35

ون نیشن ون کریکلم اک کھوکھلانعرہ،مسترد کرتے ہیں! کاشف مرزا صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن

لاہور(ٹیوٹر پاکستان) صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کاشف مرزا نے کہا ہے کہ ہم ون نیشن ون کریکلم اک کھوکھلانعرہ،مسترد کرتے ہیں-ایلیٹ سکولز کو استثنی دے کر طبقاتی نظام کی آبیاری کی گئی ہے!
نعرہ تعلیمی امتیازکا خاتمہ قابل تعریف ہے،لیکن جو منظور ہواوہ یکساں قومی نصاب ہے،یکساں نظام تعلیم نہیں-یکساں قومی نصاب کا حقیقی مطلب ایلیٹ، پرائیویٹ،سرکاری یا مدرسے میں زیر تعلیم بچوں کو ایک معیار کی تعلیم حاصل ہو۔
ملک بھر نفاذ کاپہلا مرحلہ کتب کی عدم دستیابی کی وجہ سے ناقابل عمل ہے-حکومت نے تاحال یکساں نظام تعلیم کے لئے کوئی منصوبہ پیش نہیں کیا-حکومت نےسٹیک ہولڈرز کی بجائےمن پسند لوگوں سےمن پسندفیصلے کرائے،مسترد کرتے ہیں۔
18ویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم کا شعبہ اور نصاب کی تشکیل صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں۔عملدرآمد کرنے کا سارا اختیار بھی صوبائی حکومت کے پاس ہی ہوگا۔بچوں کی تعلیمی زبان اردو یا مادری زبان میں تعلیم دینے کا حق صوبوں کو حاصل ہو۔تاحال یکساں قومی نصاب کا حکومتی منصوبہ،سیاسی یا انتخابی نعرے کی تکمیل سے زیادہ کچھ نہیں:
آرٹیکل 25 اے کے مطابق چار ترجیحی شعبوں میں ایجوکیشن پالیسی فریم ورک سکولز سے باہر تمام بچوں کوسکولز میں لانا، یکساں نصاب سے تعلیمی امتیاز کا خاتمہ، معیارتعلیم میں اضافہ اور تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم کو فروغ دینا۔
ایس این سی کی تیاری محض فریم ورک کی دوسری ترجیح ہے، دیگر تین ترجیحات میں کوئی پیشرفت نہیں کاشف مرزا
دیگر تینوں ترجیحات کیلئے بھاری فنڈز درکار ہیں، جبکہ نیا نصاب متعارف کرانا مفت کی کارروائی ہے: کاشف مرزا
نصاب اور نظام تعلیمی کی بہتری ایک مسلسل عمل ہے، جس میں وقت اور ضروریات کے مطابق استعداد کار، سکولوں میں اضافہ، سکول سے باہر بچوں کو دائرہ تعلیم میں لانا اور اساتذہ کی ٹریننگ جیسے اہم امور شامل ہیں۔

وزرا،مشیر ان وافسران کےبچے یہ نصاب تعلیم نہ پڑھائیں گے، صرف غریب بچوں کے حصے میں آئے گا۔

امیر اور غریب کے لیے الگ نصاب تعلیم قول و فعل کا کھلا تضاد ثابت ہوگا۔

نہ صرف نصاب یکساں ہو بلکہ تمام سکولزمیں سہولتیں و معیار بھی یکساں ہو۔اسکے لیے تعلیمی بجٹ کو بڑھانا چاہیے۔

70% سکولزمیں بنیادی سہولیات نہیں ہیں۔بے شمارسکولز میں پینے کا صاف پانی، چار دیواری، بیت الخلا،اچھا انفرا سٹرکچر، معیاری کتب، تربیت یافتہ اساتذہ وانٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں، یہ وسائل کہاں سے پیدا ہوں گے؟

اڑھائی کروڑ مستقل آوٹ آف سکولزبچوں کی تعلیم کیلیے کتنے وسائل درکار ہیں،پالیسی میں کوئی ذکرنہیں ہے۔

ٹیکسٹ بک بورڈزسکولزمعیاری کتب فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ایلیٹ،پرائیویٹ وسرکاری سکولزومدارس کی کتب کےمعیار کا فرق آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔

اعلیٰ معیار کی نصابی کتب میں بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔سرمایہ کاری کی خاطر ہمیں بہترین تدریسی مواد خریدنے کا آپشن کھلارکھنا چاہئے۔

امتحانات میں صرف رٹا صلاحیت جانچی جاتی ہے۔ نمبرز گیم نظام کو یکسر تبدیل کیے بغیرنظام تعلیم کا معیار بہتر نہیں ہوسکتا۔

سکولزمیں فنی اور پیشہ ورانہ تربیت متعارف کرانے کیلئے بھی تمام متعلقہ آلات سے لیس ورکشاپس مہیا کرنا ہوں گی جسکےلیے خاطر خواہ فنڈز کی ضرورت ہوگی۔

تعلیمی فریم ورک کی دیگر ترجیحات کیلئے اخراجات درکارہیں، اسکے بجائے حکومت نے نصاب والا آسان راستہ اختیار کیا ہے۔سنگین مسائل پیدا ہونگے۔

قوم کو بتایا جائے اُردو کی بجائے میڈیم انگریزی رکھنے کی کیا مجبوری ہے۔

ون نیشن ون کریکلم کا ایمان افروز نعرہ ہے لیکن اعلان کردہ نظرثانی شدہ تعلیمی پالیسی ایک تجریدی خیال ہے۔

حکومت کاتیار کردہ نصاب تعلیم کا منصوبہ مشرف دور 2006 تعلیمی پالیسی کا چربہ ہے۔

نظام تعلیم یکساں کیا جائے، وگرنہ ون نیشن ون کریکلم محض اک کھوکھلے نعرے کے سوا کچھ نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں