35

وہ جلسہ جس میں قائد اعظم لقب ملا

درج ذیل تحریر قائدِ اعظمؒ کے ایک عقیدت مند سید شہاب الدین احمد صاحب (کینیڈا) کی یادداشتیں ہیں۔ جنہوں نے سات سمندر پار رہتے ہوئے زندگی کی گہماگہمی میں قائد کی یاد کو اپنے سینے سے لگائے رکھا۔ درج ذیل تحریر قائدِ اعظمؒ کے تعلق سے ان کے ساتھ گذرے قیمتی لمحات کے تذکرے ہیں۔ اسی کے ساتھ ان کے آبائی علاقے کا بھی ذکر ہے۔ ماضی کی باتیں ہونے کے باوجود ان میں ’’حال‘‘ کے لیے بھی بہت کچھ پوشیدہ ہے۔۔۔۔

سید شہاب الدین احمد 89 سال کے ایک پاکستانی کینیڈین ہیں۔ آپ ڈھاکہ یونیورسٹی، مشرقی پاکستان سے انجینئرنگ کے گریجویٹ ہیں۔ آپ نے انجینئر کی حیثیت سے اقوام متحدہ کے لیے دنیا بھر میں 4 ہوائی اڈوں کی تعمیر کا اہم کام کیا۔ اور بہت سے دوسرے کام اپنی نگرانی میں کروائے۔
سید صاحب کی یادوں کو ہماری قلمبندی کے ساتھ ان ہی کی زبانی پڑھیے :
میری جائے پیدائش’’ موڑا تالاب‘‘ ہے۔ یہ بہار کے ضلع پٹنہ کا ایک چھوٹا گا ئوں ہے۔ اس گا ئوں کی ایک خصوصیت یہاں مسلمان بادشاہ کی بنائی ہوئی مسجد ہے۔ مسجد سے ملحق تالاب اور قبرستان ہے۔ اس مسجد سے میرے بچپن کا گہرا تعلق ہے۔ میں اکثر اپنے جیسے نوعمر ساتھیوں کے ساتھ مل کر مسجد کے صحن کو بڑے شوق سے دھویا کرتا تھا۔ مسجد سے ملحق قبرستان میں ہمارے بزرگوں کی قبریں تھیں۔ جمعہ کی نماز کے بعد ہم دوست مل کر قبرستان جاتے اور مرحومین کے لیے دعا کرتے تھے۔ یہ مسجد اب بھی آباد ہے۔ یہاں کے امام صاحب ہمارے خاندان کے زیرِ انتظام ہیں۔ ہمارے گھر کا دالان مسجد کی ضرورت کے لیے استعمال ہوتا ہے جہاں گا ئوں کے بچوں اور بچیوں کو قرآن کی تعلیم دی جاتی ہے۔نوعمری کا زمانہ تھا، میں دو نالی بندوق لے کر اپنے دوستوں کے ساتھ قریبی گائوں میں پرندوں کے شکار کے لیے جایا کرتا تھا۔ راستے سے گذرتے ہوئے چارپائیوں پر بیٹھے معمر ہندو ہمیں دیکھ کر تعظیماً کھڑے ہو جاتے، جواباً ہم بھی ادب کے ساتھ ان کی خیریت معلوم کرتے۔ ہر طرف بے خوفی اور اعتماد کی فضاء تھی۔
میری نوعمری کا زمانہ تحریکِ پاکستان کے عروج کا دور تھا۔ گذرے وقتوں کے لوگ اور ان کی یادیں آنے والے وقت کا آئینہ ہوا کرتے ہیں۔ تحریکِ پاکستان کے تعلق سے میری یہ یادیں قائدِ اعظمؒ کے ساتھ گذرے بیش قیمت وقت کے تذکرے ماضی کا ایک خوبصورت عکس ہے۔
میں ہندوستان کے ان لاکھوں خوش نصیب مسلمانوں میں سے ہوں جنہیں تحریکِ پاکستان کے براہِ راست مشاہدے اور شرکت کا شرف حاصل ہے۔ اس وقت اگرچہ میں ایک نوعمر لڑکا تھا، لیکن تحریکِ پاکستان اور قائدِ اعظمؒ کے تعلق سے میرے جذبات و احساسات کسی پرعزم نوجوان سے کم نہیں تھے۔ ہندوستان میں کانگریس ہی عوام کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت تھی۔
مسلمانوں کے حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ قائدِ اعظم ؒکو مسلم لیگ کا صدر بنایا گیا۔ فولادی عزم اور بے مثال قوتِ ارادی رکھنے والے قائد نے مسلم لیگ کی تحریک میں نئی روح پھونک دی۔ علامہ اقبالؒ نے آپ کے بارے میں درست فرمایا تھا کہ ’’محمد علی جناحؒ ہی وہ واحد رہنما ہیں جو مسلمانانِ ہند کی منتشر قوتوں کو مجتمع کر کے ان میں متحدہ قوتِ عمل کا فسوں پھونکنے کا کٹھن کام انجام دے سکتے ہیں‘‘۔ مستقبل کے سخت ترین حالات میں قائدِ اعظمؒ کی بے مثال استقامت اور مسلمانوں کی ان کی قیادت میں منزل کی جانب پیش قدمی نے اقبال کی اس پیش گوئی کو سچ ثابت کیا۔
دسمبر 1938ء کے آخری عشرے میں آل انڈیا مسلم لیگ کا چھبیسواں سالانہ اجلاس پٹنہ میں منعقد ہوا۔ اس میں مجھے اپنے نانا مرحوم کے ساتھ شرکت کا موقع نصیب ہو گیا۔ اس تاریخی جلسے کے مناظر میرے ذہن میں اب بھی تازہ اور جذبات کو گرماتے ہیں۔ اس اجلاس کا انعقاد بیرسٹر سید عبدالعزیز نے کیا تھا۔ جلسہ کے لیے ایک وسیع پنڈال سجایا گیا تھا، اندر اور باہر سبز ہلالی پرچموں کی بہار تھی۔ قائدِ اعظمؒ اور دیگر مقررین کے استقبال کے لیے حاضرین کا جوش و خروش حیرت انگیز حد تک قابلِ دید تھا۔ قائدِ اعظمؒ تقریر کے لیے آئے تو سارا مجمع ایک دم پرجوش ہو گیا۔ محبت و عقیدت سے تکبیر اور قائدِ اعظم زندہ باد کے پرجوش نعروں سے ان کا استقبال کیا گیا۔ قائدِ اعظم کی طبیعت ناساز تھی، اس لیے وہ اپنی تقریر لکھ کے نہیں لا سکے تھے۔ اس کا یہ فائدہ ہوا کہ برجستہ زبانی تقریر نے حاضرین میں عجیب طرح کا غیر معمولی جوش و جذبہ پیدا کر دیا۔ ’’پاکستان ناگزیر تھا‘‘ کے مصنف سید حسن ریاض نے اپنی کتاب میں اس کا برملا اعتراف کیا ہے کہ قائدِ اعظمؒ کی زبانی تقریر ان کی تحریری تقریر سے زیادہ اثرانگیز ہوا کرتی تھی۔ وہ ایک ایک لفظ تول کر نہایت جامع اور مدلل انداز میں مخاطب تھے۔
اجلاس کے دوران علامہ اقبالؒ اور مولانا شوکت علی ؒکے انتقال کی خبر ملی۔ قائدِ اعظم نے رقت آمیز لہجے میں اپنے ان عزیز ترین ساتھیوں کی تعزیت کی کہ ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔
اس جلسے میں قائدِ اعظم ؒنے کانگریس کی حقیقت واضح کی کہ ملک کی نمائندہ جماعت ہونے کی دعویٰ کرنے والی جماعت دراصل ملک کے تمام طبقوں اور ثقافتوں پر ہندو راج قائم کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ کانگریس سے قائد اعظمؒ کی بیزاری کا سبب کانگریس کے اپنی وزارتوں کے زمانے (1937ء ) میں کیے گئے اسلام اور مسلمان مخالف اقدامات تھے۔ قائد اعظمؒ کو یہ اندازہ ہو گیا کہ کانگریس مسلمانوں کے ساتھ اس سے بھی بدتر سلوک کر رہی ہے جو انگریزوں نے ہندوستانیوں کے ساتھ روا رکھا تھا۔ یہ ان کی سیاسی سوجھ بوجھ اور قائدانہ سیاسی کردار کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے ایسے نازک موڑ پر مسلمانوں کی رہنمائی کی اور صحیح منزل کی طرف نشاندہی کی۔ مسلم لیگ کے اسی تاریخی جلسے میں پہلی بار’’قائدِ اعظمؒ زندہ باد‘‘ کا فلک شگاف نعرہ لگا اور زبان زدِ عام ہو کر آپ کا تاریخی لقب بنا دیا گیا۔
اس تاریخی جلسے کا ایسا اثر ہوا کہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود مجھ سمیت ہزاروں سامعین کی زندگی کا نصب العین بن گیا۔ اس ضمن میں قائد اعظمؒ سے تعلق کا ایک اور واقعہ میرے ذہن میں ہے کہ قائد اعظمؒ نے تحریک پاکستان کے لیے مالی تعاون، چندے کی اپیل کی۔ میں نے کم عمری کے باوجود دوستوں اور رشتے داروں سے مہماتی انداز میں چندہ جمع کیا۔ اس رقم کو منی آرڈر کے ذریعے قائدِ اعظمؒ تک پہنچایا۔ جواب میں قائد اعظمؒ نے رقم کی وصولی کی اپنی دستخط شدہ رسید بھیجی۔ یہ رسید قائد کی نشانی کے طور پر کسی بیش بہا سرمایہ کی مانند طویل عرصے میرے پاس سنبھلی رہی۔
قائدِ اعظم ؒکی عظیم الشان قیادت ہی تھی کہ ان کے پرچم تلے سب صرف اور صرف مسلمان اور امتِ مسلمہ تھے۔ آج میں قائدِ اعظمؒ کی ان تھک جدوجہد سے بنے اور بیدردی سے برتے جانے والے پاکستان کو دیکھتا ہوں تو بے اختیار ان کا یہ فرمان ان کی وصیت کی صورت میں سامنے آ کر میری آنکھیں گیلی کر دیتا ہے :
’’پاکستان کا قیام جس کے لیے ہم گزشتہ 10سالوں سے مسلسل کوشش کر رہے تھے۔ اللّٰہ کے فضل سے اب ایک حقیقت بن کر سامنے آ چکا ہے۔ لیکن ہمارے لیے اس آزاد مملکت کا صرف قیام مقصود نہیں تھا بلکہ یہ ایک عظیم مقصد کے حصول کا ذریعہ تھا۔ یہ کہ ہمیں ایک ایسی مملکت مل جائے جس میں ہم آزاد انسانوں کی طرح رہ سکیں، اور اپنی روشنی اور ثقافت کے مطابق نشو و نما پا سکیں۔ اور جہاں اسلام کے عدلِ انسانی کے اصول آزادانہ طور پر رو بہ عمل لائے جا سکیں‘‘۔(یادداشتیں : سید شہاب الدین احمد)
(خالق دینا ہال میں حکام کے سامنے تقریر، اکتوبر 1947)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں