118

وفاقی حکومت کے احساس تعلیمی وظیفہ پروگرام کے پس منظر میں اب صوبے پبلک اسکولوں میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری کو ترجیح دیں: پی۔وائی۔سی۔اے

اسلام آباد(ٹیوٹرپاکستان) وزیر اعظم عمران خان، ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور پوری حکومتی مشینری جنہوں نے احساس تعلیمی وظیفہ پروگرام کو حقیقت بنانے کے لیے کام کیا تعریف کی مستحق ہے۔ یہ پروگرام ایک ایسے وقت میں شروع کیا جا رہا ہے جب پاکستان میں لاکھوں پسماندہ طالب علم، خاص طور پر لڑکیاں کوروناوائرس کی وباء سے پیدا کردہ معاشی بدحالی کی وجہ سے اسکولولوں کو خیرباد کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔” ان خیالات کا اظہار پاکستان یوتھ چینج ایڈووکیٹس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اریبہ شاہد نے ایک بیان میں کیا۔
حال ہی میں اعلان کیا گیا احساس تعلیمی وظیفہ پروگرام احساس کی وظیفہ پالیسی کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے جو لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کے لیے زیادہ وظیفہ کی رقم کو ترغیب دے گا۔ احساس تعلیمی وظیفے کے تحت، پرائمری سطح پر داخلہ لینے والے لڑکوں کا سہ ماہی وظیفہ 1500 اور لڑکیوں کا 2000 ہوگا۔ اسی طرح سیکنڈری سکول جانے والے لڑکوں کو ہر سہ ماہی میں 2500 اور لڑکیوں کو 3000 ملے گا۔ ہائر سیکنڈری سطح پریہ وظیفہ لڑکوں کے لیے 3500 اور لڑکیوں کے لیے 4000 ہوگا۔
احساس تعلیمی وظیفہ اسکیم کی طویل مدتی اہمیت کی وضاحت کرتے ہوئے، پی۔وائی۔سی۔اے کے پروگرام کوآرڈینیٹر ہشام خان نے کہا، ”اس پروگرام کے متعارف ہونے سے صوبوں کو تعلیم کی مد میں دیگر فوری نوعیت کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کرنے کا موقع ملے گا۔”
اریبہ شاہد نے نشاندہی کی، ”احساس تعلیمی وظیفوں کا ملک گیر رول آؤٹ خاص طور پر ان صوبوں کے طلباء کو فائدہ پہنچائے گا جن کے پاس فی الحال اسکولوں سے باہر بچوں کے لیے نقد امدادی سکیمیں موجود نہیں ہیں۔ ”
پاکستان میں اس وقت 22.8ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں جن میں اکثریت لڑکیوں کی ہے۔ وباء کے بعد مزید لاکھوں بچوں کا اسکولوں سے ڈراپ آؤٹ ہونے کا خدشہ ہے۔ اس طرح، احساس تعلیمی وظیفوں کا آغاز پاکستانی بچوں کے مستقبل کے لیے ایک خوش آئند قدم ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت کے اس اقدام کے بعد صوبے پبلک اسکولوں میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری کو ترجیح دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں