51

وقت کی قدر تحریرواہتمام: ڈاکٹررخسانہ اسدلاہور

وقت کی قدر
تحریرواہتمام: ڈاکٹررخسانہ اسدلاہور
ای میل:thegreatrukhsana@gmail.com
کچھ دن سے کوئی تحریرنہیں لکھی تھی گھریلو کام اور جاب کی وجہ سے تھکان ہوجاتی تو ایسے لگتا تھا دماغ کام ہی نہیں کررہا دسمبر کی آخری شب تھی میں نے اپنے خاوندکوکہا گلبرگ چلتے ہیں انہوں نے کہا بیٹی سو رہی ہے میں نے بے بی کوبلایا تو وہ اٹھ گئی ٹھنڈ بہت تھی رات کے بارہ بجنے دے پہلے ہم گلبرگ تھے مگر اتنا رش جیسے پورا لاہور اسی جگہ اکٹھا ہو لڑکے لڑکوں کا شور بارہ بجتےہی پٹاخے شوروغل جیسے کہ رات ختم ہونے کا نام ہی نہ لےہم جب گھر پہنچے تو گھڑی پر 4 بجنے والے تھے میں نے اپنے خاوند سے کہانماز پڑھ کے سوئیں گے نماز پڑھنے کے بعد نا جانے دل کیوں اداس ہوگیا، چند روز پہلے تک سال ختم ہونے کی کوئی خاص فیلنگز نہیں آ رہی تھیں کہ جیسے اتنے سال گزر گئے ایک یہ بھی صحیح کیا فرق پڑتا ہے اور ویسے بھی ہم تو وقت ہی تو گزار رہے ہیں اس دنیا میں پھر اچانک خیال آیا کہ نہیں یار ایسے کیسے۔۔۔۔!!!ہم نے زندگی کا ایک اور سال کئی تجربات، غلطیوں، کوتاہیوں اور تلخ حقائق کے ساتھ گزار دیا اور کچھ اچھی خوبصورت یادیں بھی بنائی ہیں۔ پچھلے سال کا زندگی کا سب سے بڑا خسارہ میرے ملک کے محسن ڈاکٹرعبدالقدیرخان نہ رہے پاکستان کی پوری دنیامیں نمائندگی کرنے والے عمرشریف بھی ہمیں چھوڑ کے چلے گئے میرے ابوجان (سسر) بھی ہمیں تنہا کرگئے انکل سرگم۔ بن بتوڑی۔شوکت علی ناجانے کتنے لوگ جنہیں ہم جانتے ہیں وہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ سال تو ختم ہوگیالیکن ہم نے اس سب سے سیکھا کیا؟ کیا کھویا کیا پایا؟ کھانے والا کھویا اورپایا نہیں، حاصل وصول اور لاحاصل کی بات کر رہی، ہم نے زندگی کو بھی مذاق ہی بنا رکھا ہے، نت نئے تجربے کرتے ہیں اور پھر جب کچھ حاصل نا ہو تو اللہ کا حکم کہہ کر یہ جا وہ جا کچھ سیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔گزرے سال نے جہاں اپنے پیاروں کو کھونے کا غم وہیں مہنگائی لوگوں کی منافقت و مخالفت کو جھیلا وہیں مہنگائی ک بار بار تمانچے بھی برداشت کیں پھر بھی الحمداللہ اپنے رب کا شکر ادا کیا اور اس کی طرف رجوع کیا، جس نے بکھرے ہوئے کو خود سے پھر سے جوڑا اور اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ کسی نے کیاخوب کہا ہے کہ وقت بہت بڑا استاد ہے اس سے بہتر آپ کو کوئی نہیں سیکھا سکتا۔ یہاں ہر دوسرا بندہ آپ کا دوست محسن بنا پھرتا ہے معذرت کے ساتھ ہر کوئی آپ کا محسن نہیں ہوتا، وہ تب تک آپ کے ساتھ احسن طریقے سے رہتا ہے جب تک اس کا کئی مفاد یا غرض منسوب ہوتی ہے آپ کی ذات سے وہ تبھی آپ کا محسن بنا رہتا ہے بس ایک بار کام نکل جائے، ضرورت پوری ہو جائے پھر وہ رشتے میں کتنا ہی سگا بھی کیوں نا ہو آپ کا وہی محسن آپ کا محسن کش بن جاتا ہے۔اسی لیے اللہ کی ذات کے علاوہ خود کو کسی کا محتاج نا کریں نا رشتوں میں نا زندگی کے کسی بھی دوسرے معاملات میں وگرنہ ذلت اور رسوائی ہی مقدر بن جاتی ہے۔اور ہاں اپنے تجربات کا ملبہ بھی کسی دوسرے پر نا ڈالیں جو کریں ڈٹ کر کریں اور اچھا برا جو بھی ہو اسے قبول کرناسیکھیں۔فطری عمل ہے سب کا اچھا برا وقت آتا ہے، نا سب اچھا ہوتا ہے نا ہی سب برا، بس صحیح وقت پر اچھے اور برے کا فرق جانیں جس نے ساتھ دیا اللہ اس کے دونوں جہاں اچھے کرے اور جس نے سبق سکھایا اللہ اس کا بھی بھلا کرے اور مکافات عمل ہے، جو کر گزر گئے وہ دیکھ کر جائیں گے۔وقت بہت تیزی کیساتھ گزر رہا ہے ، ہماری زندگی کا ایک اور قیمتی سال 2021 ء بھی آخر بیت گیا۔ زندگی میں ہمیں میسر یہ منٹ ، یہ گھنٹے ، یہ سال مہلت کے ہیں کہ ہم حاصل وقت کی قدر کرتے ہوئے اسے قیمتی بناتے ہیں یا محض غفلت و لاپرواہی میں گنوادیتے ہیں۔ اس سال میں ہم نے کرونا اور دیگر امراض کے باعث اپنے بہت سے پیاروں کو کھودیا اور دنیا دار فانی میں ہمیں بھی ہمیشہ نہیں رہنا۔ اگر ہم اپنی زندگی میں حاصل اس وقت کی قدر کرتے ہوئے اسے خیرو بھلائی کے بیج بونے میں صرف کریں گے تو کل روز قیامت ہمیں فلاح اور بھلائی کا ثمر ملے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے”(ان سے کہا جائے گا )خوب لطف اندوزی کے ساتھ کھاو¿اور پیو ان (اعمال ) کے بدلے جو تم گزشتہ (زندگی) کے ایام میں آگے بھیج چکے تھے“ ( سورة الحاقہ)۔جبکہ اس کے بر عکس اگر زندگی میں وقت کی قدر نہ کی جائے اور اسے غفلت ، سستی و کاہلی میں گزارتے ہوئے برائی و شر فتنہ و فساد کی نذر کر دیا جائے تو ہمارے لیے دونوں جہانوں میں خسارہ ہے۔ غافلوں اور ظالموں کے لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہو گا” کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو شخص نصیحت حاصل کرنا چاہتا ، وہ سوچ سکتا تھا۔ اور پھر تمہارے پاس ڈر سنانے والا بھی آ چکا تھا، پس اب عذاب کا مزا چکھو، سو ظالموں کے لئے کوئی مدد گار نہ ہو گا۔اسلام میں وقت کی اہمیت پر بہت زور دیا گیا ہے۔ جامع ترمذی میں ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا” قیامت کے دن بندہ ( اللہ تعالیٰ کی بارگاہ ) میں اس وقت تک کھڑا رہے گاکہ جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں پوچھ نہ لیا جائے گا۔ 1۔ اس نے اپنی جوانی کن کاموں میں گزاری۔2۔ اس نے اپنے علم پر کتنا عمل کیا۔3۔اس نے مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔ 4۔ اس نے اپنا بدن کس کام میں کھپائے رکھا۔“ مستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو۔ بڑھاپے سے پہلے جوانی کو، بیماری سے پہلے صحت کو ، محتاجی سے پہلے تو نگری کو، مصروفیت سے پہلے فراغت کو، اور موت سے پہلے زندگی کو۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور فرمان ہے ”دو نعمتیں ایسی ہیں، جن کے سلسلے میں بہت سے لوگ دھوکے میں ہیں ایک صحت و تندرستی اور دوسرے فارغ اوقات“۔ آج سائنس و ٹیکنالوجی نے جہاں ہمیں بے شمار کارآمد چیزیں دی ہیں وہیں وقت کے ضیاع کے بھی ایسے نوع بہ نوع آلات فراہم کئے ہیں کہ امت مسلمہ کا ایک بڑا طبقہ ان کے غلط استعمال میں اپنا قیمتی وقت اس طرح ضائع کر رہا ہے جس طرح تیز دھوپ میں برف کی ڈھلی پگھل کر ضائع ہوتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وقت کا صحیح استعمال کیا جائے، اور ہر لمحہ سے بھر پور استفادہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ وقت کا ذیادہ ترحصہ عبادات و ذکر الٰہی میں مشغول رہ کر گزارہ جائے، فارغ اوقات کو چغلی ، کینہ وبغض جیسی خرافات کی بجائے تلاوت قرآن کریم، تسبیحات ، ذکر واذکار ،درود شریف اور استغفاراور اچھی کتب کے مطالعہ میں صرف کیا جائے۔تاکہ نفس کی اصلاح ہو اور دونوں جہانوں کی کامیابی اور خیر و برکت حاصل ہوسکے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو وقت کی قدر کرنے، وقت کو قیمتی بناتے ہوئے نیک کاموں میں صرف کرنیکی توفیق عطائ فرمائے۔ اللہ پاک آنے والا نیا سال سب کیلئے ڈھیروں خوشیاں اور کامیابیاں لے کر آئے، جس کی جو خواہشات اور تمنائیں اس سال ادھوری رہ گئیں اللہ کرے آنے والے سال میں وہ سب پوری ہو جائیں۔ اور جو میرے مشکل وقت میں میرے ساتھ رہے اور اب تک ہیں یااللہ ان کا ساتھ تاحیات ساتھ رکھنا، آمین ثم آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں