19

پ سے پانامہ لیکس ۔۔ پ سے پنڈورا پیپر(تحریر-میاں عصمت رمضان)

انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) پنڈورا پیپرز کے زریعے ایک بار پھر دولت مند اشرافیہ کے پیسوں کی لین دین کے معاملات سامنے لے آئی ہے۔
پنڈورا پیپرز میں حکومتی وزرا، معاون خصوصی، کئی نامور پاکستانی سیاستدانوں سمیت 700 سے زائد پاکستانیوں کے نام موجود ہیں۔
پنڈورا پیپرز میں وزیرخزانہ شوکت ترین کی آف شور کمپنی جبکہ وفاقی وزیر مونس الٰہی اور سینیٹر فیصل واوڈا کی آف شور کمپنیاں سامنے آئیں۔ پینڈورا پیپرز میں وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی عمر بختیار، صدر نیشنل بینک عارف عثمانی، ایگزیکٹ کے مالک شعیب شیخ اور ابراج کے بانی عارف نقوی کا نام بھی موجود ہے۔ تحقیقات میں مسلم لیگ ن کے رہنما و سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بیٹے کی آف شور کمپنی بھی پنڈورا پیپرز میں شامل ہے۔اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن، وزیراعظم عمران خان کے سابق معاون خصوصی وقار مسعود کے بیٹے کا نام کے علاوھ پنڈورا پیپرز کی فہرست میں کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران، کچھ بینکار، کچھ کاروباری شخصیات اور کچھ میڈیا مالکان کے نام بھی شامل ہیں۔
پہلے تو میں اپ کو بتاتا چلوں کہ آف شور کمپنی کیا ہوتی ہیں، کیا یہ قانونی حیثیت کی حامل ہیں اور ان کے مقاصد کیا ہوتے ہیں؟
آف شور کمپنی ایسی فرم ہوتی ہے جو قانونی طور پر ان مقامات پر قائم کی جاتی ہے جہاں ٹیکسوں میں چھوٹ دی گئی ہو اور یہ سوال نہ پوچھا جائے کہ سرمایہ کاری کے لیے پیسہ کہاں سے آیا، ایسی کمپنیوں کی آڈٹ رپورٹ مانگی جاتی نہ ہی سالانہ ریٹرن ظاہر کیا جاتا ہے۔
آف شور کمپنیاں برائے نام ہوتی ہیں جس کا مالک اصلی ہوتا ہے اور نہ کوئی اصل دفتر۔ ان کمپنیوں میں ملازمین بھی نہیں ہوتے، یہ کمپنیاں صرف کاغذات پر چلائی جاتی ہیں اور اصل مالک کی شناخت چھپاتی ہیں۔
شیل یا آف شور کمپنیز ایسے ممالک میں قائم کی جاتی ہیں جہاں ریگولیٹرز کمزور یا زیادہ پوچھ گچھ نہ کرتے ہوں اور مالیاتی رازداری بہت زیادہ ہو، ان جگہوں کو آف شور فنائنشل سینٹرز یا ٹیکس پناہ گاہیں کہا جاتا ہے۔سوئٹزرلینڈ، برٹش ورجن آئی لینڈ، مکاؤ اور پاناما آف شور کمپنیاں قائم کرنے کے لیے مشہور ہیں۔
آف شور کمپنیوں میں پیسہ رکھنا غیر قانونی نہیں بلکہ پاکستانی پبلک آفس ہولڈر کیلئے آف شور اکاونٹس کو ڈیکلیئر کرنا لازمی ہے۔
ان اکاونٹس کو ایف بی آر، اور ایس ای سی پی ڈیکلیئر کرنا ہوتا اور بھیجے ہوئے پیسے کی منی ٹریل دکھانی پڑتی ہے۔
اراکین پارلیمنٹ کو ایف بی آر اورایس ای پی کے ساتھ الیکشن کمیشن میں اپنے اثاثاجات کی ڈیکلیئریش کے وقت بھی آف شور اکاونٹس کو ڈیکلیئر کرنا ہوتا ہے۔
ہمارے وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے کہ پنڈورا پیپرز میں جو بھی قصور وار پایا گیا اس کے خلاف کارروائی ہوگی، حکومت پنڈورا پیپرز میں شامل تمام پاکستانیوں کی تحقیقات کرے گی۔ کاش خان صاحب ایسا ہو سکے کیونکہ جب پانامہ لیگ ائی تھی تو اس وقت بھی یہ سب وعدے کیے گیے تھے مگر اج تک نہ ان سے پیسے نکوائے گیے نہ انکے خلاف کوئی کاروائی کی جا سکی. کیونک یہ تو سب جانتے ہیں کہ یہ پیسہ کیسے بنا اور اسکا اصل مالک کون ہے لیکن سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ انکے خلاف کاروائی کون کرے گا اور کیا یہ آف شور کمپنیوں میں پڑا ہوا پاکستانی عوام کا خون پسینے کا پیسہ واپس آ سکے گا.جب پانامہ لیکس کا پنڈورا کھلا تھا تو انٹربیشنل لیول پر یہ شور مچا تھا مگر وہ شور صرف شور ہی رہا اس سے کچھ بھی حاصل نہ ہو سکا اور اب تو یہ ایک چھوٹا سا پنڈورا باکس ہے جس میں وہی کردار ہے ڈرامے کی پہلی قسط میں تھے جن کو لوگ بخوبی جانتے ہیں اور نہ انکا اس وقت کچھ ہو سکا تھا اور نہ اب ہو پائے گا-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں