بھٹو اور دیگر پارٹیوں کا کیا مؤقف تھا، کسی کے کہنے پر ہم تحریک عدم اعتماد لے کر نہیں آئے، مولانا سے کب جنرل باجوہ کی ملاقات ہوئی، کب عدم اعتماد لانےکی بات کی گئی۔

ملک احمد نے کہا کہ جنرل باجوہ 26 مارچ کو بانی پی ٹی آئی کا پیغام لائے کہ عدم اعتماد آئی تو ملک میں بحران پیدا ہوسکتا ہے تو نہ لائیں۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے سیاسی جماعتوں کی توہین کی ہے، جب پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد آئی تو ڈی جی آئی ایس پی آر کہہ چکے تھے کہ نیوٹرل ہیں، پھر بانی پی ٹی آئی نے شور مچایا اور کہتا رہے نیوٹرل جانور ہوتا ہے۔

ملک احمد خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کا بیان حقائق کے منافی ہے، مولانا فضل الرحمٰن تحریک عدم اعتماد کی تاخیر پر ناراض تھے، مولانا فضل الرحمٰن کا بیان حالات سے متصادم ہے، مولانا سے پوچھ رہا ہوں کیوں ہمیں عدم اعتماد میں دھکا دیا، پی ڈی ایم حکومت کو ختم نہ کرتی، آئی ایم ایف نہ دوبارہ آتا تو خوفناک صورتحال ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس وقت پی ڈی ایم کے لوگ اس حکومت کو ختم نہ کرتے تو اس خوفناک صورتحال کو سب بھگتتے، مولانا تو عدم اعتماد کی تاخیر پر ناراض تھے، وہ تو کہتے تھے جلدی کریں۔

ملک احمد خان نے کہا کہ ہماری پارٹی میں کلیئر سوچ تھی کہ عدم اعتماد نہ ہو، حکومت کو وقت پورا کرنے دیا جائے، مریم نواز یہ بھی کہتی تھیں کہ ہم استعفعے دے کر سسٹم سے باہر نکل جائیں، پنجاب اسمبلی سے اپنے استعفے دے بھی دیے تھے۔

ملک محمد احمد خان نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات پر مولانا کا مؤقف بہت سخت تھا، ہر سیاسی عمل کے نتائج نکلتے ہیں، دھرنے کے باعث ملک کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔

ملک محمد احمد خان نے کہا کہ میں میٹنگ میں تھا جب بات ہوئی کہ تحریک انصاف نے دھاندلی سے اعتماد کا ووٹ لیا، کچھ لوگ دس سال سے ملک میں عدم استحکام چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں یہ تمام الیکشن ہارے تھے، مولانا کی پارٹی بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں زیادہ سیٹیں جیتی تھی تب مولانا فضل الرحمٰن کا مؤقف تھا کہ پی ٹی آئی پبلک سپورٹ کھوچکی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں