33

نمبر گیم کا سسٹم ( تحریر میاں عصمت رمضان )

نمبر گیم کا سسٹم
اج میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایک دور تھا کہ جب ہم طالب علم تھے پڑھنے کا شوق بھی تھا اور ہماری یہ کوشش ہوتی تھی کی کوئی ہم سے آگے نہ بڑھ سکے،چاہے وہ کلاس کا میدان ہو یا کھیل کا میدان-اگر کلاس کی بات کی جائے تو ٹیچر کا کام دھیان سے کرنا اور پھر گھر جا کر بھی ہوم ورک کو اچھا سا کرنا اور ہر سبق کو یاد کو یاد کر کے انا تاکہ ایک تو ٹیچر سے شاباش ملے اور دوسرا کلاس میں بھی دوسرے سٹوڈنٹ سے اگے نکل سکے،رفتہ رفتہ ہم عمر کے حساب سے بڑھے ہوتے گئے اسکول.کالج اور یونیورسٹی اور پھر پریکٹیکل لائف، اسی حساب سے ہمارے طور طریقے بھی بدلتے گیے لیکن ان سب کامون مین ایک چیز مشترکہ تھی جو ہم کو اسکول میں بھی اور پریکٹیکل لائف میں بھی بتائی اور سکھائی گئی کہ جو کام بھی کرو اپنے بل بوتے پر کرو اور اس لیے کرو کہ لوگ اپکو اچھے الفاظ میں یاد کرے اور اپ کا اور اکے خاندان کا نام اونچا ہو سکے .ناکہ لوگ کی نظر مین اپکی اور اپکے خااندان کی جگ ہنسائی ہو.
لیکن اب دور بدل گیا ہے نہ وہ سیانے لوگ رہیں اور نہ ہی وہ لوگ رہیں جو اپنے اور اپنے خاندان کی عزت کی رکھوالی کرنا جانتے ہیں.
اب تو ہو ہر طرف نمبر گیم کا سسٹم ہے.پکڑ دھکڑ کا زمانہ اگے بڑھو اپنا نام پیدا کرو چاہیے اسکیلے کیسی کو گرانا پڑے کسی کی عزت سے ہاتھ دھونا پڑے یا کسی کسہ کا بھی جانی و مالی نقصان ہو جائے لیکن ان سب کے بدلے میں اپکا نمبر سب سے اگے ائا چاہیں. اگر ایسا ہو گیا تو اپ جیت گئے اپ کی اور اپکے خاندان کی جگ میں بلے بلے ہو گئی اور ساتھ ہی اگر اپ کسی اچھے عہدے پر ہے .یا کوئی میڈیا پرسنلٹی ہے تو اپکی ریٹنگ کا گراف ایک دم اوپر چلا گیا.ہر طرف ایک ہی بات پھیل گئی کہ اس بندے نے یا ادارے نے کیا نیوز بریک کی ہے اور اس بعد اسکو اشتہارات بھی زیادہ ملے گے اور اس چینل کی ریٹنگ بھی بڑھے گی-
ایسا ہی ایک کام چند دن پہلے ہوا جب کحچہ سستی شہرت کے پیاسی ایک ٹک ٹاکر اور ریٹنگ کو بڑھانے کے چکر میں نجی چینل کے اینکر اور سوشل میڈیا کے میزبان نے ایک بھیانک پلان کے تحت اس ملک کی عزت کو مٹی میں ملا دیا اور پاکستان کا امیج پوری دینا میں خراب کر دیا یہ بھی نا سوچا کہ اس کے بعد ہماری دنیا میں کتنی جگ ہسائی ہو گی وہ بھی صرف چند روپوں اور وقتی شہرت کیلیے –
موصوف اینکر پرسن اقرار الحسن کو اپنے غلطی کا احساس بہت جلدی ہو گیا جب ہر طرف ہمارا کردار مٹی مین مل گیا شاید یہ احساس اب بھی نہ ہوتا لیکن میڈیا میں جب ہر طرف یہ بات بھیل گئی اور متنازعہ ٹک ٹاکر عائشہ اکرم اور اسکے مبینہ دوست ریمبو کی اڈیو کالز اور سکینڈل سامنے آ گئے کہ وہ ان ملزمان سے پانچ پانچ لاکھ لے کراُن سے ڈیل کرنا چاہتے تھے-

اور اس شخص کو یہ باخوبی علم ہو گیا کہ یہ سب ایک سوچے سمجے پلان کا حصہ تھا ایسے کئی سکیندل پہلے بھی کئی بار چکے ہیں جو بعد میں فیک نکلے اور اس شخص کو اپنی غلطی کا اعتراف کرنا پڑا -اقرار الحسن نے سوشل میڈیا معافی مانگتے ہوئے کہا کہ میں معافی مانگتا ہوں میں نے عائشہ اکرام کا ساتھ دیا اورمیں معافی مانگتا ہوں کہ میں عائشہ اکرام کے ساتھ کھڑا ہوا، میں نے ایک ایسی لڑکی کو بہن کہا اور اُس کے سر پر ہاتھ رکھا جس نے خود کو سرِعام ننگا کرنے والوں کے ساتھ ہی سودے بازی شروع کر دی-

میں یہ نہیں کہتا کہ یہ سب لوگ اس پلان کا حصہ ہیں جو عائشہ اکرم اور اسکی ٹیم نے بنایا لیکن ان سب حقائق سے لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ یہ سب ایک پلان کا حصہ تھا-اس پوری سٹوری میں کس کس نے اپنا فائدہ اٹھایا اور کس کس نے اپنے مقاصد پورے کیے لیکن ان سب باتوں سے ایک بات تو صاف شیشے کی طرح ہو گئی کی ہمارے ملک کی بہت جگ ہسائی ہوئی.دشمن ملک کو بولنے کا موقع ملا اور اور نے جو کہا پاکستان کے بارے میں کیا وہ سب ختم ہو سکتا ہے کیا ہماری ملک کی عزت واپس آ سکتی ہے کیا جو سب ہوا اسلامی سلطنت کے قومی دن 14 اکست کو وہ مٹ سکتا ہے- میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ ہیمیں صرف وہ کام کرنا چاہیں جس پر کل کو ہیً شرمندگی ن اٹھانا پرے اور بعد مین کسی کے سامنے معافی نا مانگنا پرے-
ہم سب کوضرورت اس امر کی ہے کہ کوئی کام کرنے سے پہلے اس کام کا کھوج لگا لےخبر کی تہہ تک جائے تاکہ پتہ چل سکے کی اصل حقائق کیا ہے اور اسکو پبلک کرنے سے اسکے کیا سائیڈ افیکٹ ہو سکتے ہیں کیا جو ہم کام کرنے جا رہے ہیں کیا اسکا اثر کسی کی ذاتی زندگی یا اسکے مستقبل پر تو نہیں پڑے گا- اگر ہم ایسا تھوڑا سا ہوم ورک کر لے تو ہو سکتا ہے کہ ہم کو بعد میں کسی سے معافی نا مانگنا پڑے اورنہ بعد میں ایسے کیس سامنے ائے جس میں ہماری یا ہمارے ملک کی بدنامی ہو اور ایسی کوئی سستی شہرت پانے والیاں دوبارہ ایسا کام نا کر سکے-
اور ویسے بھی معاشرے کی اصلاح کرنا ہم سب کا اخلاقی فرض بھی ہے اگر تھوری دہر کیلیے ہم یہ سوچ لے کہ ہم اپنی انے والی نسلوں کو کیا دینے جا رہے ہیں -اج سے چند سال پہلے میں زیادہ پرانی بات نہیں کروں گا میڈیا مین جتنے بھی ڈرامے اتے تھے ان سب کا ایک ہی نتیجہ نکلتا تھا کہ معاشرے کی اصلاح کی جائے ،سب گھر مین فیملی ممبران ایک ہئ ٹی وی اور ایک ہی جگہ بیٹھ کر ڈرامہ دیکھ سکتے تھے گھر والے تو دور کی بات سارا محلہ ایک ہے ٹی وی مین ڈرامہ دیکھتے تھے اور اج کے ڈرامے دیکھ لے محلے والے تو دور کی بات گھر میں فیملی بھی ایک ساتھ نہیں بیٹھ سکتے.کیونکہ ہر کوئی اسی کوشش مین ہے کہ ہم اس دوڑ میں سب سے اگے نکل جائے-
ان سب سوالوں کا اگر کسی کے پاس کوئی جواب ہے توضرور اسکا جواب دے میں انتظار کروں ،کیونکہ میرا کام تو سوال کرنا ہے اور میرا یہ سوال تو بنتا ہے کہ کیا کحچہ پانے کیلیے کیسی بھی حد تک جایا جا سکتا ہے ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں