7

کیا آپ سمجھا کر لائے ہیں اسے کیا بولنا ہے؟ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق لاپتہ شہری کے کیس میں پولیس کے رویے پر برہم ہو گئے اور کہا کہ اس کیس میں ہم اپنی آبزرویشن دیں گے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر 17 نومبر سے لاپتہ شہری کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
پولیس نے عثمان شاہ کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہری کو کل شام ہم نے گرفتار کیا ہے۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے شہری کو روسٹرم پر پر بلا لیا اور سوال کیا کہ آپ کو کس نے اور کب اٹھایا؟
شہری نے جواب دیا کہ مجھے 17 تاریخ کو اسلام آباد سے اٹھایا گیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق پھر سوال کیا کہ آپ کو کہاں لے کر گئے تھے؟
شہری نے کہا کہ کچھ پتہ نہیں کہاں لے گئے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس سے سوال کیا کہ کیا آپ سمجھا کر لائے ہیں اسے کیا بولنا ہے؟
سرکاری وکیل نے کہا کہ ہم نے کل شام کو انہیں گرفتار کیا، ان پر کیس ہے۔
عدالت نے کہا کہ شام میں اچانک کیا معجزہ ہوا ہے، ہم نے کہا آئی جی آئے گا اور ساتھ بندہ ہی آ گیا۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نہ میں اس میں ضمانت دے سکتا ہوں نہ کوئی آرڈر، آبزرویشن دوں گا۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ہمارا ملزم آئی جی اسلام آباد ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اسی لیے کہہ رہے ہیں ہم آبزرویشن دیں گے۔
عدالتی ریمارکس کے بعد پولیس بازیاب شہری کو ہتھکڑی سمیت عدالت سے واپس لے گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں