20

گلوکارہ ناہید اختر نے زندگی کی 66 بہاریں دیکھ لیں

پاکستان کی معروف گلوکارہ ناہید اختر آج 66 ویں سالگرہ منا رہی ہیں ۔
معروف اور خوبصورت گلوکارہ ناہید اختر 1954ء کو ملتان میں پیدا ہوئیں ۔ نوجوانی ہی میں اپنے شوق کے باعث ریڈیو پاکستان ملتان سے گلوکاری کا آغاز کیا ۔ 1970ء میں پی ٹی وی کے پروگرام لوک تماشا میں حصہ لیا ۔ وہاں پہ ان کا گایا ہوا گیت ’’مینوں سوڈا واٹر لے دے وے روز بالما کہندی‘‘ بہت مقبول ہوا۔
ثقافتی پروگرام کے ذریعے اپنی مدھر اور خوبصورت آواز سے لوگوں کو متاثر کرنے والی پاکستان کی لیجنڈ گلوکارہ ناہید اختر نے موسیقی کی دنیا میں خوب نام کمایا۔ فلم ’’ننھا فرشتہ‘‘ کے نغمے’’دل دیوانہ دل‘‘ نے ناہید اختر کی شہرت میں مزید اضافہ کیا لیکن فلم ’’شمع‘‘ کے گیت ’’کسی مہرباں نے آکے میری زندگی سجادی‘‘ نے ان کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ کردیا۔
1991 میں ناہید اختر نے معروف ڈرامہ نگار آصف علی پوتا سے شادی کے بعد گلوکاری کو خیرباد کہہ دیا۔ ان کی خوبصورت آواز سے بالی ووڈ والے بھی متاثر ہوئے اور انہوں نے ناہید اختر کے گائے ہوئے کئی گیتوں کو اپنی فلموں میں کاپی کیا ۔
ناہید اختر کے مقبول ترین نغموں، غزلوں اور ملی نغموں کی ایک طویل فہرست ہے ، ان کے چند گیت اور غزلیں بے پناہ مقبول ہوئیں جن میں تو میرے ساتھ ساتھ رہے تو جدا نہ ہو ، یہ دنیا رہے نہ رہے میرے ہمدم کہانی محبت کی زندہ رہے گی ، آئے موسم رنگیلے، کسی مہرباں نے آکے میری زندگی سجا دی ، تیری الفت میں صنم،شب غم مجھ سے مل کر ایسے روئی ، چھاپ تلک سب چھین لی رے موسے نینا ملائی کے،شامل ہیں ۔
موسیقی کی دنیا میں گراں قدر خدمات انجام دینے کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں 2007 میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی ملا اور 1974، 1975 اور 1985 میں نگار فلم ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں