25

پٹرول/ڈیزل کی قیمتوں میں 20 روپے فی لیٹر کی کڑوی گولی نگلنے پر غور

پٹرول/ڈیزل کی قیمتوں میں 20 روپے فی لیٹر کی کڑوی گولی نگلنے پر غور کیا جارہا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کے باوجود ڈیزل پر 30 روپے فی لیٹر کی سبسڈی برقرار رہے گی۔

تفصیلات کے مطابق، شہباز شریف حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 20 روپے فی لیٹر اضافے پر غور کررہی ہے تاکہ عمران خان حکومت کے آخری دور میں تیل پر دی گئی بڑی سبسڈی کے ملک کی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کا جزوی طور پر ازالہ کیا جاسکے۔

مذکورہ یکمشت اضافہ چاہتے ہوئے بھی مکمل سبسڈی واپس نہیں لے گا جو کہ ڈیزل پر تقریباً 50 روپے فی لیٹر ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی تقرری کے فوری بعد متعلقہ حکام نے انہیں تجویز دی تھی کہ پٹرول کی قیمت میں 21 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 50 روپے فی لیٹر اضافہ کیا جائے۔

تاہم، وزیراعظم نے سیاسی وجوہات کے پیش نظر کوئی اضافہ نہیں کیا۔ ان امور میں شامل باوثوق سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتیں بڑھانے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ ہمیں پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی واپس لینا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ فی الحال پٹرول پر 20 روپے سے کچھ اوپر اور ڈیزل پر 50 روپے فی لیٹر سبسڈی حکومت دے رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے فیصلے کے بعد مجوزہ اضافہ مکمل سبسڈی ختم نہیں کرے گا۔ آئندہ چند ماہ میں ڈیزل کی قیمتیں مزید بڑھیں گی تاکہ حکومتی اخراجات کے برابر قیمتوں کو لایا جاسکے۔

اگر تیل کی عالمی قیمتیں کم نہ ہوئیں تو ڈیزل پر 20 روپے فی لیٹر اضافے کا مطلب یہ ہوگا کہ حکومت فی لیٹر ڈیزل پر اپنی جیب سے 30 روپے ادا کرے گی۔ ڈیزل پر مکمل سبسڈی واپس لینے کے لیے حکومت کو آئندہ چند ماہ تک مسلسل ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔

شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے بنیادی کام کررہے ہیں۔ دونوں نے اس نمائندے کو تصدیق کی ہے کہ تیل کی قیمتوں کو کم رکھنے کے لیے عمران خان حکومت نے جو کچھ کیا ہے وہ کوئی حکومت یا ملک برداشت نہیں کرسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے اخراجات سویلین حکومت کے بجٹ اور دفاعی بجٹ کے لیے مختص رقم سے بھی زیادہ ہے۔ تاہم، اس کا بڑی حد تک انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت کس طرح آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کرتی ہے۔

اس بات کا امکان ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ابتدائی مذاکرات کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا جائے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل آئی ایم ایف مذاکرات میں شرکت کے لیے واشنگٹن روانہ ہورہے ہیں، جب کہ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر پہلے ہی مذاکرات میں شرکت کے لیے واشنگٹن میں موجود ہیں۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے مطابق، حکومت کو پٹرول 171 روپے فی لیٹر میں پڑرہا ہے، جب کہ وہ 150 روپے فی لیٹر میں فروخت ہورہا ہے۔ اسی طرح ڈیزل پر حکومتی اخراجات فی لیٹر 196 روپے ہیں لیکن یہ 144 روپے فی لیٹر میں فروخت ہورہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ عمران خان حکومت کے وعدوں کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت 235 روپے ہونی چاہیئے تھی اور حکومت ڈیزل کی قیمت 264 روپے فی لیٹر تک بڑھانے کی پابندی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ آخری حکومت نے آئی ایم ایف سے اتفاق کیا تھا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے ساتھ کم از کم 30 روپے فی لیٹر لیوی بڑھائی جائے گی۔ شاہد خاقان عباسی کا شہباز شریف کابینہ میں وزیر پٹرولیم اور توانائی بننے کا امکان ہے۔

تاہم، انہوں نے منگل کے روز حلف نہیں اٹھایا۔ ان سے جب پوچھا گیا تو شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ وہ کابینہ میں شامل نہیں ہوں گے البتہ ممکنہ طور پر توانائی پر ٹاسک فورس کا حصہ ہوسکتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ کوئی وزارت لیے بغیر حکومت اور متعلقہ وزراء کی مدد کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں