20

وزیر اعظم کی عدالت میں پیشی کے موقع پر بدنظمی

وزیراعظم محمد میاں شہباز شریف کی ایف آئی اے کے منی لانڈرنگ کیس میں پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کی بدنظمی پر جج اسپیشل کورٹ شدید برہم ہوگئے۔

انہوں نے وزیر اعظم سے مکالمہ کیا کہ میں گاڑی میں بیٹھا تھا تو سیکیورٹی والے میرے گارڈ کے گلے پڑگئے، وکلا اور ملزموں کو اندر نہیں آنے دیا جا رہا تھا، آپ یہاں بھی وزیراعظم ہیں، یہاں حکم جاری کریں۔

اسپیشل کورٹ سینٹرل لاہور میں وزیراعظم شہباز شریف کی پیشی پر سیکیورٹی اہلکاروں نے پہلے صحافیوں کو کمرہ عدالت میں جانے سے روکا اور جب وزیر اعظم آئے تو ان کا راستہ بھی روکا گیا۔

جج اسپیشل کورٹ سینٹرل اعجاز حسن اعوان نے ریمارکس دیئے کہ اگر یہ سیکیورٹی ہے تو اللّٰہ حافظ ہے، ایسا پہلے تو کبھی نہیں ہوا، پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے بتایاکہ ان کا بھی راستہ روکا گیا، جج اعجاز حسن کی ناراضی پر وزیر اعظم نے کہا کہ وہ آئے ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ کسی کو نہ روکا جائے۔

عدالت نے 2 ذمےدار پولیس افسروں کو طلب کیا تو عدالتی اہلکار نے بتایا کہ بلانے کے باوجود دونوں افسران نہیں آئے جس پر جج نے کہا کہ پولیس والوں کے یہ حالات ہیں کہ عدالت کا حکم نہیں مان رہے۔

فاضل جج نے شہباز شریف سے مکالمہ کیا کہ سیکیورٹی والے اندر نہیں آنے دے رہے، وہ کیس کی کارروائی کیسے کریں، آپ وزیر اعظم ہیں حکم جاری کریں۔

ایس پی سول لائنز عدالت میں پیش ہوئے اور یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسا نہیں ہو گا، اس پر فاضل جج نے کہا کہ آئندہ نہیں، آج کی بات کریں، آج جس نے یہ سب خراب کیا اس کے خلاف کارروائی کرکےبتائیں، عدالت اس پر باقاعدہ حکم جاری کرے گی، کیا سیکیورٹی کا یہ مطلب ہے کہ آپ کام میں رکاوٹ ڈالیں؟

ایس پی نے بتایا کہ رابطے کا فقدان ہوا ہے، عدالت کا مکمل احترام ہو گا، فاضل جج نے سوال کیا کہ کیا یہ عدالت کا احترام ہو رہا ہے؟ تحریری طور پر دیں کہ کس نےجج کی گاڑی روکی۔
اسپیشل کورٹ سینٹرل کے جج نے شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز سے سوال کیا کہ یہ سیکیورٹی والے آئے ہیں، معافیاں مانگ رہے ہیں، آپ کیا کہتے ہیں، جس پر وکیل امجد پرویز نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک بار معاف کر دیں۔

اسپیشل کورٹ سینٹرل کے جج نے کہا کہ انہوں نے عجیب کام کیا ہے،یہ لوگ کسی کو آنے نہیں دے رہے تھے، وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا کہ میری درخواست ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں کے معاملے کو ریکارڈ کا حصہ نہ بنائیں۔

فاضل جج نے سیکیورٹی انچارج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سیکیورٹی کا پلان بنائیں تو وکلا اور ملزمان کو نہیں روکنا، کورٹ رپورٹرز کو بھی کمرہ عدالت میں آنے سے نہیں روکنا، اس بار معاف کررہا ہوں ورنہ میں اسے جوڈیشل آڈر کا حصہ بنا رہا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں