62

میٹرک اور انٹر کے امتحانات میں طلبا کوکیا ریلیف ملا؟

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ اس سال امتحانات ضرور ہوں گے،نویں اور گیارہویں کی کلاسز شروع کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔

وزیرتعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت اسلام آباد میں بین الصوبائی وزرائے تعلیم کا اجلاس ہوا، جس میں تمام صوبائی وزرائے تعلیم شریک ہوئے۔

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ صوبائی وزراء کے اجلاس میں تمام تعلیمی فیصلے متفقہ طور پر منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طلبا کی یہ شکایت درست ہے کورس مکمل نہیں کروایا جاسکا۔

شفقت محمود نے کہا کہ نویں دسویں کے امتحانات چار مضامین میں ہوں گے، امتحانات صرف اختیاری مضامین اور ریاضی کے لیے جائیں گے، نویں اور دسویں کے امتحانات میں باقی مضامین کے امتحانات نہیں لیے جائیں گے۔

وزیر تعلیم نے تسلیم کیا کہ طلبا کی یہ شکایت درست ہے کورس مکمل نہیں کروایا جاسکا۔

شفقت محمود نے کہا کہ تعلیمی ادارے بند کرنا کسی حکومت کے لیے آسان نہیں، تعلیمی اداروں سے متعلق سب صوبوں کی مشاورت سے فیصلے کیے، وبا کی صورت میں تعلیمی داروں کو کھولنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ او لیول کےبچوں کے خصوصی امتحانات 26 جولائی سے شروع ہوں گے۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ کورونا کی وبا کے تعلیم پر منفی اثرات پڑے، طلباء کی شکایت درست ہے کہ یکسوئی سے پڑھائی نہیں ہوسکی، چالیس فیصد نصاب ہم نے کم کردیا تھا۔

شفقت محمود نے کہا کہ ہمارے نظام تعلیم میں طالبعلم امتحان سے دو مہینے پہلے پڑھتے ہیں، ہم نے اپنے فیصلوں میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فیصلہ کیا کہ امتحانات کے بغیر گریڈز نہیں ملیں گے، دسویں اور بارہویں کے امتحانات پہلے ہوں گے، نویں اور گیارہویں کے امتحانات بعد میں ہوں گے، او لیول کے بچوں کے لیے کیمبرج نے اسپیشل امتحان کا فیصلہ کیا۔

شفقت محمود نے مزید کہا کہ کوئی بھی ٹیچر ویکسی نیشن کے بغیر امتحان نہیں لے گا، سب سے فیئرٹیسٹ ایکسٹرنل امتحانات کا ہوتا ہے جس میں ایک ہی پیمانہ ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں