52

ہٹ دھرمی اور ہڈ حرامی تحریر: میاں وقارالاسلام

دو جنریشنز کا ٹکراؤ ہمیشہ بہت مہلک ہوتا ہے، ہٹ دھرم اور ہڈ حرام طبقہ ہر معاشرے کی مصیبت بنتا ہے۔ روڈ بیریئرز اس لیے لگائے جاتے ہیں کہ جب گاڑی آئے تو انہیں اٹھا دیا جائے اور ٹریفک کو معمول کے مطابق چلنے دیا جائے، نہ کہ ٹریفک جام کر دی جائے۔

سپارک اگر جوانوں میں نہیں ہو گا تو کیا بوڑھوں میں ہوگا، بزرگوں کا کام رہنمائی کرنا اور راستہ دینا ہوتا ہے، مگر جنہیں عقل ہی نہیں وہ صرف ہٹ دھرمی اور ہڈ حرامی سے ہی کام لیتے ہیں جس کا نقصان نہ صرف معاشرے کو ہوتا ہے بلکہ بچوں کا مستقبل بھی تباہ ہوتا ہے۔

آخر کتنی بار ہم یہ غلطی دہرائیں گے، آخر ہم نے کتنے نقصان اُٹھانے ہیں۔پوری دنیا میں ینگ ٹیلنٹ ایوارڈز ہوتے ہیں اور ہم بابے نوازتے جا رہے ہیں۔

جن ملکوں میں ان کی لیڈر شیپ اپنے نوجوانوں کو بہتر ماحول فراہم کرتی ہےوہ نسل بہت جلد پروان چڑھتی ہے نہ صرف خود ترقی کرتی ہے بلکہ پورے ملک کے لیے ترقی اور خوشحالی لاتی ہے۔ یہاں کچھ لوگ اپنے مسائل سے ہی باہر نہیں نکل پا رہے ، ملک اور عوام کا انہوں نے کیا سوچنا ہے۔

کچھ لوگوں کا پاگل پن ہے، اور ان کے پیچھے کچھ اور لوگوں کا پاگل پن ہے، گاڑی کو پٹڑی سے اتار کر سمجھتے ہیں اب یہ تیز تیز دوڑے گی۔ ایک طرف کھائی ہے ،اور دوسری طرف بھی کھائی ہے، پیچھے کوئی راستہ نہیں اور آگے صرف ایک ہی ٹریک ہے، بیک ٹو ٹریک مگر یہ چاہتے ہیں کہ ہم گھائی میں ہی گریں۔

ہم نے کون سے ادارے کو ٹھیک کیا ہے آج تک کہ نوجوان ہم پر اعتماد کریں اور ہمیں اچھے اچھے لفظوں سے نوازیں۔ میں تو حیران ہوں ایک تجزیہ نگار پر جو یہ کہہ رہا تھا کہ کاکڑ صاحب نے بڑی بہادری دیکھائی، رج کر ذلیل ہونے میں کیسی بہادری۔

نوجوانوں کو کوئی روک پایا ہے جو ہم روک پائیں گے۔ سوال تو اُٹھیں گے اور سوالوں کے جواب بھی دینے پڑیں گے۔ ہمیں اپنی روائیتی سوچ سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے، ظلم تو یہ ہے کہ سرِعام اپنی غلطیاں بھی تسلیم کرتے ہیں اور اپنی روش بھی نہیں بدلتے۔

ہٹ دھرمی اور ہڈ حرامی اتنی بری طرح سے سرائیت کر چکی ہے کہ کوئی پیچھے ہٹنے کو تیار ہی نہیں، مسلسل اپنی غلطیوں اور کوہتائیوں کی قیمت ہم تباہی اور بربادی اور ناامیدی کی شکل میں ادا کر رہے ہیں۔ ہٹ دھرمی اور ہڈ حرامی ہی تو ہے کہ لوگوں سے وہ کام لیے جاتے ہیں جس کا ان کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں اور جو ان کے سکوپ آف ورک میں بھی نہیں ہوتا، جنگل کے قوانین پاس کیے جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں