19

کرونا،ڈینگی اوراب اسموگ تحریر-میاں عصمت رمضان

ابھی عوام پرانی قدرتی افتوں سے باہر نہیں نکل پائی تھی کہ ایک نئی آفت نے آ لیا اور لاہور پھر سے اس قدرتی آفت کے زیر تاب آگیا-
کرونا کے بعد ڈینگی کی وجہ سے سینکڑوں قیمتی جانوں کا نقصان اٹھانا پرا، یہی نہیں بلکہ جانی نقصان کے ساتھ ساتھ مالی نقصان بھی ہوا.لوگوں کے کاروبار بند ہو گئے اور لاکھوں لوگ بےروزگار ہوگئے.
فضائی الودگی کے ساتھ ساتھ فیکٹریوں اور گاڑیوں کے گندے دھواں کی وجہ سے لاہور کو ایک بار پھر قدرتی آفت زدہ قرار دے دیا گیا-
گزشتہ کچھ برسوں میں پاکستان نے قدرتی ماحول کی بحالی کے لیے ایک ارب درختوں کا منصوبہ تشکیل دیتے ہوئے اِس ضمن میں متعدد پروگرام مرتب کیے۔ اقوامِ متحدہ نے حکومتِ پاکستان کے اِنہی ماحول دوست اقدامات کو سراہتے ہوئے اِس سال پہلی بار پاکستان کو عالمی یومِ ماحولیات کی میزبانی کرنے کا اعزاز بھی دیاتھا لیکن آج ہمارا حال یہ ہے کہ لاہور دنیاکا آلودہ ترین شہر بن چکا ہے۔ اسموگ کی وجہ سے سانس اور آنکھوں کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ صوبائی حکومت نے فضائی آلودگی اور اسموگ کی اِس صورتحال کے پیش نظرلاہور میں 15 جنوری تک ہفتے میں 3 روز تعلیمی ادارے اور تمام دفاتر بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔ حکومت پنجاب نے نوٹیفکیشن جاری کرتےہوئے کہا کہ اسموگ کے تدراک کے لیے باقی اقدامات کے علاوہ لاہور میں 27 نومبر 2021 سے 15 جنوری 2022 تک تمام نجی اور سرکاری اسکول، کالج، جامعات اور تمام نجی دفاتر ہفتے اور اتوار کے ساتھ پیر کو بھی (3 دن) بند رہیں گے۔ پاکستان میں آلودگی بدستور ایک مسئلہ ہے اور ہر سال اکتوبر اور نومبر میں پنجاب میں جب کسان گندم کے لیے کھیت تیار کرنے کی خاطر پیچھے رہ جانے والی باقیات کو جلاتے ہیں تو فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے لیکن فضائی آلودگی کی محض یہی ایک وجہ نہیں ہے بلکہ سارا سال فیکٹریوں، لوہے کی بھٹیوں اور اینٹوں کے بھٹوں اور لاکھوں کی تعداد میں شہر میں چلنے والی گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں اِس آلودگی کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہے۔ انتظامیہ کو تعلیمی ادارے اور دفاتر بند کرنے کی بجائے فضائی آلودگی کے پھیلاؤکی اصل وجہ کو ختم کرنا ہو گا۔ صوبائی حکومت اور لاہور کی شہری انتظامیہ کو چاہئے کہ آلودگی پھیلانے والی انڈسٹری اور شہر میں لاکھوں کی تعداد میں چلنے والی گاڑیوں کے حوالے سے کوئی جامع لائحہ عمل تشکیل دے تاکہ فضائی آلودگی کی اصل اور مستقل وجوہات دور کی سکیں اور ایک بار پھر لاہور کے باسی اپنی زندگی جی سکے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں