30

پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک گئے، زمین کانپی نہ آسمان گرا، توہین مذہب کا الزام، سری لنکن منیجر تشدد سے قتل، لاش جلادی

سیالکوٹ(ٹیوٹرپاکستان نیوز،نیوز ایجنسیاں)سیالکوٹ میں تھانہ اگوکی کے علاقہ نول موڑ پرگارمنٹس فیکٹری میں واقعہ سےپاکستانیوں کے سر شرم سے جھک گئے، زمین کانپی نہ آسمان گرا، توہین مذہب کےالزام میں فیکٹری کے سری لنکن جنرل منیجرپریانتھا کماراکو تشدد سے قتل کرکےلاش جلادی گئی،مبینہ مذہبی پوسٹر اتارنے پر فیکٹری کے ورکرز نےجنرل منیجر پر حملہ کیا جوجان بچا کر چھت پر بھاگا مگرہجوم نے نیچے پھینک دیا،ڈنڈے،گھونسے،لاتیں مارتے GTروڈ چوک تک لے گئےاور مرنے کے بعد آگ لگادی،بے لگام ہجوم نے فیکٹری میں بھی توڑ پھوڑکی اورڈھائی گھنٹے تک ٹریفک بلاک رکھی،جائے وقوعہ پر جلتی نعش کے اردگر لوگ موبائل فون پر ویڈیو بناتے رہے، پنجاب حکومت نے سو سے زائد افراد کو گرفتار کر لیاجن میں سے ایک ملزم نے اعتراف جرم بھی کرلیاہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ سیالکوٹ واقعہ افسوسناک ،کسی بھی طرح سے مذہبی نہیں، ان کا کہنا تھاکہ اسلام ایسا مذہب ہے جس نے انصاف کے اصول قائم کئے ہیں، وزیراعظم اوروزیراعلی نے سخت نوٹس لے لیا،وزیراعظم عمران خان نے ملزموں کو جلد کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی، وزیر اعظم نے کہا کہ آج شرمناک دن ہے،وہ خود تحقیقات کی نگرانی کر رہے ہیں جبکہ واقعے میں ملوث افراد کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے جن کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مشتعل افراد کے ہاتھوں غیرملکی کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ماورائے عدالت اقدام قطعاً ناقابل قبول ہیں، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدارنے کہا کہ واقعہ افسوسناک ہے،کارروائی کرینگے،معاون خصوصی مذہبی امورنورالحق قادری نے کہا کہ پاکستان اسلام بدنام ہوا،پنجاب پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے سیالکوٹ واقعے کے مرکزی ملزم سمیت 100سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ،ملزم لبیک یا رسول اللہ کے نعرےلگاتے رہے،ترجمانTLPکا کہنا ہے کہ واقعہ کو تحریک لبیک سے منسوب کرنا افسوسناک ہے،ملک فساد کا متحمل نہیں ہو سکتا،حسان خاور نے کہا کہ اعلیٰ سطحی انکوائری کی رپورٹ 48گھنٹوں میں منظرِ عام پر لائی جائے گی ،ایمنسٹی انٹرنیشنل ،علماء و مشائخ ، پاکستان علماء کونسل ، انٹر فیتھ ہارمنی کونسل ،نورالحق قادری،سراج الحق ،پرویز رشید نےبھی واقعہ کی مذمت کی ،سیالکوٹ کے نمائندہ جنگ کے مطابق سری لنکن باشندے کو قتل کرنے کے واقعہ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں طلحہ اور فرحان نے کہا کہ سری لنکن ملازم نے لبیک یا رسول اللہ اور یاحسین والے کاغذات کو پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا اور بھاگ کر دفتر چلا گیا جس کو ہم نے اکھٹے ہوکر جہنم واصل کر دیا،فرحان کو گرفتار کرلیا گیاہے،آئی جی پولیس پنجاب راؤ سردار علی خان نے کہا کہ تشدد اور اشتعال انگیزی میں ملوث 2 مرکزی ملزمان فرحان ادریس اور عثمان رشید کو گرفتار کر لیاگیا ہے، مرکزی ملزم فرحان ادریس کو ویڈیو میں تشدد کرتے اور اشتعال دلاتے دیکھا جا سکتا ہے، ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق پولیس کی مدعیت میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ ، پاکستان علماء کونسل اور انٹر فیتھ ہارمنی کونسل نے سیالکوٹ میں سری لنکن جنرل منیجر کے قتل کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیالکوٹ میں سری لنکن باشندے کو جس بربریت کے ساتھ قتل کیا گیا ہے یہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔تفصیلات کے مطابق پریانتھا کمارا کو نومبر 2013 میں اعجاز بھٹی کی گارمنٹس فیکٹری راجکو کا جی ایم بنایا گیا ،پریانتھا کمارا سنہ 2010 میں پاکستان آیا اور لاہور اور فیصل آباد کے ٹیکسٹائل سیکٹر میں کام کیا، پریانتھا کمارا نے 2000 میں سری لنکا کے شہر کینڈی کے قریب واقع پیرادینیا یونیورسٹی سے پروڈکشن انجینئرنگ میں گریجویشن کی،تھانہ اگوکی کے علاقہ نول موڑ پرواقع اعجاز بھٹی نامی شخص کی فیکٹری میں جنرل منیجر پریانتھ کمارا کو قتل کرنے کے بعد مشتعل ہجوم نے سڑک پر آگ لگا دی، بتایا گیا ہے کہ قتل ہونے والا غیر ملکی شخص اکثر اوقات نامناسب، غیر اخلاقی اور توہین آمیز الفاظ کا استعمال کرتا تھا ،جمعہ کو پھر اس نے ایسا ہی کیا اور لبیک یا رسول اللہ لکھے ہوئے کا غذ کی بے حرمتی کی جس پر فیکٹری ملازمین نے اس کو چھت سے نیچے پھینک دیا اور اسکو رسی ڈال کر گھیسٹتے ہوئے سٹرک پر لے جا کر آگ لگا دی، اس موقع پر موجود ہزاروں لوگ لبیک یا رسول، ختم نبوت زندہ آ باد کے فلک شگاف نعرے لگاتے رہے،تھانہ اگوکی سمیت دیگر تھانوں کی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے بعد دوران اجتحاج وزیر آباد پر بند ٹریفک کو بحال کروایا جبکہ لاش کو ریسکیو نے اٹھایا اور مقامی ہسپتال منتقل کر دیا، واقعہ کے حوالے سے فیکٹری مالک اعجاز بھٹی سے رابطہ ممکن نہ ہوسکا ۔وزیراعظم عمران خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملوث افراد کو کٹہرے میں لانے کی ہدایت کردی جبکہ پنجاب حکومت نے 100مشتبہ افراد کی گرفتاری کی تصدیق بھی کی ہے، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کا کہنا تھاکہ سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں پرانتھا کمارا کا قتل قابل مذمت اور شرمناک ہے، گھناؤنے جرم کے مرتکب افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے سول انتظامیہ کو مدد فراہم کی جائے گی، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے بتایا کہ وزیرزاعظم نے کہا کہ غیرملکیوں کے جان و مال کی حفاظت ریاستی ذمہ داری ہے، کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، نور الحق قادری نے کہا کہ سيالکوٹ واقعےکی شفاف، غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں گی، ریاست اورپاکستانی شہری بہیمانہ واقعےکی مذمت کررہے ہیں ۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے افسوسناک واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ،انہوں نے واقعہ کی اعلی سطحی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی،انہوں نے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے ،واقعہ انتہائی افسوسناک ہے حکومت قانون شکن عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔ترجمان کوتحریک لبیک پاکستان نے مزید کہا کہ سیالکوٹ واقعہ کاپس منظراورسازش سمیت تمام پہلوؤں کومدنظررکھ غیرجانبدارنہ تحقیقات کی جائیں،سیالکوٹ واقعہ افسوسناک ہے،اس کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتےہیں۔واقعے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ بدسلوکی،جانوں کوخطرے میں ڈالنےوالےماحول کی فوری اصلاح کی ضرورت ہے،سیالکوٹ میں سری لنکن فیکٹری منیجرکا پُرتشدد قتل انتہائی تشویشناک ہے۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سیالکوٹ میں پیش آنے والا سانحہ کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ واقعہ انتہائی قابل افسوس اور اسلام و شرف انسانیت کی توہین ہے، سیالکوٹ میں سری لنکن فیکٹری مینیجر کا بے دردی سے قتل پاکستان کی بدنامی کا باعث ہے، ایسے واقعات سے اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں کو مزید زہر اگلنے کا موقع ملے گا، سیالکوٹ واقعہ کا اسلام اور دینی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے، سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کرا کے مجرموں کو گرفتار کیا جائے اور انھیں قرار واقعی سزا دی جائے۔دوسری جانب انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب راؤ سردار علی خان نے بھی واقعے کا نوٹس لے کر ریجنل پولیس افسر (آر پی او) گوجرانوالہ کو موقع پر پہنچنے کی ہدایت کی ۔پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ ، پاکستان علماء کونسل اور انٹر فیتھ ہارمنی کونسل نے سیالکوٹ میں سری لنکن جنرل منیجر کے قتل کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیالکوٹ میں سری لنکن باشندے کو جس بربریت کے ساتھ قتل کیا گیا ہے یہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے بھی خلاف ہے ،سیرت محمد مصطفی ؐکے بھی خلاف ہے۔ چیئرمین پاکستان علماء کونسل و نمائندہ خصوصی وزیر اعظم پاکستان برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی ، علامہ عبد الحق مجاہد، مولانا محمد شفیع قاسمی ، مولانا نعمان حاشر، مولانا اسعد زکریا قاسمی ، مولانا اسد اللہ فاروق، مولانا محمد اشفاق پتافی، مولانا طاہر عقیل اعوان، مولانا ابو بکر حمید صابری ، علامہ طاہر الحسن ، مولانا قاسم قاسمی ، مولانا عزیز اکبر قاسمی ، مولانا سعد اللہ شفیق ، مولانا محمد اسلم صدیقی، مولانا اسعد حبیب شاہ جمالی ، مولانا عبید اللہ گورمانی اور دیگر نے کہا ہے کہ ہمارا سب کچھ آقا علیہ الصلوٰۃ کی عزت و ناموس پر قربان ہے ، لیکن اگرکوئی مجرم بھی ہے تو پاکستان میں توہین ناموس رسالتؐ و توہین مذہب و مقدسات کا قانون موجود ہے اس کو عدالت میں ، قانون کے کٹہرے میں لاناچاہیے نہ کہ اس کو پکڑ کر مار دیا جائے اس کی لاش کو جلا دیا جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں