96

ڈینگی وباء خاموش قاتل اور وزیر اعلیٰ پنجاب حکومت کے انتظامات تحریر۔ زینب علی خان – ڈی جی پی آ ر پنجاب

ڈینگی وباء خاموش قاتل-وزیر اعلیٰ پنجاب حکومت کے انتظامات
تحریر۔۔زینب علی خان
ڈی جی پی آ ر پنجاب

ڈینگی بخار ایک آفت کی طرح پورے ملک پر چھایا ہوا ہے۔سفید دھبوں والا یہ مچھر،خاموش قاتل کی طرح کاٹتا ہے۔ اس کا ایک ہی ڈنگ انسان کو تیز بخار،سر درد، بدن درد،متلی یا قے اور جسم پر سرخ دھبوں جیسے اثرات میں مبتلا کر دیتا ہے۔ڈینگی بخار انسان کو اس حد تک توڑ دیتا ہے کہ اس کے خون میں پلیٹ لیٹس کی مقدار کم ہونے لگتی ہے اور بروقت علاج نہ ہونے پر دس دن کے اندر اندر انسانی جان جانے کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔یہ مچھر نمی والی جگہ پر انڈے دیتا ہے اور بالخصوص موسم برسات میں ڈینگی کا زور بڑھنے کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔اس لیے احتیاطی تدابیر کرنا بہت ضروری ہوتی ہیں۔
سن 2011 میں جب ڈینگی وائرس پاکستان میں عروج پر تھا۔ تب گزشتہ حکومت نے اس وبا کو قابو میں لانے کیلئے سری لنکا سے پیشہ ور ڈاکٹروں کی ٹیم بلوائی۔ اس دور میں ڈینگی صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ تھا،اس وقت اس وائرس کو قابو میں لانے کے لئے متعدد اہم اقدامات اٹھائے گئے۔ پاکستان کا سب سے بڑا ڈینگی ہسپتال ایکسپو سینٹر لاہور میں قائم ہوا اور پاکستانی ڈاکٹروں کی خاص تربیت بھی کی گئی۔ڈینگی کنٹرول سکوائیڈ نے گھروں،کارخانوں، فیکٹریوں،ٹائر ٹیوب اورپنکچر لگانے کی دکانو ں کا دورہ کرو تے ہوئے لو گوں کو کا آگاہی دی۔چھاپوں کے دوران کسی بھی جگہ لاروا پائے جانے کی صورت میں جرمانے اور قانونی چارہ جوئی کی گئی ،اس کے علاوہ جگہ جگہ سے گندگی اور کھڑے گندے پانی کو ختم کیا گیا۔ اس طرح حکومت کی محنت سے اس وبا پر کسی حد تک قابو پا لیا گیا۔
گزشتہ اوررواں سال چونکہ ہم کورونا اپنے عروج پر تھا۔ اسی وجہ سے احتیاطی تدابیر پر غور نہ کرنے کی وجہ سے ڈینگی نے ایک بار پھر اپنا زور دکھا دیا۔ موسم برسات آنے کے بعد ملک بھر میں ڈینگی کے مریض بھی بڑھنے لگے، صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ مریض رپورٹ ہوئے۔ جس کی وجہ سے محکمہ صحت پنجاب کو ان مریضوں کو قابو میں لانے اور ضروری علاج مہیا کرنے کے لیے تیزی دکھانی پڑی۔ڈائریکٹو ریٹ جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے چوبیس گھنٹوں میں پنجاب میں 139 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج تھے۔
حکومت پنجاب کی جانب سے اینٹی ڈینگی مہم پر کام کیا جا رہا ہے۔ اس مہم میں وزیر اعلی پنجاب،عثمان بزدار کے حکم سے اور سیکرٹری صحت پنجاب،عمران سکندربلوچ کی زیر نگرانی میں اس وبا کو قابو میں لانے کے لیے مختلف اقدامات لیے گئے ہیں،جس میں جگہ جگہ اسپرے کرنا،گھروں اور خالی پلاٹوں سے پانی کا اخراج،پانی کے برتنوں کو خالی کرنا،تا لابوں کی صفائی کرنا اور اس کے علاوہ تعلیمی اداروں، خصوصاً اسکولوں میں بچوں کی آگاہی کرنا شامل ہیں۔
ڈینگی مچھرصاف پانی میں انڈے دیتا ہے۔ تحقیق کے مطابق ہر دس میں سے ایک مچھر ڈینگی وائرس کا ہوسکتا ہے۔ڈینگی لاروا کی ایک خاص حرکت ہوتی ہے جس سے کہ یہ پہچان ہے آتا ہے۔ اس لاروا کو قدرت کی طرف سے یہ شرف حاصل ہے کہ پیدا ہونے کے چند 100ہے۔ترقیاتی ممالک جیسے کہ برطانیہ اور اس کے علاوہ سری لنکا وغیرہ جہاں ڈینگی اپنے عروج پر تھا۔انہوں نے اہم اقدامات کو نظر میں رکھتے ہوئے اس وبا پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے۔
اس وبا سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ پہلے سے ہی احتیاط کی جائے۔ عوام کا بھی فرض ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔ اپنے گھر کی صفائی معاشرے کے ہر شخص کا فرض ہے۔ موسم برسات میں ڈینگی کا زور پڑنے کا بہت خطرہ رہتا ہے،اس لیے ضروری ہے کہ اس موسم میں پانی کھڑا نہ ہونے دیا جائے۔ پانی کے برتنوں کو ڈھانپ کر رکھا جائے اور اس کے علاوہ مچھر مار اسپرے اور لوشن کو استعمال میں لایا جائے۔
ڈینگی کی کوئی بھی علامت محسوس ہونے پر فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں اور ٹیسٹ کروانے سے نہ گھبرائیں۔ اس مرض میں مبتلا ہونے کی صورت میں پھل اور تازہ جوس کا استعمال یقینی بنائیں۔ ڈینگی ایک آفت بن کر اس ملک پر آیا ہے۔اس لیے ہر شخص پر فرض ہے کہ وہ اپنے حصے کے فرائض سرانجام دے تاکہ اس سے بچا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں