کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ پر بالآخر33 گھنٹے بعد قابو پالیا گیا‘متاثرہ عمارت کا ایک اور حصہ گرگیا‘ دم گھٹنے اور جھلس کر جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہوگئی76افرادلاپتہ ‘ملبہ ہٹانے اور لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ‘پہلی منزل کی تلاش مکمل ‘متعدد لاشیں ناقابل شناخت ہو چکیں جبکہ مختلف مقامات سے انسانی اعضاءبھی برآمد ہو رہے ہیں‘ آگ بجھنے پر مشتعل ہجوم نے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر پولیس کی اضافی نفری طلب کرلی گئی ‘ آگ لگنے کی ابتدائی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی ‘ڈی آئی جی ساؤتھ سیداسدرضاکے مطابق جس وقت آگ لگی گل پلازہ کے 16 میں سے 13دروازوں کو تالے لگے ہوئے تھے ‘ایک دکاندار نے بتایاکہ مال بند ہونے کا وقت قریب ہونے کی وجہ سے زیادہ تر دروازے مقفل تھے ۔ تفصیلات کے مطابق فائر فائٹرز نے 33 گھنٹے بعد گل پلازہ میں لگی آگ پر قابو پالیا تاہم کولنگ کا عمل اب بھی جاری ہے۔ریسکیو اہلکار 40 گھنٹوں بعد گل پلازہ کی عمارت میں داخل ہوگئے ‘ پہلی منزل پر لاشوں کی تلاش کا کام مکمل ہوگیا اور اب دوسری منزل پر زندہ یا مردہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ ریسکیو عملے کو عمارت کے اندر انسانی اعضا مل رہے ہیں جبکہ لاشیں نکالنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ترجمان ایدھی کے مطابق ایک لاش مکمل اور باقی اعضا کی صورت میں نکالی گئی ہیں جبکہ تمام لاشیں ناقابل شناخت ہیں۔ چیف فائر آفیسر کا کہنا ہے کہ ملبہ کلیئر کرنے میں 15 سے 17 دن لگ سکتے ہیں، عمارت کا موجودہ حصہ خطرناک ہے۔ڈی آئی جی سائوتھ سید اسد رضا نے پیر کی شام بتایا کہ گل پلازہ سے اب تک 23 لاشیں نکالی جاچکی ہیں جن میں سے 6 لاشوں کی شناخت ہوچکی ہے‘باقی لاشوں کے شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ممکن ہوسکے گی۔ ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق 32 لاپتہ افراد کی آخری لوکیشن گل پلازہ کی معلوم ہوئی ہے جبکہ باقی لاپتہ افراد کا ڈیٹا حاصل کیا جارہا ہے۔پیر کو شہریوں کی جانب سے گل پلازہ میں داخل ہونے کی کوشش کی گئی۔ ہجوم رمپا پلازہ کے راستے اندر داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا۔مشتعل افراد نے گل پلازہ اور رمپا پلازہ کے درمیان لگے جنگلے اور گرل توڑ دیں۔مشتعل افراد کا دعویٰ تھا کہ گل پلازہ کی چھت پر 7 گاڑیاں اور 100 سے زائد موٹر سائیکلیں موجو ہیں۔پارک کی گئی تمام موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں دکانداروں کی ہیں۔
105